سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب في خَتْمِ الْقُرْآنِ:
ختم قرآن کا بیان
حدیث نمبر: 3508
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، عَنْ صَالِحٍ الْمُرِّيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ"، قِيلَ: وَمَا الْحَالُّ الْمُرْتَحِلُ؟ قَالَ: صَاحِبُ الْقُرْآنِ يَضْرِبُ مِنْ أَوَّلِ الْقُرْآنِ إِلَى آخِرِهِ، وَمِنْ آخِرِهِ إِلَى أَوَّلِهِ، كُلَّمَا حَلَّ، ارْتَحَلَ".
زرارہ بن ابی اوفی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا: ”پڑاو ڈالنا اور کوچ کرنا“، پوچھا گیا: یہ کیا ہے؟ فرمایا: ”قرآن پڑھنے والا شروع سے آخر تک پڑھتا ہے (یہ شروع کرنا حال ہے)، پھر ختم کر کے دوبارہ شروع کرنا (ارتحال) ہے، جب بھی ختم کرے پھر شروع کر دے۔“ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3508]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده فيه علتان: الإرسال وضعف صالح المري، [مكتبه الشامله نمبر: 3519] »
اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں: ارسال اور صالح المری کا ضعیف ہونا، لیکن بہت سے محدثین نے اسے ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2949] ، [عبدالرحمٰن الرازي فى فضائل القرآن 79] ، [طبراني فى الكبير 168/12، 12783] ، [حلية الأولياء لأبي نعيم 260/2] ، [حاكم فى المستدرك 2088] ، [بيهقي فى شعب الإيمان 2069] و [ابن كثير فى فضائل القرآن، ص: 287]
اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں: ارسال اور صالح المری کا ضعیف ہونا، لیکن بہت سے محدثین نے اسے ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2949] ، [عبدالرحمٰن الرازي فى فضائل القرآن 79] ، [طبراني فى الكبير 168/12، 12783] ، [حلية الأولياء لأبي نعيم 260/2] ، [حاكم فى المستدرك 2088] ، [بيهقي فى شعب الإيمان 2069] و [ابن كثير فى فضائل القرآن، ص: 287]
وضاحت: (تشریح احادیث 3502 سے 3508)
گرچہ اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن علمائے کرام نے اس عمل کو مستحب گردانا ہے، جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے التبیان میں ذکر کیا ہے، سماحۃ الشیخ علامہ مفتی عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے تھی، ایک بار تراویح میں ختمِ قرآن کے بعد ناچیز سے کہا تھا: پھر سورۂ بقرہ شروع کر دیتے تو اچھا تھا۔
گرچہ اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن علمائے کرام نے اس عمل کو مستحب گردانا ہے، جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے التبیان میں ذکر کیا ہے، سماحۃ الشیخ علامہ مفتی عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے تھی، ایک بار تراویح میں ختمِ قرآن کے بعد ناچیز سے کہا تھا: پھر سورۂ بقرہ شروع کر دیتے تو اچھا تھا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده فيه علتان: الإرسال وضعف صالح المري
حدیث نمبر: 3509
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "إِذَا قَرَأَ الرَّجُلُ الْقُرْآنَ نَهَارًا، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ قَرَأَهُ لَيْلًا، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُصْبِحَ". قَالَ سُلَيْمَانُ: فَرَأَيْتُ أَصْحَابَنَا يُعْجِبُهُمْ أَنْ يَخْتِمُوهُ أَوَّلَ النَّهَارِ، وَأَوَّلَ اللَّيْلِ.
ابراہیم النخعی رحمہ اللہ نے کہا: جب کوئی آدمی دن کے شروع میں قرآن پڑھ لے تو شام تک اس کے لئے فرشتے دعا کرتے ہیں اور اگر رات میں پڑھا (یعنی ختم کیا) تو صبح تک فرشتے دعا کرتے ہیں۔ (اعمش) سلیمان نے کہا: اسی لئے ہم نے اپنے ہم عصر ساتھیوں کو دیکھا کہ وہ دن کے شروع اور رات کے شروع میں قرآن ختم کرنے کو پسند کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3509]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى إبراهيم النخعي وهو موقوف عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3520] »
اس اثر کی سند ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تک صحیح ہے اور انہیں پر موقوف ہے۔ جریر کا پورا نام ابن عبدالحمید ہے۔ دیکھئے: [فضائل القرآن لأبي عبيد، ص: 109] و [ابن الضريس 50، 51، 52، 80]
اس اثر کی سند ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تک صحیح ہے اور انہیں پر موقوف ہے۔ جریر کا پورا نام ابن عبدالحمید ہے۔ دیکھئے: [فضائل القرآن لأبي عبيد، ص: 109] و [ابن الضريس 50، 51، 52، 80]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى إبراهيم النخعي وهو موقوف عليه
حدیث نمبر: 3510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ فِيهِ قَوْلُ سُلَيْمَانَ.
اس سند سے بھی ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مثل سابق مروی ہے لیکن اس میں سلیمان الاعمش کا قول نہیں ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3510]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح على شرط البخاري، [مكتبه الشامله نمبر: 3521] »
حوالہ وہی ہے جو اوپر ذکر کیا گیا ہے۔
حوالہ وہی ہے جو اوپر ذکر کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح على شرط البخاري
حدیث نمبر: 3511
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مَالِكٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ، كَانَتْ لَهُ دَعْوَةٌ فِي الدُّنْيَا، أَوْ فِي الْآخِرَةِ".
محارب بن دثار رحمہ اللہ نے کہا: جس نے منہ زبانی قرآن پڑھا اس کے لئے دنیا و آخرت میں دعوة ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3511]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق الحارثي وهو موقوف على محارب بن دثار، [مكتبه الشامله نمبر: 3522] »
عبدالرحمٰن بن اسحاق الحارثی کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے اور محارب رحمہ اللہ پر موقوف ہے۔
عبدالرحمٰن بن اسحاق الحارثی کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے اور محارب رحمہ اللہ پر موقوف ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 3508 سے 3511)
دعوت کے معنی پکار اور دعا اور ضیافت و مہمانی کے ہیں۔
دعوت کے معنی پکار اور دعا اور ضیافت و مہمانی کے ہیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق الحارثي وهو موقوف على محارب بن دثار
حدیث نمبر: 3512
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ طَلْحَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَا: "مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ إِلَى اللَّيْلِ"، وَقَالَ الْآخَرُ:"غُفِرَ لَهُ".
طلحہ اور عبدالرحمٰن بن الاسود دونوں نے کہا: جس شخص نے رات یا دن میں قرآن پاک کی قراءت کی تو فرشتے رات تک اس کے لئے دعا کرتے ہیں، دوسرے نے کہا: اس کی مغفرت ہو گئی۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3512]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «هما أثران بإسناد واحد وهو إسناد حسن إلى طلحة بن نافع ومنقطع إلى عبد الرحمن لأن أبا خالد الدالاني ليس له رواية عن عبد الرحمن بن الأسود، [مكتبه الشامله نمبر: 3523] »
یہ دو اثر ایک ہی سند سے مروی ہیں اور سند حسن ہے طلحہ بن نافع تک، اور عبدالرحمٰن کی سند میں انقطاع ہے۔ طلحہ بن نافع کے اثر کے لئے دیکھئے: [فضائل القرآن لابن الضريس 54] ، امام نووی نے [حلية الأبرار، ص: 183] میں طلحہ بن مصرف سے ایسے ہی روایت کیا ہے جس کی سند صحیح ہے، اسی طرح ابونعیم نے حلیة الاولیاء میں اس کو روایت کیا ہے [حلية الأولياء 26/5] ، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
اور دوسری سند عبدالرحمٰن بن الاسود کو [ابن أبى شيبه 490/10، 10088] نے اور بیہقی نے [شعب الإيمان 2075] میں ذکر کیا ہے، لیکن دونوں کی سند ضعیف ہے۔
یہ دو اثر ایک ہی سند سے مروی ہیں اور سند حسن ہے طلحہ بن نافع تک، اور عبدالرحمٰن کی سند میں انقطاع ہے۔ طلحہ بن نافع کے اثر کے لئے دیکھئے: [فضائل القرآن لابن الضريس 54] ، امام نووی نے [حلية الأبرار، ص: 183] میں طلحہ بن مصرف سے ایسے ہی روایت کیا ہے جس کی سند صحیح ہے، اسی طرح ابونعیم نے حلیة الاولیاء میں اس کو روایت کیا ہے [حلية الأولياء 26/5] ، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
اور دوسری سند عبدالرحمٰن بن الاسود کو [ابن أبى شيبه 490/10، 10088] نے اور بیہقی نے [شعب الإيمان 2075] میں ذکر کیا ہے، لیکن دونوں کی سند ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: هما أثران بإسناد واحد وهو إسناد حسن إلى طلحة بن نافع ومنقطع إلى عبد الرحمن لأن أبا خالد الدالاني ليس له رواية عن عبد الرحمن بن الأسود
حدیث نمبر: 3513
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ ثُمَّ دَعَا، أَمَّنَ عَلَى دُعَائِهِ أَرْبَعَةُ آلَافِ مَلَكٍ".
حمید الاعرج رحمہ اللہ نے کہا: جو شخص قرآن پاک پڑھ کر دعا کرے اس کی دعا پر چار ہزار فرشتے آمین کہتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3513]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف قزعة بن سويد وهو موقوف على حميد الأعرج، [مكتبه الشامله نمبر: 3524] »
اس موقوف روایت کی سند میں قزعہ بن سوید ضعیف ہے، اس لئے سند ضعیف ہے۔
اس موقوف روایت کی سند میں قزعہ بن سوید ضعیف ہے، اس لئے سند ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف قزعة بن سويد وهو موقوف على حميد الأعرج
حدیث نمبر: 3514
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ مجاهدٌ، قَالَ: إِنَّمَا دَعَوْنَاكَ أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ نَخْتِمَ الْقُرْآنَ، وَإِنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ الدُّعَاءَ يُسْتَجَابُ عِنْدَ خَتْمِ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَدَعَوْا بِدَعَوَاتٍ".
مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: میرے پاس بلاوا آیا اور کہا کہ ہم آپ کو ختم قرآن میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں، کیوں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ختم قرآن کے وقت دعا قبول ہوتی ہے، اور انہوں نے دعائیں کیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3514]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3525] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ حکم: ابن عتبہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن الضريس فى فضائل القرآن 49، 81] ، [أبوعبيد، ص: 107] ، [ابن أبى شيبه 10089] ، [شعب الإيمان 2072]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ حکم: ابن عتبہ ہیں۔ دیکھئے: [ابن الضريس فى فضائل القرآن 49، 81] ، [أبوعبيد، ص: 107] ، [ابن أبى شيبه 10089] ، [شعب الإيمان 2072]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3515
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا هَارُونُ، عَنْ عَنْبسة، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: "إِذَا وَافَقَ خَتْمُ الْقُرْآنِ أَوَّلَ اللَّيْلِ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُصْبِحَ، وَإِنْ وَافَقَ خَتْمُهُ آخِرَ اللَّيْلِ، صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُمْسِيَ، فَرُبَّمَا بَقِيَ عَلَى أَحَدِنَا الشَّيْءُ، فَيُؤَخِّرَهُ حَتَّى يُمْسِيَ أَوْ يُصْبِحَ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هَذَا حَسَنٌ عَنْ سَعْدٍ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ختم قرآن رات کے شروع حصے میں ہو جائے، تو اس کے صبح کرنے تک فرشتے اس (قاری) کے لئے دعا کرتے ہیں، اور اگر رات کے آخری حصے میں ختم قرآن کا اتفاق ہوا تو اس پر فرشتے شام تک دعا کرتے ہیں، اس لئے ہم میں سے کسی کا ختم قرآن میں سے کچھ باقی رہ جائے تو وہ شام کے لئے یا صبح کے لئے ختم کرنا مؤخر کر دے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یہ روایت سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے حسن ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3515]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 3526] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ امام نووی نے اس کو [حلية الابرار، ص: 183] میں مسند احمد اور مسند داری کی طرف منسوب کیا ہے۔ نیز (3509) پر بھی ایک روایت گذر چکی ہے۔
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ امام نووی نے اس کو [حلية الابرار، ص: 183] میں مسند احمد اور مسند داری کی طرف منسوب کیا ہے۔ نیز (3509) پر بھی ایک روایت گذر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم
حدیث نمبر: 3516
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ابْنِ أَخِي بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: "حَمَلَةُ الْقُرْآنِ عُرَفَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
عطاء بن یسار رحمہ اللہ نے کہا: حاملین قرآن جنت میں نقیب (مانیٹر) ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3516]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن مهاجر. وهو موقوف على عطاء، [مكتبه الشامله نمبر: 3527] »
اس موقوف اثر کی سند میں ابراہیم بن مہاجر ضعیف ہیں۔
اس موقوف اثر کی سند میں ابراہیم بن مہاجر ضعیف ہیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن مهاجر. وهو موقوف على عطاء
حدیث نمبر: 3517
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّهُ كَانَ "يَخْتِمُ الْقُرْآنَ كُلَّ لَيْلَتَيْنِ".
عبدالملک نے خبر دی کہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ ہر دوسری رات میں قرآن پاک ختم کر لیا کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3517]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى سعيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3528] »
سعید بن جبیر رحمہ اللہ تک اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 273/4] ، [فضائل أبى عبيد، ص: 182] ، [فضائل القرآن لابن كثير، ص: 258] ۔ نیز دیکھئے: [ابن أبى شيبه 503/2]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ تک اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 273/4] ، [فضائل أبى عبيد، ص: 182] ، [فضائل القرآن لابن كثير، ص: 258] ۔ نیز دیکھئے: [ابن أبى شيبه 503/2]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى سعيد