مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (يُقَالُ فِي أَذَانِ الفَجْرِ: «الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» )
اذان اور اقامت کے کلمات
حدیث نمبر: 644
644 - وَعَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اذان کے انیس کلمات اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے۔ صحیح، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 644]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (405/3 ح 15456) والترمذي (192 وقال: حسن صحيح .) و أبو داود (502) والنسائي (4/2 ح 631) والدارمي (1/ 271 ح 1200) و ابن ماجه (709) [و أصله عند مسلم، انظر الحديث السابق: 642] »
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (حُكْمُ التَّثْوِيبِ)
فجر کی اذان میں «الصلوٰة خير من النوم» کہا جائے
حدیث نمبر: 645
645 - وَعَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلِّمْنِي سُنَّةَ الْأَذَانِ، قَالَ: فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ. قَالَ: (تَقُولَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، تَرْفَعُ بِهَا صَوْتَكَ. ثُمَّ تَقُولَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، تَخْفِضُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَكَ بِالشَّهَادَةِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ. فَإِنْ كَانَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ، قُلْتَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ. اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابومحذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے اذان کا طریقہ سکھا دیں، راوی بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیر کر فرمایا: ”کہو: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اپنی آواز بلند کرو، پھر کہو: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، یہ کلمات کہتے ہوئے آواز پست رکھو، پھر یہ کہتے ہوئے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اپنی آواز بلند کرو، نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، اگر نماز فجر ہو تو کہو: نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ “ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 645]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (500)
٭ فيه الحارث بن عبيد الإيادي ضعيف و حديث النسائي (634) الذي صححه ابن خزيمة (385) يغني عنه .»
٭ فيه الحارث بن عبيد الإيادي ضعيف و حديث النسائي (634) الذي صححه ابن خزيمة (385) يغني عنه .»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (تَجَنَّبِ الخَطَأَ فِي الأَذَانِ)
تثویب کا حکم
حدیث نمبر: 646
646 - وَعَنْ بِلَالٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تُثَوِّبَنَّ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ إِلَّا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: أَبُو إِسْرَائِيلَ الرَّاوِي لَيْسَ هُوَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”نماز فجر (کی اذان) کے علاوہ کسی نماز (کی اذان) میں ((الصلوٰۃ خیر من النوم)) نہ کہنا۔ “ ترمذی، ابن ماجہ، امام ترمذی نے فرمایا: ابواسرائیل راوی محدثین کے نزدیک قوی نہیں۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 646]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (198) و ابن ماجه (715)
٭ فيه أبو إسرائيل الملائي: ضعيف، و علة أخري .»
٭ فيه أبو إسرائيل الملائي: ضعيف، و علة أخري .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (مَنْ أَذَّنَ فَلْيُقِمْ)
اذان میں غلطی سے بچو
حدیث نمبر: 647
647 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِبِلَالٍ: (إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ، وَاجْعَلْ مَا بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ قَدْرَ مَا يَفْرُغُ الْآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ، وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِهِ، وَالْمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ، وَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمُنْعِمِ، وَهُوَ إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جب تم اذان کہو تو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان کے ساتھ کہو، اور جب اقامت کہو تو جلدی جلدی کہو، اور اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ رکھو کہ کھانا کھانے والا شخص اپنے کھانے سے، پینے والا شخص اپنے مشروب سے جبکہ قضائے حاجت کے لیے جانے والا شخص اپنی حاجت سے فارغ ہو جائے، اور جب تک مجھے دیکھ نہ لو نماز کے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔ “ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: ہم اسے صرف عبدالمنعم کی حدیث سے پہچانتے ہیں، اور اس کی اسناد مجہول ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 647]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه الترمذي (195، 196)
٭ عبد المنعم: منکر الحديث وله طريق آخر ضعيف جدًا عند الحاکم (1/ 204)»
٭ عبد المنعم: منکر الحديث وله طريق آخر ضعيف جدًا عند الحاکم (1/ 204)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
--. (الفَصْلُ الثَّالِثُ)
جو اذان کہے وہی اقامت کہے
حدیث نمبر: 648
648 - وَعَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (أَنْ أَذِّنْ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ) فَأَذَّنْتُ. فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ) . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
زیاد بن حارث صُدائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اذان دینے کا حکم فرمایا تو میں نے اذان دی، تو بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”صُداء قبیلے کے شخص نے اذان دی ہے، اور جو اذان دے وہی اقامت کہے۔ “ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 648]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (199 وقال: إنما نعرفه من حديث الإفريقي وھو ضعيف عند أھل الحديث .) وأبوداود (514) و ابن ماجه (717)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (رُؤْيَا عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ)
شروع میں الصلوٰۃ جامعۃ کے ساتھ اعلان ہوتا ہے
حدیث نمبر: 649
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 649 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ لِلصَّلَاةِ، وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمُ: اتَّخِذُوا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ. فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (يَا بِلَالُ! قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب مسلمان مدینہ تشریف لائے تو وہ اکٹھے جاتے اور نماز کے وقت کا اندازہ لگاتے جبکہ نماز کے لیے کوئی منادی نہیں کرتا تھا، ایک روز انہوں نے اس بارے میں بات چیت کی، تو ان میں سے کسی نے کہا: نصاریٰ جیسا ناقوس بنا لو اور کسی نے کہا کہ یہود کے سینگ جیسا کوئی سینگ بنا لو، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم کسی آدمی کو کیوں نہیں بھیج دیتے کہ وہ نماز کے لیے منادی کرے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! اٹھو اور نماز کے لیے آواز دو۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 649]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (604) و مسلم (1/ 377)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (إِيقَاظُ النَّائِمِينَ لِلصَّلَاةِ)
حضرت عبدللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا خواب
حدیث نمبر: 650
650 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ ابْنِ عَبْدِ رَبِّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ ; لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ، طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ قُلْتُ: نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ. قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ لَهُ: بَلَى. قَالَ: فَقَالَ: تَقُولَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، إِلَى آخِرِهِ، وَكَذَا الْإِقَامَةُ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ. فَقَالَ: (إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٍّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ، فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ، فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ) . فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ، فَجَعَلْتُ أُسَمِّعُهُ عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ. قَالَ فَسَمِعَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا أَرَى. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (فَلِلَّهِ الْحَمْدُ) . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالدَّارِمِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ ; إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْإِقَامَةَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، لَكِنَّهُ لَمْ يُصَرِّحْ قِصَّةَ النَّاقُوسِ.
عبداللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نماز کے لیے جمع کرنے کے لیے ناقوس بجانے کا حکم فرمایا تو میں نے خواب میں ایک شخص کو ہاتھ میں ناقوس اٹھائے ہوئے دیکھا، میں نے کہا: اللہ کے بندے! کیا تم ناقوس بیچتے ہو؟ اس نے کہا تم اسے کیا کرو گے؟ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعے نماز کے لیے بلائیں گے، اس نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتاؤ، راوی بیان کرتے ہیں، اس نے کہا: تم اللہ اکبر سے آخر اذان تک کہو، اور اسی طرح اقامت، پس جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں اپنا خواب سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان شاءاللہ یہ سچا خواب ہے، آپ بلال کے ساتھ کھڑے ہوں اور آپ نے جو دیکھا ہے وہ بلال کو سکھا دو، وہ ان کلمات کے ساتھ اذان دے، کیونکہ اس کی آواز آپ سے زیادہ بلند ہے۔ “ چنانچہ میں بلال کے ساتھ کھڑا ہو کر انہیں اذان کے کلمات سکھاتا رہا اور وہ ان کے ساتھ اذان دیتے رہے، راوی بیان کرتے ہیں، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر میں اذان کی آواز سنی تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے تشریف لائے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، جو کچھ انہیں دکھایا گیا ہے بالکل وہی کچھ میں نے دیکھا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے۔ “ حسن۔ ابوداؤد، دارمی، ابن ماجہ، البتہ انہوں نے اقامت کا ذکر نہیں کیا، اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے، لیکن انہوں نے واقعہ ناقوس کی صراحت نہیں کی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 650]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (499) والدارمي (268/1. 269 ح 1190. 1191) و ابن ماجه (706) والترمذي (189) [و صححه ابن خزيمة (371) و ابن حبان (287) ] »
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (يُقَالُ «الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» فِي أَذَانِ الصُّبْحِ)
سوئے ہوئے لوگوں کو نماز کے لئے جگانا
حدیث نمبر: 651
651 - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَكَانَ لَا يَمُرُّ بِرَجُلٍ إِلَّا نَادَاهُ بِالصَّلَاةِ، أَوْ حَرَّكَهُ بِرِجْلِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نماز فجر کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا تو آپ جس آدمی کے پاس سے گزرتے تو اسے نماز کے لیے آواز دیتے یا اپنے پاؤں کے ساتھ اسے ہلا دیتے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 651]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (1264)
٭ أبو الفضل الأنصاري: مجھول، جھله أبو الحسن ابن القطان الفاسي وغيره .»
٭ أبو الفضل الأنصاري: مجھول، جھله أبو الحسن ابن القطان الفاسي وغيره .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (سُنَّةُ وَضْعِ الأَصَابِعِ فِي الأُذُنَيْنِ عِنْدَ الأَذَانِ)
«اَلصّلوٰةُ خَير مِن النّوم» صبح کی اذان میں کہا جائے
حدیث نمبر: 652
652 - وَعَنْ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بَلَغَهُ أَنَّ الْمُؤَذِّنَ جَاءَ عُمَرَ يُؤْذِنُهُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَوَجَدَهُ نَائِمًا. فَقَالَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يَجْعَلَهَا فِي نِدَاءِ الصُّبْحِ رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأِ.
مالک ؒ سے روایت ہے کہ انہیں پتہ چلا کہ مؤذن عمر رضی اللہ عنہ کو نماز فجر کی اطلاع ��رنے آیا تو اس نے انہیں سویا ہوا دیکھ کر کہا: ”نماز نیند سے بہتر ہے۔ “ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے حکم فرمایا کہ ان کلمات کو صبح کی اذان میں شامل کر لو۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 652]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه مالک في الموطأ (72/1 ح 151)
٭ ھذا من البلاغات و له شاھد ضعيف عند ابن أبي شيبة في المصنف (1/ 208 ح 2159) فيه رجل يقال له إسماعيل، قال ابن عبدالبر: لا أعرفه .»
٭ ھذا من البلاغات و له شاھد ضعيف عند ابن أبي شيبة في المصنف (1/ 208 ح 2159) فيه رجل يقال له إسماعيل، قال ابن عبدالبر: لا أعرفه .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (فَضِيلَةُ الأَذَانِ وَالإِجَابَةِ لَهُ)
اذان دیتے وقت کانوں میں انگلیاں داخل کرنا مسنون ہے
حدیث نمبر: 653
653 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَجْعَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ قَالَ: (إِنَّهُ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ) رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
عبدالرحمٰن بن سعد بن عمار بن سعد ؒ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے اپنے والد سے اور اس نے سعد بن عمار کے دادا سعد بن عائذ جو کہ مؤذن رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے کے حوالے سے حدیث بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو کانوں میں انگلیاں داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: ”اس سے تمہاری آواز زیادہ بلند ہو جائے گی۔ “ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الصلاة/حدیث: 653]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (710)
٭ قال البوصيري: ’’ھذا إسناده ضعيف لضعف أولاد سعد القرظ: عمار و سعد و عبد الرحمٰن .‘‘ و بلال کان يؤذن و ’’اصبعاه في أذنيه‘‘ رواه الترمذي (197) وھو حديث صحيح .»
٭ قال البوصيري: ’’ھذا إسناده ضعيف لضعف أولاد سعد القرظ: عمار و سعد و عبد الرحمٰن .‘‘ و بلال کان يؤذن و ’’اصبعاه في أذنيه‘‘ رواه الترمذي (197) وھو حديث صحيح .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف