مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (بَيَانُ غُسْلِ الشَّهِيدِ)
شہید کو غسل دینے کا بیان
حدیث نمبر: 1643
1643 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُنْزَعَ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ ، وَأَنْ يُدْفَنُوا بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں فرمایا: ”ان کے چمڑے کی پوستینیں (اونی چادریں وغیرہ) اور ہتھیار اتار لو اور ان کو خون سمیت ان کے کپڑوں میں دفن کر دو۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1643]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3134) و ابن ماجه (1515)
٭ عطاء بن السائب: اختلط و علي بن عاصم ضعيف.»
٭ عطاء بن السائب: اختلط و علي بن عاصم ضعيف.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (كَفَنُ مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ وَحَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا)
مصعب بن عمیر اور حمزہ رضی اللہ عنہما کے کفن
حدیث نمبر: 1644
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1644 - عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِمًا، فَقَالَ: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي، كُفِّنَ فِي بُرْدَةٍ، إِنْ غُطِّيَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَإِنْ غُطِّيَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ، وَأَرَاهُ قَالَ: وَقُتِلَ حَمْزَةُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي، ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ، أَوْ قَالَ: أُعْطِينَا مِنَ الدُّنْيَا مَا أُعْطِينَا، وَلَقَدْ خَشِينَا أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا ، ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
سعد بن ابراہیم رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ روزے سے تھے کہ (افطار کے لیے) ان کے پاس کھانا لایا گیا تو انہوں نے فرمایا: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے جبکہ وہ مجھ سے بہتر تھے، انہیں ایک چادر میں کفن دیا گیا، اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر ان کے پاؤں ڈھانپے جاتے تو ان کا سر ننگا ہو جاتا۔ راوی کہتے ہیں، میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا: حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے جبکہ وہ مجھ سے بہتر تھے، پھر ہم پر دنیا کی نعمتیں وافر کر دی گئیں، یا فرمایا: ہمیں بہت زیادہ دنیا کا مال و متاع عطا کر دیا گیا کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ ہمیں دنیا ہی میں دے دیا گیا ہے، پھر انہوں نے رونا شروع کر دیا حتیٰ کہ کھانا بھی ترک کر دیا۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1644]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4045)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (دَفْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي)
عبداللہ بن ابی کی تدفین
حدیث نمبر: 1645
1645 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَمَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ، فَأَمَرَ بِهِ، فَأُخْرِجَ ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَنَفَثَ فِيهِ مِنْ رِيقِهِ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ، قَالَ: وَكَانَ كَسَا عَبَّاسًا قَمِيصًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبداللہ بن ابی کے پاس آئے جبکہ اسے قبر میں اتار دیا گیا تھا، آپ کے حکم پر اسے باہر نکالا گیا، آپ نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا، اور اس کے جسم پر اپنا لعابِ مبارک تھوکا اور اسے اپنی قمیض پہنائی، راوی بیان کرتے ہیں، اور اس (عبداللہ بن ابی) نے عباس رضی اللہ عنہ کو قمیض پہنائی تھی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1645]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5795) و مسلم (2773)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الإِسْرَاعُ فِي الجِنَازَةِ)
جنازے میں جلدی کرنا
حدیث نمبر: 1646
(5) الْمَشْيُ بِالْجَنَازَةِ، وَالصَّلَاةُ عَلَيْهَا الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 1646 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ، فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ تَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جنازہ جلدی لے جایا کرو، اگر تو وہ صالح ہے تو پھر تم اسے بھلائی کی طرف لے جا رہے ہو، اور اگر وہ اس کے علاوہ ہے تو پھر وہ ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1646]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1315) ومسلم (944/50)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (نِداءُ الْمَيِّتِ الصَّالِحِ وَالْفَاسِدِ)
نیک اور بری میت کی پکار
حدیث نمبر: 1647
1647 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ لِأَهْلِهَا: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا؟ يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ، وَلَوْ سَمِعَ الْإِنْسَانُ لَصُعِقَ"رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنازے کو رکھا جاتا ہے اور لوگ اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے: مجھے آگے پہنچاؤ اور اگر وہ صالح نہ ہو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہتا ہے: تباہی ہو، تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو۔ انسان کے علاوہ ہر چیز اس کی آواز سنتی ہے، اور اگر انسان سن لے تو وہ بے ہوش ہو جائے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1647]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1316)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الْوَقُوفُ احْتِرَامًا عِنْدَ رُؤْيَةِ الجِنَازَةِ)
جنازہ دیکھ کر احترما کھڑے ہونا
حدیث نمبر: 1648
1648 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، اور جو شخص اس کے ساتھ جائے تو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے حتیٰ کہ اسے رکھ دیا جائے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1648]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1310) و مسلم (959/77)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الْوَقُوفُ عَلَى جِنَازَةِ الْكُفَّارِ)
غیر مسلم کے جنازہ پر کھڑا ہونا
حدیث نمبر: 1649
1649 - وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّتْ جَنَازَةٌ، فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا يَهُودِيَّةٌ. فَقَالَ:"إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، پھر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو ایک یہودی عورت کا جنازہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”موت گھبراہٹ والی چیز ہے، جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1649]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1311) و مسلم (960/78)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (يَجِبُ الْوَقُوفُ عِنْدَ رُؤْيَةِ الجِنَازَةِ)
جنازہ دیکھے تو کھڑا ہو جانا چاہئے
حدیث نمبر: 1650
[ ص: 1194 ] 1650 - وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقُمْنَا، وَقَعَدَ فَقَعَدْنَا، يَعْنِي فِي الْجَنَازَةِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ، وَأَبِي دَاوُدَ: قَامَ فِي الْجَنَازَةِ ثُمَّ قَعَدَ بَعْدُ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوتے دیکھا تو ہم بھی کھڑے ہو گئے اور ہم نے آپ کو بیٹھتے دیکھا تو ہم بھی بیٹھ گئے۔ اور امام مالک اور ابوداؤد کی روایت میں ہے: آپ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو گئے پھر اس کے بعد آپ بیٹھ گئے۔ رواہ مسلم و مالک و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1650]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (962/84) و مالک (232/1ح 552) و أبو داود (3175)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (أَجْرُ الْمُشَارِكِ فِي التَّدْفِينِ)
تدفین میں شرکت کا ثواب
حدیث نمبر: 1651
1651 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، وَكَانَ مَعَهُ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا ، وَيُفْرَغَ مِنْ دَفْنِهَا، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ مِنَ الْأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایمان و ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے میں شریک ہوتا ہے، اس کے ساتھ رہتا ہے حتیٰ کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے اور اس کے دفنانے سے فارغ ہو جاتا ہے تو وہ دو قیراط اجر کے ساتھ واپس آتا ہے، ہر قیراط احد پہاڑ کی مثل ہے، اور جو شخص نماز جنازہ پڑھتا ہے اور اس کے دفن ہونے سے پہلے واپس آ جاتا ہے تو وہ ایک قیراط اجر کے ساتھ واپس آتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1651]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1325) و مسلم (945/52)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (جِنَازَةُ الشَّاهِ النَّجَاشِي)
شاہ نجاشی کا جنازہ
حدیث نمبر: 1652
1652 - وَعَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، خَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجاشی کے فوت ہونے کی، جس روز وہ فوت ہوئے، خبر سنائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر عید گاہ تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1652]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1318) و مسلم (951/62)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه