مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (شَهَادَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، جَعْفَرٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا)
حضرت زید بن حارثہ جعفر اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما کی شہادت
حدیث نمبر: 1743
1743 - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرٍ وَابْنِ رَوَاحَةَ ، جَلَسَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ، وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ تَعْنِي شَقَّ الْبَابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ ، فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ لَمْ يُطِعْنَهُ فَقَالَ: انْهَهُنَّ، فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ قَالَ: وَاللَّهِ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَزَعَمْتُ أَنَّهُ قَالَ: فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ، فَقُلْتُ: أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ، لَمْ تَفْعَلْ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تَتْرُكْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ابن حارثہ رضی اللہ عنہ، جعفر رضی اللہ عنہ اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کی خبرِ شہادت پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مسجد میں) بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر غم کے آثار واضح تھے، اور میں دروازے کی جھری سے دیکھ رہی تھی، اتنے میں ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے عرض کیا: جعفر رضی اللہ عنہ کی خواتین رو رہی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ”انہیں منع کرو۔“ وہ چلا گیا (اور انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئیں) پھر وہ دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ وہ اس کی بات نہیں مانتیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں منع کرو۔“ لیکن وہ تیسری مرتبہ پھر آیا اور عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! وہ ہم پر غالب آگئی ہیں، (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے منہ میں مٹی ڈالو۔“ میں نے کہا: اللہ تیری ناک خاک آلود کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو حکم دیا نہ تو نے اسے بجا لایا اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف پہنچانا ترک کیا۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1743]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1299) و مسلم (935/30)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (وَفَاةُ أَبُوسُلْمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ)
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات
حدیث نمبر: 1744
[ ص: 1246 ] 1744 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ، لَأَبْكِيَنَّهُ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ، فَكُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ، إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي، فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخُلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ ، وَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ، فَلَمْ أَبْكِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے کہا: پردیسی شخص پردیس میں فوت ہو گیا، میں اس مرتبہ اس قدر روؤں گی کہ ایک داستان بن جائے گی، میں اس پر رونے کی پوری تیاری کر چکی تھی کہ ایک عورت آئی وہ رونے میں میرا ساتھ دینا چاہتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم ایسے گھر میں شیطان داخل کرنا چاہتی ہو جہاں سے اللہ نے اسے نکال باہر کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ ایسے فرمایا۔ پس میں رونے سے رک گئی اور میں نہ روئی۔ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1744]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (922/10)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ)
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 1745
1745 - وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، فَجَعَلَتْ أُخْتُهُ عَمْرَةُ تَبْكِي: وَا جَبَلَاهُ، وَا كَذَا، تُعَدِّدُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ حِينَ أَفَاقَ: مَا قُلْتِ شَيْئًا إِلَّا قِيلَ لِي أَنْتَ كَذَلِكَ، زَادَ فِي رِوَايَةٍ: فَلَمَّا مَاتَ لَمْ تَبْكِ عَلَيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن عمرہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں اور کہنے لگیں: آہ پہاڑ پر کتنا افسوس، آہ اس طرح اور اس طرح، وہ ان کے محاسن بیان کرنے لگیں، جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے فرمایا: آپ نے جو کچھ بھی کہا، وہ مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا تم اسی طرح ہو؟ اور ایک روایت میں یہ نقل کیا ہے کہ جب وہ (عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ) شہید ہوئے تو پھر وہ ان پر نہ روئیں۔ [رواہ البخاری] [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1745]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4267)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَا يَقُولُ الْمَيِّتُ عِنْدَ الْوَفَاةِ يَا سَيِّدِي ...)
مرنے پر جو یہ کہتا ہے اے سردار۔۔۔
حدیث نمبر: 1746
[ ص: 1247 ] 1746 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ بَاكِيهِمْ فَيَقُولُ: وَا جَبَلَاهُ ، وَا سَيِّدَاهُ، وَنَحْوَ ذَلِكَ إِلَّا وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ مَلَكَيْنِ يَلْهَزَانِهِ، وَيَقُولَانِ: أَهَكَذَا كُنْتَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے اور اسے رونے والے کھڑے ہو کر کہتے ہیں: آہ پہاڑ! آہ سردار! اور اس طرح کی کوئی بات، تو اللہ اس (میت) پر دو فرشتے مقرر فرما دیتا ہے جو اسے مارتے ہوئے دھکے دے کر کہتے ہیں: کیا تو ایسے ہی تھا؟“ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے، اس کی سند حسن ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1746]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1003)»
قال الشيخ الألباني: حَسَنٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (بُكَاءُ رَسُولِ اللهِ ﷺ عَلَى وَفَاةِ أَوْلَادِهِ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کی وفات پر رونے کا بیان
حدیث نمبر: 1747
1747 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ ، فَقَامَ عُمَرُ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُنَّ يَا عُمَرُ ; فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَالْقَلْبَ مُصَابٌ، وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل میں سے کوئی شخص فوت ہو گیا، تو عورتیں جمع ہو کر اس پر رونے لگیں، جبکہ عمر رضی اللہ عنہ انہیں روکنے اور دور ہٹانے کے لیے کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! انہیں چھوڑ دو، کیونکہ آنکھ اشکبار ہے اور دل غمناک ہے اور ابھی صدمہ تازہ ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1747]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (444/2) و النسائي (19/4 ح 1860)
٭ سلمة بن الأزرق: مستور، لم أجد من و ثقه غير ابن حبان.»
٭ سلمة بن الأزرق: مستور، لم أجد من و ثقه غير ابن حبان.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (صُوْرَةُ الْبُكَاءِ الْمَشْرُوعَةِ وَالنَّوْحِ)
جائز رونے کی صورت اور نوحہ کرنا
حدیث نمبر: 1748
1748 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَاتَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَكَتِ النِّسَاءُ، وَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ، فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَقَالَ: مَهْلًا، ثُمَّ قَالَ: إِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ . ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُ مَهْمَا كَانَ مِنَ الْعَيْنِ وَمِنَ الْقَلْبِ فَمِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنَ الرَّحْمَةِ، وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَمِنَ اللِّسَانِ فَمِنَ الشَّيْطَانِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا وفات پا گئیں تو خواتین رونے لگیں، تو عمر رضی اللہ عنہ کوڑے کے ساتھ انہیں مارنے لگے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ساتھ انہیں پیچھے کر دیا اور فرمایا: ”عمر! کچھ مہلت دو۔“ پھر فرمایا: ”(خواتین کی جماعت) شیطانی آواز سے بچو۔“ پھر فرمایا: ”جہاں تک آنکھ (کے اشکبار ہونے) اور دل (کے غمگین ہونے) کا تعلق ہے تو وہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہے اور رحمت ہے، اور جو ہاتھ اور زبان سے کوئی حرکت ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہے۔“ ضعیف۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1748]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (335/1 ح 3103، 237. 238 ح 2127)
٭ فيه علي بن زيد بن جدعان ضعيف.»
٭ فيه علي بن زيد بن جدعان ضعيف.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (نَصْبُ الْخَيْمَةِ عَلَى وَفَاةِ وَلَدِ سَيِّدِنَا حَسَنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بیٹے کی وفات پر خیمہ کھڑا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1749
[ ص: 1249 ] 1749 - وَعَنِ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: لَمَّا مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ضَرَبَتِ امْرَأَتُهُ الْقُبَّةَ عَلَى قَبْرِهِ سَنَةً ، ثُمَّ رَفَعَتْ، فَسَمِعَتْ صَائِحًا يَقُولُ: أَلَا هَلْ وَجَدُوا مَا فَقَدُوا؟ فَأَجَابَهُ آخَرُ: بَلْ يَئِسُوا فَانْقَلَبُوا.
امام بخاری رحمہ اللہ نے معلق روایت بیان کی ہے کہ جب حسن بن حسن بن علی رحمہ اللہ فوت ہوئے تو ان کی اہلیہ نے سال بھر کے لیے ان کی قبر پر خیمہ لگا لیا، پھر انہوں نے اٹھا لیا تو انہوں نے کسی پکارنے والے کو سنا: کیا انہوں نے اپنی مفقود چیز کو پا لیا؟ دوسرے نے جواب دیا، نہیں بلکہ مایوس ہو گئے تو واپس چلے گئے۔ [ضعیف، رواہ البخاری تعلیقاً] [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1749]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البخاري تعليقًا (الجنائز باب 61 قبل ح 1330) [و انظر تغليق التعليق 482/2]
٭ محمد بن حميد: ضعيف و مغيرة بن مقسم مدلس و لم أجد تصريح سماعه.»
٭ محمد بن حميد: ضعيف و مغيرة بن مقسم مدلس و لم أجد تصريح سماعه.»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (سِيَاسَةُ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِي تَجَنُّبِ الْعَادَاتِ السَّيِّئَةِ)
بری رسموں کو اپنانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی
حدیث نمبر: 1750
1750 - وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَأَبِي بَرْزَةَ، قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدَيْتَهُمْ يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ، أَوْ بِصَنِيعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ، قَالَ: فَأَخَذُوا أَرْدِيَتِهِمْ، وَلَمْ يَعُودَا لِذَلِكَ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
عمران بن حصین اور ابوبرزہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی اوپر والی چادریں اتار پھینکی ہیں اور صرف قمیص پہن کر چل رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (یہ منظر دیکھ کر) فرمایا: ”کیا تم جاہلیت کا سا کام کر رہے ہو یا جاہلیت کے کام سے مشابہت اختیار کر رہے ہو؟ میں نے ارادہ کیا کہ تمہارے لیے بددعا کروں کہ تمہاری صورتیں مسخ ہو جائیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی چادریں لے لیں اور پھر دوبارہ ایسا نہیں کیا۔ «إِسْنَادُهُ مَوْضُوعٌ» ”اس کی سند من گھڑت ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1750]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده موضوع، رواه ابن ماجه (1485)
٭ نفيع بن الحارث أبو داود الأعمي کذاب و علي بن الحزور: متروک.»
٭ نفيع بن الحارث أبو داود الأعمي کذاب و علي بن الحزور: متروک.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده موضوع
--. (الْمُشَارَكَةُ فِي جِنَازَةِ النَّوَّاحِ)
نوحہ والے جنازے میں شرکت کرنا
حدیث نمبر: 1751
1751 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتْبَعَ جَنَازَةٌ مَعَهَا رَانَّةٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”ایسے جنازے میں شریک ہونے سے منع فرمایا جس کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی ہو“۔ (ضعیف) [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1751]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (92/2 ح 5668) و ابن ماجه (1583)
٭ أبو يحيي القتات روي عنه إسرائيل أحاديث کثيرة مناکير جدًا.»
٭ أبو يحيي القتات روي عنه إسرائيل أحاديث کثيرة مناکير جدًا.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (الأَطْفَالُ الصِّغَارُ رُحَّلُ الْجَنَّةِ)
چھوٹے بچے جنت کے سیاح ہیں
حدیث نمبر: 1752
1752 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: مَاتَ ابْنٌ لِي فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ خَلِيلِكَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ شَيْئًا يَطَيِّبُ بِأَنْفُسِنَا عَنْ مَوْتَانَا؟ قَالَ: نَعَمْ. سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ، يَلْقَى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ فَيَأْخُذُهُ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ، فَلَا يُفَارِقُهُ"حَتَّى يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَأَحْمَدُ، وَاللَّفْظُ لَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ان سے کہا کہ میرا بیٹا فوت ہو گیا تو میں نے اس پر بہت غم کیا، کیا آپ نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی ایسی چیز سنی ہے جس سے ہم اپنے فوت شدگان کے بارے میں اپنے دلوں کو خوش کر لیں؟ انہوں نے فرمایا: ہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہوں گے، ان میں سے ایک اپنے والد سے ملاقات کرے گا تو وہ اسے کپڑے کے کنارے سے پکڑ لے گا، پھر وہ اس سے الگ نہیں ہو گا حتیٰ کہ وہ اسے جنت میں لے جائے گا۔“ مسلم، احمد، اور الفاظ مسند احمد کے ہیں۔ «رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَحْمَدُ» ”اسے مسلم اور احمد نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الجنائز/حدیث: 1752]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2635/154) و أحمد (488/2ح 10330)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح