مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (حُكْمُ قُبْلَةِ الْمَيِّتِ)
میت کو بوسہ دینا جائز ہے
حدیث نمبر: 1623
1623 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبَّلَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ وَهُوَ يَبْكِي حَتَّى سَالَ دُمُوعُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى وَجْهِ عُثْمَانَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روتے ہوئے ان کا بوسہ لیا حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے پر گر پڑے۔ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1623]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه الترمذي (989 و قال: حسن صحيح.) و أبو داود (3163) و ابن ماجه (1456)
٭ عاصم بن عبيد الله ضعيف.»
٭ عاصم بن عبيد الله ضعيف.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
--. (قُبْلَةُ سَيِّدِنَا أَبُوبَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَعْدَ وِفَاتِهِ)
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بوسہ دینا
حدیث نمبر: 1624
1624 - وَعَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مَيِّتٌ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کا بوسہ لیا۔ صحیح، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1624]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (لم أجده مسندًا بل ذکره: 989 معلقًا و رواه في الشمائل: 391 و سنده صحيح) و ابن ماجه (1456) [والبخاري في صحيحه: 5709. 5711] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الْعَجَلَةُ فِي الدَّفْنِ)
تدفین میں جلدی کرنا
حدیث نمبر: 1625
1625 - وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ: أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ فَقَالَ: إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا قَدْ حَدَثَ بِهِ الْمَوْتُ فَآذِنُونِي بِهِ وَعَجِّلُوا، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِجِيفَةِ مُسْلِمٍ أَنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
حصین بن وحوح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ طلحہ فوت ہونے والا ہے، پس اس کی مجھے اطلاع کرنا اور (دفن کرنے میں) جلدی کرنا، کیونکہ مسلمان میت کو اس کے اہل خانہ کے پاس روک رکھنا مناسب نہیں۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1625]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3159)
٭ ابن سعيد الأنصاري و أبوه: لم أجد من و ثقھما و سعيد بن عثمان: وثقه ابن حبان وحده من أئمة الرجال.»
٭ ابن سعيد الأنصاري و أبوه: لم أجد من و ثقھما و سعيد بن عثمان: وثقه ابن حبان وحده من أئمة الرجال.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (تَلْقِينُ الْكَلِمَاتِ لِلْمَقْبُورِ قَرِيبِ الْمَوْتِ)
قریب الموت کے لئے کلمات کی تلقین
حدیث نمبر: 1626
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 1626 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ لِلْأَحْيَاءِ قَالَ: أَجْوَدُ وَأَجْوَدُ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے قریب المرگ افراد کو ان کلمات کی تلقین کرو: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”اللہ حلیم و کریم کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اللہ عرشِ عظیم کا رب پاک ہے، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔““ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! (یہ کلمات) زندوں کے متعلق کیسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بہت خوب! بہت خوب۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (1446)
٭ إسحاق بن عبد الله بن جعفر: مستور، لم أجد من وثقه.»
٭ إسحاق بن عبد الله بن جعفر: مستور، لم أجد من وثقه.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (سَفَرُ الْآخِرَةِ لِلصَّالِحِ وَعَاقِبَةُ السَّيِّئِ)
نیک آدمی کا سفر آخرت اور برے آدمی کا انجام
حدیث نمبر: 1627
1627 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"الْمَيِّتُ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَالِحًا قَالُوا: اخْرُجِي حَمِيدَةً أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، اخْرُجِي وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا: ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ثُمَّ يُعْرَجُ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَيُفْتَحَ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانٌ. فَيُقَالُ: مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ، ادْخُلِي حَمِيدَةً، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَلَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوءُ قَالَ: اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، اخْرُجِي ذَمِيمَةً، وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ، وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٌ، فَمَا تَزَالُ يُقَالُ لَهَا ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ، ثُمَّ يُعْرَجُ إِلَى السَّمَاءِ فَيُفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَيُقَالُ: فُلَانٌ. فَيُقَالُ: لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ، ارْجِعِي ذَمِيمَةً فَإِنَّهَا لَا تُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ; فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قریب المرگ کے پاس فرشتے آتے ہیں، اگر تو وہ صالح شخص ہو تو وہ کہتے ہیں: اے پاکیزہ جسم میں بسنے والی پاکیزہ روح! تو نکل، تو قابلِ تعریف ہو کر نکل، راحت و رزق کے ساتھ خوش ہو جا، رب تجھ پر ناراض نہیں، اسے اسی طرح مسلسل کہا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ نکل آتی ہے، پھر اسے آسمانوں کی طرف لے جایا جاتا ہے تو اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر یہ پوچھا جاتا ہے: یہ کون ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں: فلاں ہے، تو اسے کہا جاتا ہے: پاکیزہ جسم میں بسنے والی پاکیزہ جان! خوش آمدید، قابلِ تعریف (روح) داخل ہو جا، راحت و رزق کے ساتھ خوش ہو جا، رب تجھ پر ناراض نہیں، اسے مسلسل ایسے ہی کہا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ اس آسمان تک پہنچ جاتی ہے جہاں اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اگر وہ برا شخص ہو تو وہ (ملک الموت) کہتا ہے: اے جسدِ خبیث میں بسنے والی خبیث روح! تو نکل، تو مذموم صورت میں نکل، کھولتے ہوئے پانی اور پیپ کے ساتھ خوش ہو جا، اور اسی طرح کے ملتے جلتے دوسرے عذابوں کے ساتھ (بھی)، اسے ایسے ہی کہا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ نکل آتی ہے، پھر اسے آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے تو اس کے لیے دروازے کھولنے کا مطالبہ ہوتا ہے، اور پوچھا جاتا ہے: یہ کون ہے؟ تو بتایا جاتا ہے: فلاں ہے، اسے کہا جاتا ہے: جسدِ خبیث میں بسنے والی خبیث روح کے لیے کوئی خوش آمدید نہیں، مذموم صورت میں واپس چلی جا، تیرے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، اسے آسمان سے چھوڑ دیا جاتا ہے، پھر وہ قبر کی طرف لوٹ آتی ہے۔“ صحیح، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1627]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه ابن ماجه (4262) [و أحمد (344/2. 335) و النسائي في الکبري (443/6. 44 ح 11442) و صححه البوصيري] »
قال الشيخ الألباني: حَسَنٍ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (وَصْفُ رِيحِ الْكُفْرِ عِنْدَ خُرُوجِ الرُّوحِ)
کافر کی روح نکلنے پر بدبو کا بیان
حدیث نمبر: 1628
1628 - وَعَنْهُ:"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَكَانِ يُصْعِدَانِهَا . قَالَ حَمَّادٌ: فَذَكَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَكَرَ الْمِسْكَ. قَالَ: وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ، وَعَلَى جَسَدٍ كُنْتِ تُعَمِّرِينَهُ ; فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ ثُمَّ يَقُولُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ. قَالَ: وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ قَالَ حَمَّادٌ: وَذَكَرَ مِنْ نَتْنِهَا، وَذَكَرَ لَعْنًا، وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَاءِ: رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ، فَيُقَالُ: انْطَلِقُوا بِهِ إِلَى آخِرِ الْأَجَلِ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَرَدَّ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَيْطَةً كَانَتْ عَلَى أَنْفِهِ هَكَذَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب مومن کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں۔“ حماد (راوی) نے بیان کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی اچھی خوشبو کا ذکر کیا اور کستوری کا ذکر کیا، فرمایا: ”آسمان والے کہتے ہیں، زمین کی طرف سے ایک پاکیزہ روح آئی ہے، اللہ تجھ پر اور اس جسد پر رحمتیں نازل فرمائے جس میں تو آباد تھی، اسے اس کے رب کی طرف لے جایا جاتا ہے، پھر وہ فرماتا ہے: اسے آخری اجل (قیامت) تک (اس کے مقام پر) لے چلو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب کافر شخص کی روح نکلتی ہے۔“ حماد (راوی) بیان کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بدبو اور لعنت کا ذکر کیا ”تو آسمان والے کہتے ہیں زمین کی طرف سے ایک خبیث روح آئی ہے، تو اس کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ اسے اس کی آخری اجل تک لے چلو۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جسم والے کپڑے کو اس طرح اپنی ناک پر رکھ لیا۔ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1628]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2872/75)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (اسْتِقْبَالُ رُوحِ الْمُؤْمِنِ وَعَاقِبَةُ رُوحِ الْكَافِرِ)
مومن روح کا استقبال اور کافر روح کا انجام
حدیث نمبر: 1629
1629 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا حُضِرَ الْمُؤْمِنُ أَتَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ بِحَرِيرَةٍ بَيْضَاءَ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي رَاضِيَةً مَرْضِيًّا عَنْكِ إِلَى رَوْحِ اللَّهِ وَرَيْحَانٍ ، وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رِيحِ الْمِسْكِ حَتَّى إِنَّهُ لَيُنَاوِلُهُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى يَأْتُوا بِهِ أَبْوَابَ السَّمَاءِ، فَيَقُولُونَ: مَا أَطْيَبَ هَذِهِ الرِّيحَ الَّتِي جَاءَتْكُمْ مِنَ الْأَرْضِ! فَيَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ. فَلَهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِغَائِبِهِ يَقْدُمُ عَلَيْهِ فَيَسْأَلُونَهُ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ فَيَقُولُونَ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ كَانَ فِي غَمِّ الدُّنْيَا. فَيَقُولُ: قَدْ مَاتَ أَمَا أَتَاكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: قَدْ ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا احْتُضِرَ أَتَتْهُ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ بِمِسْحٍ فَيَقُولُونَ: اخْرُجِي سَاخِطَةً مَسْخُوطٌ عَلَيْكِ إِلَى عَذَابِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَتَخْرُجُ كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ إِلَى بَابِ الْأَرْضِ فَيَقُولُونَ: مَا أَنْتَنَ هَذِهِ الرِّيحَ؟ حَتَّى يَأْتُونَ بِهِ أَرْوَاحَ الْكُفَّارِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب مومن شخص کی موت کا وقت آتا ہے تو رحمت کے فرشتے سفید ریشم لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں: اے روح! راضی ہونے والی اور پسندیدہ ہو کر نکل، اللہ کی راحت و رزق کی طرف چل، تیرا رب تجھ پر ناراض نہیں، تو وہ بہترین کستوری کی خوشبو کی طرح نکلتی ہے حتیٰ کہ وہ فرشتے ایک دوسرے سے اسے لیتے ہیں اور اسی طرح کرتے ہوئے وہ اسے آسمان کے دروازوں کے پاس لے آتے ہیں، تو وہ فرشتے کہتے ہیں: زمین سے یہ کیسی پاکیزہ خوشبو تمہارے پاس آئی ہے؟ پھر وہ اسے مومنوں کی روحوں کے پاس لے آتے ہیں، تو انہیں اس کے آنے پر اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جیسے تم میں سے کسی کو اپنے بچھڑ جانے والے کے ملنے پر خوشی ہوتی ہے، وہ اس سے پوچھتے ہیں: فلاں کا کیا حال ہے؟ فلاں کا کیا حال ہے؟ پھر وہ کہتے ہیں: اسے چھوڑ دو کیونکہ وہ دنیا کے غم میں مبتلا تھا، تو وہ (مرنے والا) کہتا ہے: وہ تو (جس کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو) فوت ہو چکا ہے، کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا؟ تو وہ کہتے ہیں: اسے تو اس کے ٹھکانے «الْهَاوِيَةُ» ”ہاویہ“ (جہنم کا نام) میں پہنچا دیا گیا، اور جب کافر شخص کی موت کا وقت آتا ہے تو عذاب کے فرشتے بالوں کا لباس (ٹاٹ) لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور اسے کہتے ہیں: اے روح! ناراض ہونے والی اور ناپسندیدہ ہو کر نکل اور اللہ عزوجل کے عذاب کی طرف چل، تو وہ مردار کی انتہائی بدبو کی صورت میں نکلتی ہے، حتیٰ کہ وہ اسے زمین کے دروازے کے پاس لے کر آتے ہیں، تو وہ کہتے ہیں: یہ کیسی بدبو ہے! حتیٰ کہ وہ اسے کافروں کی روحوں کے پاس لے آتے ہیں۔“ [صحیح، رواہ احمد والنسائی] [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1629]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (لم أجده) والنسائي (8/4 ح 1834)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (كَيْفِيَّةُ نَزْعَةِ الرُّوحِ لِلْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ)
کافر اور مؤمن کی نزع کی کیا کیفیت ہوتی ہے
حدیث نمبر: 1630
[ ص: 1176 ] 1630 - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، وَلَمَّا يُلْحَدْ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ، بِيضُ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ، مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ، وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ. قَالَ: فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنَ السِّقَاءِ، فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ، وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ، وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، قَالَ: فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ يَعْنِي بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ؟ يَقُولُونَ: فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا، حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ، وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ ; فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ، وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ، وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى. قَالَ: فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ. يَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ. فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ يَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَيَقُولَانِ لَهُ: وَمَا عِلْمُكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِي، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ: فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا فَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ. قَالَ: وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ، حَسَنُ الثِّيَابِ طَيِّبُ الرِّيحِ. فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ فَيَقُولُ لَهُ مَنْ أَنْتَ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ وَيَجِيءُ بِالْخَيْرِ، فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ. فَيَقُولُ: رَبِّ، أَقِمِ السَّاعَةَ، رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي. قَالَ: وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مِنَ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ، مَعَهُمُ الْمُسُوحُ فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللَّهِ. قَالَ: فَتُفَرَّقُ فِي جَسَدِهِ فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْزَعُ السَّفُّودُ مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ، فَيَأْخُذُهَا وَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدْعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ، وَتَخْرُجَ مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوحُ الْخَبِيثُ؟ يَقُولُونَ: فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا، حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ، فَلَا يُفْتَحُ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ، فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى، فَتُطْرَحُ رُوحُهُ طَرْحًا، ثُمَّ قَرَأَ: وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ يَقُولُ: هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي. فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي. فَيَقُولَانِ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي. فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ وَافْتَتِحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ فَيَأْتِيهِ حَرُّهَا وَسَمُومُهَا، وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ، وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ، قَبِيحُ الثِّيَابِ، مُنْتِنُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوءُكَ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ. فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ، فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالشَّرِّ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ، فَيَقُولُ: رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ. وَفِي رِوَايَةٍ نَحْوُهُ، وَزَادَ: إِذَا خَرَجَ رُوحُهُ صَلَّى عَلَيْهِ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُعْرَجَ بِرُوحِهِ مِنْ قِبَلِهِمْ، وَتُنْزَعُ نَفْسُهُ يَعْنِي الْكَافِرَ مَعَ الْعُرُوقِ فَيَلْعَنُهُ كُلُّ مَلَكٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَكُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَابٍ إِلَّا وَهُمْ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ لَا يُعْرِجَ رُوحَهُ مِنْ قِبَلِهِمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ایک انصاری شخص کے جنازے میں شریک ہوئے، ہم قبر تک پہنچ گئے، ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے پاس بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرندے ہوں، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اوپر اٹھایا تو فرمایا: ”عذابِ قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔“ آپ نے دو یا تین بار ایسے فرمایا، پھر فرمایا: ”بندہ مومن جب دنیا سے رابطہ توڑ کر آخرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو سورج کی طرح چمکتے دمکتے سفید چہروں والے فرشتے جنتی خوشبو اور جنتی کفن لے کر اس کے پاس آتے ہیں، حتیٰ کہ وہ حد نظر تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں، پھر ملک الموت علیہ السلام تشریف لاتے ہیں حتیٰ کہ وہ اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتے ہیں: اے پاکیزہ روح! اللہ کی مغفرت اور اس کی رضا مندی کی طرف چل۔“ فرمایا: ”وہ ایسے نکلتی ہے جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ نکلتا ہے، وہ اسے اخذ کر لیتا ہے، جب وہ اسے اخذ کر لیتا ہے تو وہ (فرشتے) اسے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اس کے پاس نہیں چھوڑتے حتیٰ کہ وہ اسے لے کر اس کفن اور اس خوشبو میں لپیٹ لیتے ہیں، اور پھر روئے زمین پر پائی جانے والی بہترین کستوری کی خوشبو اس سے نکلتی ہے۔“ فرمایا: ”وہ فرشتے اسے لے کر اوپر کی طرف بلند ہوتے ہیں، اور یہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں: یہ خوشبو کیسی ہے؟ تو وہ اس کے دنیا کے ناموں میں بہترین نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں کی روح ہے، حتیٰ کہ وہ اسے لے کر آسمانِ دنیا تک پہنچتے ہیں، اور اس کے لیے دروازہ کھولنے کی اجازت طلب کرتے ہیں، تو وہ ان کے لیے کھول دیا جاتا ہے، پھر ہر آسمان کے مقرب فرشتے اگلے آسمان تک اس کے ساتھ جاتے ہیں حتیٰ کہ اسے ساتویں آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے کا نامۂ اعمال علّیین میں لکھ دو اور اسے واپس دنیا کی طرف لے جاؤ کیونکہ میں نے انہیں اسی سے پیدا کیا ہے، اسی میں انہیں لوٹاؤں گا اور دوبارہ پھر اسی سے انہیں نکالوں گا۔“ فرمایا: ”اس کی روح اسی کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے تو دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے، پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے، پھر وہ پوچھتے ہیں: یہ آدمی جو تم میں مبعوث کیا گیا، کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، وہ پوچھتے ہیں: تمہیں کیسے پتہ چلا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی تو میں اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی، پس آسمان سے آواز آتی ہے: میرے بندے نے سچ کہا، اس کے لیے جنتی بچھونا بچھا دو، اسے جنتی لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔“ فرمایا: ”وہاں سے ہوا کے جھونکے اور خوشبو اس کے پاس آتی ہے، اور حد نظر تک اس کی قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے۔“ فرمایا: ”خوبصورت چہرے، خوبصورت لباس اور بہترین خوشبو والا ایک شخص اس کے پاس آتا ہے تو وہ کہتا ہے: اس چیز سے خوش ہو جا جو تجھے خوش کر دے، یہ وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا، تو وہ اس سے پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرا چہرہ بھلائی لانے والا چہرہ ہے، وہ جواب دیتا ہے: میں تیرا عمل صالح ہوں، وہ کہتا ہے: میرے رب! قیامت قائم فرما، میرے رب! قیامت قائم فرما حتیٰ کہ میں اپنے اہل و مال کی طرف چلا جاؤں۔“ فرمایا: ”جب کافر دنیا سے رابطہ منقطع کر کے آخرت کی طرف توجہ کرتا ہے تو سیاہ چہروں والے فرشتے بالوں سے بنا ہوا ایک کمبل لے کر آسمان سے نازل ہوتے ہیں، وہ اس سے حد نظر کے فاصلے تک بیٹھ جاتے ہیں، پھر ملک الموت علیہ السلام تشریف لاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے سر کے پاس بیٹھ جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں: اے خبیث روح! اللہ کی ناراضی کی طرف چل۔“ فرمایا: ”وہ (روح) اس کے جسد میں پھیل جاتی ہے، تو وہ اسے ایسے کھینچتا ہے جیسے لوہے کی سلاخ کو گیلے اون سے کھینچا جاتا ہے، وہ (ملک الموت) اسے اخذ کر لیتا ہے، جب وہ اسے اخذ کرتا ہے تو وہ (فرشتے) پلک جھپکنے کے برابر بھی اسے اس کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے حتیٰ کہ وہ اسے اس بالوں سے بنے ہوئے کمبل میں لپیٹ لیتے ہیں، اور اس سے زمین کے مردار سے نکلنے والی انتہائی بری بدبو نکلتی ہے، وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں: کیسی خبیث روح ہے؟ وہ کہتے ہیں: فلاں بن فلاں کی، اور وہ اس کا دنیا کا انتہائی قبیح نام لے کر بتاتے ہیں، حتیٰ کہ اسے آسمانِ دنیا تک لے جایا جاتا ہے، اس کے لیے دروازے کھولنے کے لیے درخواست کی جاتی ہے تو اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ﴾ [سورة الأعراف: 40] ”ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں بھی داخل نہیں ہوں گے حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے سوراخ میں سے گزر جائے۔“ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”اس کی کتاب کو سب سے نچلی زمین میں سجین میں لکھ دو، پھر اس کی روح کو شدت کے ساتھ پھینک دیا جاتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ﴾ [سورة الحج: 31] ”جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا، تو اب پرندے اسے اچک لیں یا ہوا اسے کسی دور جگہ پر پھینک دے۔“ فرمایا: ”اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اور دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ وہ حیرت زدہ ہو کر کہتا ہے: ہائے! ہائے! میں نہیں جانتا، پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ تو وہ حیرت زدہ ہو کر کہتا ہے: ہائے! افسوس! میں نہیں جانتا، پھر وہ پوچھتے ہیں: یہ شخص جو تم میں مبعوث کیا گیا کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے: ہائے! افسوس! میں نہیں جانتا، آسمان سے آواز آتی ہے: اس نے جھوٹ بولا، اس کے لیے جہنم سے بچھونا بچھا دو، اور اس کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دو، وہاں سے گرمی اور گرم ہوا اسے آتی رہے گی اور اس کی قبر کو اس قدر تنگ کر دیا جائے گا کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری کے اندر داخل ہو جائیں گی، اور ایک قبیح چہرے والا شخص، قبیح لباس اور انتہائی بدبودار حالت میں اس کے پاس آئے گا اور اسے کہے گا: تمہیں ایسی چیزوں کی خوشخبری ہو جو تجھے غم زدہ کر دیں، یہ تیرا وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا، وہ پوچھے گا: تو کون ہے؟ تیرے چہرے سے کسی خیر کی توقع نہیں، وہ جواب دے گا: میں تیرا خبیث عمل ہوں، تو وہ کہے گا: میرے رب! قیامت قائم نہ کرنا۔“ ایک دوسری روایت میں بھی اسی طرح ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے: ”جب اس (مومن) کی روح نکلتی ہے تو زمین و آسمان کے مابین اور آسمان کے تمام فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا طلب کرتے ہیں، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، ہر دروازے والے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اس کی روح ان کی طرف سے بلند کی جائے، اور اس یعنی کافر کی روح رگوں سمیت کھینچی جاتی ہے اور زمین و آسمان کے مابین والے تمام فرشتے اور آسمان والے تمام فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں، آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور تمام دربان فرشتے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اس کی روح کو ہماری طرف سے بلند نہ کیا جائے۔“ صحیح، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1630]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد (287/4. 288 ح 18733) و أبو داود (4753) [و صححه البيھقي في شعب الإيمان (395 واثبات عذاب القبر) ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (وَصْفُ السَّاعَةِ الأَخِيرَةِ لِسَيِّدِنَا كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کے آخری وقت کا بیان
حدیث نمبر: 1631
1631 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا حَضَرَتْ كَعْبًا الْوَفَاةُ أَتَتْهُ أُمُّ بِشْرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنْ لَقِيتَ فُلَانًا فَاقْرَأْ عَلَيْهِ مِنِّي السَّلَامَ، فَقَالَ: غَفَرَ اللَّهُ لَكِ يَا أُمَّ بِشْرٍ، نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ. فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ بِشَجَرِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: بَلَى. قَالَتْ: فَهُوَ ذَاكَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ.
عبدالرحمن بن کعب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب کعب رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت ہوا تو ام بشر بنت براء بن معرور رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں، تو انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمن! اگر تم فلاں (ان کے باپ براء کی روح) سے ملاقات کرو تو اسے میرا سلام کہنا، انہوں نے کہا: ام بشر! اللہ آپ کو معاف فرمائے، ہمیں اس کی فرصت کہاں ملے گی؟ ام بشر نے فرمایا: ابوعبدالرحمن! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا: ”مومنوں کی روحیں سبز پرندوں (کے جسم میں) جنت کے درختوں سے کھاتی ہوں گی۔“ انہوں نے کہا: ہاں! سنا ہے۔ تو ام بشر نے فرمایا: پس یہی وہ ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1631]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه ابن ماجه (1449) والبيھقي في کتاب البعث والنشور (223. 226)
٭ محمد بن إسحاق مدلس و لم أجد تصريح سماعه فالسند ضعيف و لأصل الحديث شواھد عند أحمد (424/6. 425و 455/3) وغيره»
٭ محمد بن إسحاق مدلس و لم أجد تصريح سماعه فالسند ضعيف و لأصل الحديث شواھد عند أحمد (424/6. 425و 455/3) وغيره»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (رُوحُ الْمُؤْمِنِ فِي الْجَنَّةِ عَلَى شَكْلِ جَنَاحَيْنِ)
مومن کی روح جنت میں پروندوں کی شکل میں ہوتی ہے
حدیث نمبر: 1632
1632 - وَعَنْهُ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَيْرٌ تَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُرْجِعَهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ . رَوَاهُ مَالِكٌ، وَالنَّسَائِيُّ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ.
عبدالرحمٰن بن کعب رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی روح پرندے کی شکل میں جنت کے درخت سے کھاتی ہے حتیٰ کہ اللہ جس روز اسے اٹھائے گا تو اسے اس کے جسم میں لوٹا دے گا۔“ صحیح، رواہ مالک والنسائی والبیہقی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1632]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه مالک (240/1 ح 569 وھو حديث صحيح) والنسائي (108/4 ح 2075) والبيھقي في البعث والنشور (224)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح