مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الْمُؤْمِنُ يَحْمَدُ اللهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ)
مومن خوشی یا غم میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے
حدیث نمبر: 1733
[ ص: 1238 ] 1733 - وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"عَجَبٌ لِلْمُؤْمِنِ! إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ وَشَكَرَ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ اللَّهَ وَصَبَرَ ، وَالْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ أَمْرِهِ حَتَّى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی عجیب شان ہے، اگر اسے کوئی خیر و بھلائی نصیب ہوتی ہے تو وہ اللہ کی حمد بیان کرتا اور شکر کرتا ہے، اور اگر اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو بھی اللہ کی حمد بیان کرتا ہے اور صبر کرتا ہے، پس مومن اپنے (شکر و صبر کے) ہر معاملے میں اجر پاتا ہے، حتیٰ کہ اس لقمہ پر بھی جو وہ اپنی اہلیہ کے منہ میں ڈالتا ہے۔“ صحیح، رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1733]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه البيھقي في شعب الإيمان (4485) [و أحمد (173/1، [177ح 1531، وسنده صحيح] ، 182) ]
٭ وله شاھد في صحيح مسلم (2999)»
٭ وله شاھد في صحيح مسلم (2999)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (بُكَاءُ الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ عَلَى فَقْدِ الْمُؤْمِنِ)
مؤمن کے مرنے پر زمین اور آسمان کا رونا
حدیث نمبر: 1734
[ ص: 1239 ] 1734 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَهُ بَابَانِ بَابٌ يَصْعَدُ مِنْهُ عَمَلُهُ، وَبَابٌ يَنْزِلُ مِنْهُ رِزْقُهُ، فَإِذَا مَاتَ بَكَيَا عَلَيْهِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کے لیے دو دروازے ہیں، ایک دروازے سے اس کے اعمال اوپر چڑھتے ہیں اور ایک دروازے سے اس کا رزق نازل ہوتا ہے، جب وہ فوت ہو جاتا ہے تو وہ دونوں اس پر روتے ہیں، پس یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ﴾ [سورة الدخان: 29] ”ان پر آسمان رویا نہ زمین۔““ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1734]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3255 و قال: غريب)
٭ موسي بن عبيدة و يزيد بن أبان: ضعيفان.»
٭ موسي بن عبيدة و يزيد بن أبان: ضعيفان.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (أَجْرُ الْوَلَدِ الصَّغِيرِ عَلَى وَفَاتِهِ)
چھوٹے بچے کی وفات پر اجر و ثواب
حدیث نمبر: 1735
1735 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِمَا الْجَنَّةَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ مَنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ، فَقَالَتْ: فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي، لَنْ يُصَابُوا بِمِثْلِي. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے جس شخص کے دو بچے پیش رو ہوں (یعنی فوت ہو جائیں) تو اللہ ان کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا، آپ کی امت میں سے جس کا ایک پیش رو ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” «مُوَفَّقَةُ» (جس کو توفیق دی گئی ہو)! جس کا ایک پیش رو ہو (وہ بھی جنتی ہے)۔“ انہوں نے عرض کیا، آپ کی امت میں سے جس کا ایک بھی پیش رو نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی امت کا پیش رو ہوں گا، انہیں میری مثل کوئی تکلیف نہیں پہنچائی گئی۔“ ترمذی، اور انہوں نے کہا: یہ حدیث غریب ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1735]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1062)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (ثَوَابُ قَوْلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى مَوْتِ الْوَلَدِ)
بچّے کی موت پر الحمد للہ کہنے کا پھل
حدیث نمبر: 1736
1736 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ: قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي، فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهِ. فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: مَاذَا قَالَ عَبْدِي؟ فَيَقُولُونَ: حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ. فَيَقُولُ اللَّهُ: ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندے کا بچہ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: کیا تم نے میرے بندے کے بچے (کی روح) کو قبض کر لیا؟ وہ عرض کرتے ہیں، جی ہاں، پھر وہ پوچھتا ہے: کیا تم نے اس کے ثمرِ قلب (جگر گوشہ کی روح) کو قبض کر لیا؟ وہ عرض کرتے ہیں، جی ہاں، اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے کیا کہا تھا؟ وہ عرض کرتے ہیں، اس نے تیری حمد بیان کی اور «إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“ پڑھا تھا، پھر اللہ فرماتا ہے: میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام «بَيْتَ الْحَمْدِ» ”بیت الحمد“ رکھو۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1736]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (415/4 ح 19963) والترمذي (1021 و قال: حسن غريب.)
٭ وقال البيھقي في السنن الکبري: ’’الضحاک بن عبد الرحمٰن: لم يثبت سماعه من أبي موسي و عيسي بن سنان: ضعيف‘‘ (284/1. 285)»
٭ وقال البيھقي في السنن الکبري: ’’الضحاک بن عبد الرحمٰن: لم يثبت سماعه من أبي موسي و عيسي بن سنان: ضعيف‘‘ (284/1. 285)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (ثَوَابُ الْمُوَسِّي بِالْمُصِيبَةِ)
مشکل پر تسلیی دینے والے کو بھی ثواب ملتا ہے
حدیث نمبر: 1737
1737 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ الرَّاوِي، وَقَالَ: وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَوْقُوفًا.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مصیبت زدہ شخص کو تسلی دیتا ہے تو اسے بھی اس کی مثل اجر ملتا ہے۔“ (ترمذی، ابن ماجہ)۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے، اور ہم علی بن عاصم سے مروی حدیث سے اسے مرفوع جانتے ہیں، اور انہوں (امام ترمذی) نے فرمایا: ان میں سے بعض نے اسے محمد بن سوقہ سے اسی سند کے ساتھ موقوف روایت کیا ہے۔ (ضعیف)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1737]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1073) و ابن ماجه (1602)
٭ قال البيھقي: ’’تفرد به علي بن عاصم وھو أحد ما أنکر عليه‘‘ (59/4) و ھو ضعيف (تقدم: 1177) و له متابعات ضعيفة.»
٭ قال البيھقي: ’’تفرد به علي بن عاصم وھو أحد ما أنکر عليه‘‘ (59/4) و ھو ضعيف (تقدم: 1177) و له متابعات ضعيفة.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (مَنْ يُسْتَرْضِي الْمَرْأَةَ عَلَى مَوْتِ وَلَدِهَا يَلْبَسُ جَنَّةَ الْخُلْفَةِ)
کسی عورت کو بیٹے کی موت پر تسلی دینے والا بھی جنت کا لباس پہنے گا
حدیث نمبر: 1738
[ ص: 1241 ] 1738 - وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"مَنْ عَزَّى ثَكْلَى كُسِيَ بُرُدًا مِنَ الْجَنَّةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ: وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی عورت کو، جس کا بچہ گم جائے، تسلی دیتا ہے تو اسے جنت میں ایک قیمتی لباس پہنایا جائے گا“۔ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ (ضعیف)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1738]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1076)
٭ منية بنت عبيد: لا يعرف حالھا.»
٭ منية بنت عبيد: لا يعرف حالھا.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (طَبْخُ الطَّعَامِ لِأَهْلِ الْمَيِّتِ)
میت کے گھر والوں کے لیے کھانا پکانا
حدیث نمبر: 1739
1739 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا، فَقَدْ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب جعفر کی خبرِ شہادت آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرو، ان کے پاس ایسی چیز (یعنی خبر) آئی ہے جو انہیں مشغول رکھے گی۔“ (اسنادہ حسن، رواہ الترمذی وابوداؤد وابن ماجہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1739]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (998 وقال: حسن.) و أبوداود (3122) و ابن ماجه (1610) [و صححه الحاکم (372/1) ووافقه الذهبي. ] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (الْمُمَارَاةُ فِي النَّوْحِ تُصِيبُ الْمَيِّتَ بِالْعَذَابِ)
نوحہ کرنے پر میت کو بھی عذاب ہو سکتا ہے
حدیث نمبر: 1740
(الْفَصْلُ الثَّالِثُ) 1740 - عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص پر نوحہ کیا جائے تو اس پر نوحہ کیے جانے کے باعث روز قیامت اسے عذاب دیا جائے گا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1740]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1291) و مسلم (933/28)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الْمَبْكِي وَالْمُضْرِبُ يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِسَبَبِهِمَا)
رونے پیٹنے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے
حدیث نمبر: 1741
1741 - وَعَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَذُكِرَ لَهَا: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ تَقُولُ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ، وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا، فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا، وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عمرہ بنت عبدالرحمٰن رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا، میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، اور انہیں بتایا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میت کو، اس کے قبیلے کے اس پر رونے کی وجہ سے، عذاب دیا جاتا ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ ابوعبدالرحمٰن کو معاف فرمائے، انہوں نے جھوٹ نہیں بولا، بلکہ وہ بھول گئے یا غلطی کر گئے، بات صرف اتنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک یہودی عورت کے پاس سے گزرے جس پر اس کے گھر والے رو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک یہ تو اس پر رو رہے ہیں جبکہ اسے اپنی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1741]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1289) و مسلم (932/27)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (نَهَى سَيِّدُنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا میت پر رونے پیٹنے سے منع کرنا
حدیث نمبر: 1742
1742 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: تُوُفِّيَتْ بِنْتٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِمَكَّةَ، فَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا، وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، فَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لِعُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ وَهُوَ مُوَاجِهُهُ، أَلَا تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ ثُمَّ حَدَّثَ، فَقَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، فَإِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ سَمُرَةٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبُ؟ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ. قَالَ: فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ادْعُهُ، فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا أَنْ أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ يَبْكِي، يَقُولُ: وَا أَخَاهُ، وَا صَاحِبَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ:"إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ؟!"فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ قَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ، لَا وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ إِنَّ اللَّهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ: حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ"وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ ذَلِكَ: وَاللَّهُ أَضْحَكَ وَأَبْكَى قَالَ ابْنُ مُلَيْكَةَ: فَمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ شَيْئًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی بیٹی مکہ میں وفات پا گئیں تو ہم ان کے جنازہ میں شریک ہونے کے لیے آئے جبکہ ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی تشریف لائے تھے، میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا ہوا تھا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرو بن عثمان سے فرمایا، جبکہ وہ ان کے مقابل تھے: کیا تم رونے سے منع نہیں کرتے؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ اس کا بعض حصہ بیان کیا کرتے تھے، پھر انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے حدیث بیان کی تو فرمایا: میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے واپس آیا، حتیٰ کہ جب ہم بیداء کے قریب پہنچے تو انہوں نے کیکر کے سائے تلے ایک قافلہ دیکھا تو فرمایا: جاؤ دیکھو کہ یہ کون لوگ ہیں؟ میں نے دیکھا تو وہ صہیب رضی اللہ عنہ تھے، چنانچہ میں نے ان کو بتایا، تو انہوں نے فرمایا: انہیں (صہیب رضی اللہ عنہ) کو بلاؤ، میں صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو میں نے کہا: یہاں سے کوچ کرو اور امیر المؤمنین کے پاس چلو، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا گیا، تو صہیب رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: آہ بھائی پر کتنا افسوس ہے! آہ بھائی پر کتنا افسوس ہے! تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صہیب! کیا تم مجھ پر روتے ہو؟ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کے گھر والوں کی طرف سے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب عمر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے، نہیں، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث بیان نہیں کی کہ ”میت کو اس کے گھر والوں کی طرف سے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ بلکہ ”اللہ کافر شخص پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب بڑھا دیتا ہے۔“ اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تمہیں قرآن کافی ہونا چاہیے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ [سورة الأنعام: 164] ”کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔“ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ﴿وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ﴾ [سورة النجم: 43] ”اللہ ہی ہنساتا اور رلاتا ہے۔“ ابن ابی ملیکہ نے فرمایا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کوئی بات نہ کی۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1742]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1286. 1288) و مسلم (927/23. 929)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه