🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب مَنْ قَرَأَ بِمِائَتَيْ آيَةٍ:
جو شخص دو سو آیات پڑھے اس کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3488
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمٍ أَخِي أُمِّ الدَّرْدَاءِ فِي اللَّهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ مِائَتَيْ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ".
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی رات میں دو سو آیات پڑھے وہ قانتین (اطاعت گزاروں) میں لکھ دیا گیا۔“ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3488]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «محمد بن القاسم كذبوه وموسى بن عبيدة ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3499] »
یہ روایت سو آیات کے باب میں گذر چکی ہے، اس میں سو اور دو سو کا، اور غافلین و قانتین کا اضطراب بھی ہے اور ضعيف جدا بھی ہے۔ محمد بن القاسم کو کاذب کہا گیا ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: محمد بن القاسم كذبوه وموسى بن عبيدة ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3489
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ عَشْرَ آيَاتٍ، لَمْ يُكْتَبْ مِنْ الْغَافِلِينَ، وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ بِمِائَةِ آيَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ قَرَأَ بِمِائَتَيْ آيَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْفَائِزِينَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو شخص رات میں دس آیات پڑھے وہ غافلین میں نہیں لکھا جائے گا، اور جو سو آیات پڑھے گا وہ قانتین میں لکھا جائے گا، اور جو دو سو آیات پڑھے وہ فائزین میں لکھا جائے گا۔ (یعنی کامیاب و کامران لوگوں میں اس کا شمار ہو گا)۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3489]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 3500] »
اس روایت میں مغیرہ بن عبداللہ الجدلی ہیں جن کا ترجمہ کہیں نہیں ملا، اور ابوغسان: مالک بن اسماعیل ہیں۔ نیز یہ روایت (3481) پرگذر چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: لم يحكم عليه المحقق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. باب مَنْ قَرَأَ مِنْ مِائَةِ آيَةٍ إِلَى الأَلْفِ:
جو شخص سو آیات سے ایک ہزار تک آیات پڑھے اس کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3490
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ عَشْرَ آيَاتٍ، كُتِبَ مِنْ الذَّاكِرِينَ، وَمَنْ قَرَأَ بِمِائَةِ آيَةٍ، كُتِبَ مِنْ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ قَرَأَ بِخَمْسِ مِائَةِ آيَةٍ إِلَى الْأَلْفِ، أَصْبَحَ وَلَهُ قِنْطَارٌ مِنْ الْأَجْرِ، قِيلَ: وَمَا الْقِنْطَارُ؟ قَالَ: مِلْءُ مَسْكِ الثَّوْرِ ذَهَبًا".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے رات میں دس آیات پڑھیں وہ اللہ کا ذکر کرنے والوں میں لکھ لیا گیا، اور جس نے سو آیتیں پڑھیں وہ مطیع و فرماں برداروں میں لکھ دیا گیا، اور جس نے پانچ سو سے لے کر ایک ہزار آیات پڑھیں تو وہ صبح کو ایک قنطار اجر لے کر اٹھے گا، ان سے پوچھا گیا: ایک قطار کی مقدار کتنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: بیل کی کھال میں بھرے ہوئے سونے کے برابر۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3490]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو موقوف على أبي سعيد حماد بن زيد سمع سعيد بن إياس الجريري قبل اختلاطه، [مكتبه الشامله نمبر: 3501] »
اس اثر کی سند صحیح اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے، لیکن ایسی بات رائے سے نہیں کہہ سکتے۔ والله اعلم۔ دیکھئے: [طبراني فى الأوسط 7674] و [البيهقي مختصرًا 233/7] ، [الهيثمي فى مجمع الزوائد 3657]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح وهو موقوف على أبي سعيد حماد بن زيد سمع سعيد بن إياس الجريري قبل اختلاطه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3491
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ آيَةٍ، لَمْ يُحَاجَّهُ الْقُرْآنُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَتَيْ آيَةٍ، كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ، وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ خَمْسَ مِائَةِ آيَةٍ إِلَى الْأَلْفِ، أَصْبَحَ وَلَهُ قِنْطَارٌ فِي الْآخِرَةِ"، قَالُوا: وَمَا الْقِنْطَارُ؟ قَالَ: اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا".
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی رات میں سو آیات پڑھے اس رات کو قرآن کریم اس کے خلاف جھگڑا نہیں کرے گا، اور جس نے رات میں دو سو آیات پڑھیں اس کے لئے رات بھر کی دعا و ذکر لکھا گیا، اور جس نے پانچ سو سے ہزار تک آیات پڑھیں تو آخرت میں اس کے لئے ایک قنطار ہو گا“، لوگوں نے پوچھا: قنطار کیا ہے؟ کہا: ”بارہ ہزار (نیکیاں)۔“ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3491]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لإرساله، [مكتبه الشامله نمبر: 3502] »
اس اثر کی سند مرسل ضعیف ہے۔ [مشكاة 2186] میں اس کو امام دارمی رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا ہے۔ نیز دیکھئے: [تفسير الطبري 200/3]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لإرساله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3492
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثَلَاثَ مِائَةِ آيَةٍ، كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ، وَمَنْ قَرَأَ سَبْعَ مِائَةِ آيَةٍ"، لَا أَدْرِي أَيَّ شَيْءٍ قَالَ فِيهَا أَبُو نُعَيْمٍ بِقَوْلِهِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جس شخص نے رات میں تین سو آیات تلاوت کیں اس کے لئے ایک قنطار (ثواب کا) لکھ دیا گیا، اور جس نے سات سو آیات پڑھیں پتہ نہیں اس کے بارے میں انہوں نے کیا کہا، اس بارے میں ابونعیم نے اپنی طرف سے کہا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3492]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3503] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. باب مَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ:
جو شخص ایک ہزار آیات پڑھے اس کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3493
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنْبَأَنَا حَرِيزٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: "مَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ، كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ مِنْ الْأَجْرِ. وَالْقِيرَاطُ مِنْ ذَلِكَ الْقِنْطَارِ لَا تَفِي بِهِ دُنْيَاكُمْ، يَقُولُ: لَا يَعْدِلُهُ دُنْيَاكُمْ".
حبیب بن عبید نے کہا: میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے: جس نے ایک ہزار آیات پڑھیں اس کے لئے ایک قنطار اجر و ثواب لکھ دیا گیا، اور وہ قیراط تمہاری اس دنیا کے قیراط سے بڑھ کر ہے، یعنی: دنیا کے قیراط سے اس کا کوئی مقابلہ و برابری نہیں ہو سکتی۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3493]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3504] »
اس اثر موقوف کی سند صحیح ہے۔ اسی کے مثل روایات مع تخریج اوپر گذر چکی ہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3494
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَا: "مَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ، كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ، وَالْقِيرَاطُ مِنْ الْقِنْطَارِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَاكْتَنَزَ مِنْ الْأَجْرِ مَا شَاءَ اللَّهُ".
سیدنا تمیم داری اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہما دونوں نے کہا: جس شخص نے ایک رات میں ہزار آیات پڑھیں اس کے لئے ایک قنطار (اجر و ثواب) لکھا گیا اور اس قنطار کا قیراط دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس کے قنطار سے بہتر ہے، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ جتنا چاہے گا وہ شخص اجر حاصل کرے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3494]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3505] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن یہ اثر موقوفاً حسن ہے، جو پیچھے بھی متعدد بار گذر چکا ہے۔ نیز دیکھئے: [الطبراني فى الكبير 50/2-51، 1253] و [الأوسط 8446]
وضاحت: (تشریح احادیث 3486 سے 3494)
قیراط چھوٹا پیمانہ اور قنطار بہت بڑے پیمانے کو کہتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف ولكن الحديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3495
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمٍ أَخِي أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ، إِلَى خَمْسِ مِائَةٍ كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ مِنْ الْأَجْرِ، الْقِيرَاطُ مِنْهُ مِثْلُ التَّلِّ الْعَظِيمِ".
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایک ہزار آیات پڑھیں اس کے لئے قنطار من الاجر لکھ دیا گیا جس کا قیراط بہت بڑے ٹیلے کے برابر ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3495]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «محمد بن القاسم كذبوه وموسى بن عبيدة ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3506] »
اس روایت کی سند میں محمد بن القاسم کو کذاب کہا گیا ہے، اور موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں، اور یہ سند (3488) پر بھی گذر چکی ہے، اور بعض روایات میں سو آیات بعض میں دو سو آیات اور یہاں اس روایت میں ہزار آیات کا ذکر ہے، لہٰذا متن بھی مضطرب ہے، اور آیات کی فضیلت و اجر و ثواب کے سلسلے میں ہمارے لئے احادیث صحیحہ ہی کافی ہیں جن کا ذکر اس کتاب فضائل القرآن کے ابتدائی ابواب میں گذر چکا ہے۔ آیات اور سور کی فضیلت کے سلسلے میں اکثر آثار موقوف اور ضعیف ہیں، اس لئے ان پر عمل کرنے سے پہلے صحیح اور ثابت ہونے کی معلومات کرنا ضروری ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 3494)
جب قیراط چھوٹا پیمانہ بہت بڑے ٹیلے کے برابر ہے تو قنطار بڑے پیمانے کا عالم کیا ہوگا؟

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: محمد بن القاسم كذبوه وموسى بن عبيدة ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. باب كَمْ يَكُونُ الْقِنْطَارُ:
قنطار کی مقدار کتنی ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3496
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا، أَبَانُ الْعَطَّارُ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: "الْقِنْطَارُ: اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: قنطار بارہ ہزار کا ہوتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3496]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن إلى أبي هريرة، [مكتبه الشامله نمبر: 3507] »
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک اس روایت کی سند حسن ہے، اور مسند احمد میں مرفوعاً روایت ہے۔ دیکھئے: [أحمد 363/2] ، اور اس میں ہے کہ قنطار بارہ ہزار اوقیہ کا ہوتا ہے، اور ہر اوقیہ زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن إلى أبي هريرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3497
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: "الْقِنْطَارُ: مِلْءُ مَسْكِ ثَوْرٍ ذَهَبًا".
ابونضرہ العبدی نے کہا: قنطار بیل کی سونے سے بھری ہوئی کھال کے برابر ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3497]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى أبي نضرة: المنذر بن مالك بن قطعة، [مكتبه الشامله نمبر: 3508] »
ابونضرہ و منذر بن مالک تک اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابوالاشہب کا نام جعفر بن حیان ہے۔ یہ اثر رقم (3490) پر گذر چکا ہے۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح إلى أبي نضرة: المنذر بن مالك بن قطعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں