مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. (بَابٌ)
--
حدیث نمبر: Q198-2
Moved
(علم کی فضیلت کے بیان میں یہ کتاب ہے، انسان کی بزرگی دیگر مخلوق پر علم و عقل کی وجہ سے ہے۔ سب سے پہلے انسان کو علم ہی عطا کیا گیا۔ «وَعَلَّمَ آدَمَ» ”حضرت آدم علیہ السلام کو علم دیا گیا۔“ اسی کی بدولت فرشتوں سے بھی مرتبہ میں بڑھ گئے۔ قرآن مجید میں پہلی وحی علم ہی کے بارے میں نازل ہوئی کہ: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ [سورة العلق: 1] ﴿خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾ [سورة العلق: 2] ﴿اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ﴾ [سورة العلق: 3] ﴿الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ﴾ [سورة العلق: 4] ﴿عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾ [سورة العلق: 5] ”اپنے رب کا نام لے کر پڑھیے جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ آپ پڑھیے، آپ کا رب بہت عزت والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا، جس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔“ اور فرمایا: ﴿قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [سورة الزمر: 9] ”کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں؟“ یعنی دونوں برابر نہیں ہو سکتے، علم والوں کے بڑے درجے ہیں۔ اس جگہ علم سے علمِ شرعی مراد ہے، یعنی قرآن مجید اور حدیثِ شریف اور جو ان دونوں کے موافق ہوں، ذیل میں وہ حدیثیں ہیں جن سے علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔) [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: Q198-2]
الف . (الْفَصْلُ الأَوَّلُ)
الفصل الاول
حدیث نمبر: Q198
Moved
1.01. (أَهَمِّيَّةُ دَعْوَةِ الدِّينِ)
دعوت دین کی اہمیت
حدیث نمبر: 198
[ 2 ] - كِتَابُ الْعِلْمِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 198 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری طرف سے پہنچا دو خواہ ایک آیت ہی ہو، اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان کرو اس میں کوئی حرج نہیں، اور جو شخص عمداً مجھ پر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔“ اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 198]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3461)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
1.02. (مَنْ يَرْوِي رِوَايَةً كَاذِبَةً)
جھوٹی روایت بیان کرنے والا
حدیث نمبر: 199
199 - وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ حَدَّثَ بِحَدِيثٍ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
سمرہ بن جندب اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مجھ سے حدیث بیان کرے اور وہ جانتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ بھی جھوٹوں (حدیث وضع کرنے والوں) میں سے ایک ہے۔“ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 199]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (1)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
1.03. (فِقْهُ الدِّينِ)
دین کی فقاہت
حدیث نمبر: 200
200 - وَعَنْ مُعَاوِيَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهِ يُعْطِي". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کے متعلق سمجھ بوجھ عطا فرما دیتا ہے، میں تو صرف (علم) تقسیم کرنے والا ہوں جبکہ (فہم) اللہ عطا کرتا ہے۔“ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 200]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (71) و مسلم (98/ 1037)»
قال الشيخ الألباني: متفق عليه
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
1.04. (أَصْحَابُ الفِطْرَةِ السَّلِيمَةِ)
سلیم الفطرت لوگ
حدیث نمبر: 201
201 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”انسان بھی سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح کانیں ہیں، ان میں سے جو دورِ جاہلیت میں اچھے تھے، وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں بشرطیکہ وہ (دین میں) سمجھ بوجھ پیدا کریں۔“ اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 201]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (199 / 2526) (والبخاري: 3493، 3496 مختصرًا .)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم (199 / 2526) (والبخاري: 3493)
1.05. (الصُّورَةُ الجَائِزَةُ لِلْغَيْرَةِ)
رشک کی جائز صورت
حدیث نمبر: 202
202 - وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”دو قسم کے لوگوں پر رشک کرنا جائز ہے، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال عطا کیا، اور پھر اس کو راہِ حق میں اسے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائی، اور ایک وہ آدمی جسے اللہ نے حکمت عطا کی اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اسے (دوسروں کو) سکھاتا ہے۔“ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (73) و مسلم (268 / 816)»
قال الشيخ الألباني: متفق عليه
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
1.06. (سِلْسِلَةُ الثَّوَابِ بَعْدَ المَوْتِ)
مرنے کے بعد ثواب کا سلسلہ
حدیث نمبر: 203
203 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو تین کاموں، صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے استفادہ کیا جائے اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے، کے سوا اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔“ اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 203]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (14/ 1631)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
1.07. (بِشَارَةٌ لِلْمُسْلِمِ)
مسلمان کے لیے خوشخبری
حدیث نمبر: 204
204 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ. وَمِنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ. وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ. وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ. وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ. وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی مومن سے دنیا کی کوئی تکلیف دور کی، تو اللہ اس سے قیامت کے دن کی کوئی تکلیف دور فرما دے گا، جس شخص نے کسی تنگ دست پر آسانی کی تو اللہ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا، جس نے کسی مسلمان کی عیب پوشی کی تو اللہ اس کی دنیا و آخرت میں عیب پوشی فرمائے گا، اللہ بندے کی مدد فرماتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے، اور جس شخص نے طلبِ علم کے لیے کوئی سفر کیا تو اللہ اس وجہ سے اس کے لیے راہِ جنت آسان فرما دیتا ہے، اور جب کچھ لوگ اللہ کے کسی گھر میں اکٹھے ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور آپس میں پڑھتے پڑھاتے ہیں تو ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ اپنے پاس فرشتوں میں ان کا تذکرہ فرماتا ہے، اور جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا تو اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکے گا۔“ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 204]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (38/ 2699)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
1.08. (مَهَالِكُ الرِّيَاءِ)
ریاکاری کی ہلاکتیں
حدیث نمبر: 205
205 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنْ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعْمَتَهُ فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِأَنْ يُقَالَ: جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ، وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا. قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا، قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ، وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ. قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِيُقَالَ: إِنَّكَ عَالِمٌ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ: هُوَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ. وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ. قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ لِيُقَالَ: هُوَ جَوَادٌ ; فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”روزِ قیامت سب سے پہلے اس شخص کا فیصلہ سنایا جائے گا جسے شہید کیا گیا، اسے پیش کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد کرائے گا اور وہ ان کا اعتراف کرے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے ان کے بدلے میں (شکر کے طور پر) کیا عمل کیا؟ وہ عرض کرے گا: میں نے تیری خاطر جہاد کیا حتیٰ کہ مجھے شہید کر دیا گیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا، بلکہ تو نے تو اس لیے جہاد کیا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے، پس وہ کہہ دیا گیا۔ پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دوسرا وہ شخص جس نے علم حاصل کیا اور اسے دوسروں کو سکھایا اور قرآن کریم کی تلاوت کی، اسے بھی پیش کیا جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد کرائے گا اور وہ ان کا اعتراف کرے گا، اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تو نے ان کے بدلے میں کیا عمل کیا؟ وہ عرض کرے گا: میں نے علم سیکھا اور اسے دوسروں کو سکھایا اور میں تیری رضا کی خاطر قرآن کی تلاوت کرتا رہا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا، بلکہ تو نے علم اس لیے حاصل کیا تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لیے پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے، تو وہ کہہ دیا گیا، پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا، اور تیسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال و زر کی جملہ اقسام سے خوب نوازا ہوگا، اسے پیش کیا جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد کرائے گا اور وہ انہیں پہچان لے گا، تو اللہ تعالیٰ پوچھے گا: تو نے ان کے بدلے میں کیا عمل کیا؟ وہ عرض کرے گا: میں نے ان تمام مواقع پر جہاں خرچ کرنا تجھے پسند تھا، خرچ کیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا، بلکہ تو نے تو اس لیے خرچ کیا کہ تجھے سخی کہا جائے، پس وہ کہہ دیا گیا، پھر اس کے متعلق حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔“ اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 205]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (152/ 1905)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح