🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (جُلُوسُ رَسُولِ اللهِ ﷺ عَلَى الْقِبْلَةِ إِذَا لَمْ يُحْفَرْ الْقَبْرُ)
قبر کھدی ہوئی نہ ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ کی طرف منھ کر کے بیٹھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1713
1713 - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ:"خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، وَلَمْ يُلْحَدْ بَعْدُ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَجَلَسْنَا مَعَهُ  ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ: كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں ایک انصاری شخص کے جنازے میں شریک ہوئے، ہم قبر پر پہنچ گئے، لیکن ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھ گئے۔ ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، اور انہوں نے حدیث کے آخر میں یہ اضافہ نقل کیا ہے: گویا ہمارے سروں پر پرندے ہوں۔ حسن۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1713]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (3212) و النسائي (78/4 ح 2003) و ابن ماجه (1549)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَكْسِيرُ عِظْمِ الْمَيِّتِ)
مردے کی ہڈی توڑنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1714
1714 - وَعَنْ عَائِشَةَ:"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا"رَوَاهُ مَالِكٌ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میت کی ہڈی کا توڑنا، زندہ کی ہڈی کے توڑنے کے مترادف ہے۔“ (صحیح، رواہ مالک وابوداؤد وابن ماجہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1714]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه مالک (238/1 ح 564 بلاغًا) و أبو داود (3207) و ابن ماجه (1616)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دَفْنُ أُمِّ كُلْثُومَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا)
ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی تدفین
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1715
(الْفَصْلُ الثَّالِثُ) 1715 - عَنْ أَنَسٍ قَالَ: شَهِدْنَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُدْفَنُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ، فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ أَحَدٍ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ؟  فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَنَا. قَالَ: فَانْزِلْ فِي قَبْرِهَا، فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صاحبزادی کی تدفین کے وقت ہم موجود تھے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قبر کے پاس تشریف فرما تھے، میں نے آپ کی آنکھوں کو اشکبار دیکھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے آج رات اپنی اہلیہ سے صحبت نہ کی ہو؟“ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، میں! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”آپ اس کی قبر میں اتریں۔“ وہ ان کی قبر میں اترے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1715]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1285)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَصِيَّةُ عَمْرُو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلدَّفْنِ)
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ﷜کی تدفین کے لیے وصیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1716
1716 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ لِابْنِهِ وَهُوَ فِي سِيَاقِ الْمَوْتِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌ  ، فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا، ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٌ، وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا، حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ، وَأَعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے، جب وہ نزع کے عالم میں تھے، اپنے بیٹے سے کہا: جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی جائے نہ آگ، جب تم مجھے دفن کر چکو اور مجھ پر مٹی ڈال لو تو پھر اتنی دیر تک میری قبر کے گرد کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ میں تمہاری وجہ سے خوش اور پرسکون ہوں اور میں جان لوں کہ میں اپنے رب کے بھیجے ہوئے قاصدوں (فرشتوں) کو کیا جواب دیتا ہوں۔ [رواہ مسلم] [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1716]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (192/ 121)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الإِسْرَاعُ فِي الدَّفْنِ)
تدفین میں جلدی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1717
[ ص: 1228 ] 1717 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ فَلَا تَحْبِسُوهُ، وَأَسْرِعُوا بِهِ إِلَى قَبْرِهِ  ، وَلْيُقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِهِ فَاتِحَةُ الْبَقَرَةِ، وَعِنْدَ رِجْلَيْهِ بِخَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ"رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مَوْقُوفٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کوئی فوت ہو جائے تو اسے (دفن کرنے سے) نہ روک رکھو، بلکہ اسے جلد دفن کرو۔ اور (دفن کرنے کے بعد) سرہانے سورۂ بقرہ کا ابتدائی حصہ اور اس کے پاؤں کے پاس سورۂ بقرہ کا آخری حصہ پڑھا جائے۔“ بیہقی فی شعب الایمان، اور انہوں نے فرمایا: درست بات یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1717]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (9294)
٭ عبد الرحمٰن بن العلاء و ثقه ابن حبان وحده کما في تحقيقي لسنن الترمذي (979) وقيل: احتج ابن معين بحديثه (!)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَفَاةُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَدَفْنُهُ)
عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کا انتقال اور تدفین
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1718
1718 - وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ بِالْحُبْشِيِّ وَهُوَ مَوْضِعٌ فَحُمِلَ إِلَى مَكَّةَ فَدُفِنَ بِهَا،  فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ أَتَتْ قَبْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ: وَكُنَّا كَنَدْمَانَيْ جَذِيمَةَ حِقْبَةً مِنَ الدَّهْرِ حَتَّى قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعَا ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ، لَوْ حَضَرْتُكَ مَا دُفِنْتَ إِلَّا حَيْثُ مُتَّ، وَلَوْ شَهِدْتُكَ مَا زُرْتُكَ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے موضع حُبشیٰ میں وفات پائی تو انہیں مکہ لا کر دفن کیا گیا، جب عائشہ رضی اللہ عنہا وہاں تشریف لائیں تو وہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی قبر پر آئیں اور یہ اشعار کہے: ہم جزیمہ کے دونوں مصاحبوں کی طرح ایک مدت تک ملے جلے رہے، حتیٰ کہ یہ کہا جانے لگا کہ یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے، جب ہم جدا ہوئے تو گویا میں اور مالک طویل مدت تک اکٹھا رہنے کے بعد بھی ایسے تھے جیسے ہم ایک رات بھی اکٹھے نہ رہے تھے۔ پھر انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں موجود ہوتی تو تمہیں جائے وفات پر ہی دفن کیا جاتا، اور اگر میں تمہاری وفات کے وقت موجود ہوتی تو میں تمہاری زیارت کرنے نہ آتی۔ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1718]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (1055)
٭ ابن جريج مدلس و عنعن في ھذا اللفظ و له لون آخر عند عبد الرزاق (6535) و ابن أبي شيبة (343/3. 344 ح 11810) و له شاھد في تاريخ دمشق لابن عساکر (31/35) و سنده صحيح و به صح الحديث.»
قال الشيخ الألباني: الصَّحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (نَزْلُ الْمَيِّتِ فِي الْقَبْرِ مِنْ جِهَةِ الرَّأْسِ)
سر کی طرف سے قبر میں اتارنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1719
[ ص: 1230 ] 1719 - وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: سَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدًا، وَرَشَّ عَلَى قَبْرِهِ مَاءً  ، رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سعد کو سر کی طرف سے قبر میں اتارا، اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا۔ (ضعیف)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1719]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (1551)
٭ مندل و محمد بن عبيد الله بن أبي رافع ضعيفان.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (رَشْحُ التُّرَابِ عَلَى قَبْرِ رَسُولِ اللهِ ﷺ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبر پر مٹی ڈالنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1720
1720 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ فَحَثَى عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ثَلَاثًا  . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک نماز جنازہ پڑھی، پھر قبر پر تشریف لائے اور اس کے سر کی جانب سے اس پر تین لپ مٹی ڈالی۔ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1720]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (1565)
٭ يحيي بن أبي کثير مدلس و جاء تصريح سماعه في رواية موضوعة و للحديث شواھد ضعيفة.»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْجُلُوسُ عَلَى الْقَبْرِ)
قبر پر بیٹھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1721
1721 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ:"لَا تُؤْذِ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ  ، أَوْ لَا تُؤْذِهِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک قبر پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”اس قبر والے کو یا اس کو تکلیف نہ پہنچاؤ۔“ حسن، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1721]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (أطراف المسند 131/5، جامع المسانيد و السنن لابن کثير 558/9. 559، اتحاف المھرة لابن حجر 465/12 ح 15934، مسند أحمد طبع عالم الکتب 869/7. 870 ح 24256 وسنده حسن)
٭ و رواه أبو نعيم في معرفة الصحابة (1981/4) قلت: ابن لھيعة تابعه عمرو بن الحارث.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بُكَاءُ النَّبِيِّ ﷺ عَلَى وَفَاةِ ابْنِهِ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے بیٹے کی وفات پر رونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1722
(بَابُ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ) (الْفَصْلُ الْأَوَّلُ) 1722 - عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ، وَكَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاهِيمَ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهُ وَشَمَّهُ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ، فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَوْفٍ، إِنَّهَا رَحْمَةٌ، ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَى، فَقَالَ: إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ، وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا  ، وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں ابوسیف حداد، جو کہ (نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بیٹے) ابراہیم کے رضاعی باپ تھے، کے پاس گئے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابراہیم کو لے لیا، اسے چوما اور سونگھا، ہم اس کے بعد پھر ان کے پاس گئے تو ابراہیم آخری سانسوں پر تھے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! آپ (بھی روتے ہیں)؟“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ابن عوف! یہ تو رحمت ہے۔“ اور پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوبارہ روئے اور فرمایا: ”بے شک آنکھیں اشکبار ہیں اور دل غمگین ہے، لیکن ہم صرف وہی بات کریں گے جس سے ہمارا پروردگار راضی ہو، اے ابراہیم! ہم تیری جدائی پر یقیناً غمگین ہیں۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1722]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1303) و مسلم (2315/62)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں