🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (ذَمُّ شِرَاءِ أَرَاضِي الجِزْيَةِ)
جزیہ والی زمین کی خرید کی مذمّت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3546
3546 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِجِزْيَتِهَا فَقَدِ اسْتَقَالَ هِجْرَتَهُ وَمَنْ نَزَعَ صَغَارَ كَافِرٍ مِنْ عُنُقِهِ فَجَعَلَهُ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ وَلَّى الْإِسْلَامَ ظَهْرَهُ  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابودرداء رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص نے خراج والی زمین خرید لی تو اس نے اپنی ہجرت (عزت) ختم کر لی اور جس نے کسی کافر کی گردن سے ذلت اتار کر اپنی گردن میں ڈال لی تو اس نے اسلام کو پس پشت ڈال دیا۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3546]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3082)
٭ عمارة: مجھول و سنان: مستور .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنِ الإِقَامَةِ فِي بِلَادِ الكُفَّارِ)
کافروں کے دیس میں رہنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3547
3547 - وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمَ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ مِنْهُمْ بِالسُّجُودِ فَأَسْرَعَ فِيهِمُ الْقَتْلَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ: أَنَا بَرِئٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مُقِيمٍ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ  قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ؟ قَالَ: لَا تَتَرَاءَى نَارَاهُمَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (یمن کے قبیلے) خثعم کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو ان میں سے کچھ لوگ بچنے کے لیے نماز پڑھنے لگے، لیکن انہیں تیزی سے قتل کیا گیا، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے لیے نصف دیت کا حکم فرمایا، اور فرمایا: میں مشرکوں کے درمیان رہنے والے تمام مسلمانوں (کے خون) سے برئ الذمہ ہوں۔ انہوں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! کس لیے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (وہ کافروں سے اس قدر دور رہیں کہ) ان کی آگ نظر نہ آئے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3547]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (2645)
٭ فيه أبو معاوية الضرير: مدلس و عنعن و للحديث طرق، ضعيفة کلھا و لم يصب من صححه .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الإِيمَانُ يَمْنَعُ المُؤْمِنَ مِنْ قَتْلِ أَخِيهِ المُؤْمِنِ)
ایمان مؤمن کو قتل کرنے سے روکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3548
3548 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: أَنَا بَرِئٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مُقِيمٍ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ  قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ؟ قَالَ: لَا تَتَرَاءَى نَارَاهُمَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایمان اچانک قتل کرنے سے منع کرتا ہے۔ مومن اچانک (مطلع کیے بغیر) قتل نہیں کرتا۔ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3548]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (2769) [و له شواھد] »
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ عُقُوبَةِ العَبْدِ الَّذِي يَتْرُكُ دَارَ السَّلَامِ)
غلام کا دارالسلام کو چھوڑ دینے کی سزا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3549
3549 - وَعَنْ جَرِيرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَى وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ إِلَى الشِّرْكِ فَقَدْ حَلَّ دَمُهُ  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
جریر رضی اللہ عنہ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب غلام مشرکین کے علاقے کی طرف فرار ہو جائے تو اس کا خون حلال ہو جاتا ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3549]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4360)
٭ أبو إسحاق عنعن و حديث مسلم (70) يغني عنه .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عُقُوبَةُ شَاتِمِ الرَّسُولِ المَوْتُ)
شاتم رسول کی سزا موت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3550
3550 - وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ فَأَبْطَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بُرا بھلا کہا کرتی تھی اور آپ کی مذمت کیا کرتی تھی، ایک آدمی نے اس کا گلا دبا دیا چنانچہ وہ مر گئی تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا خون رائیگاں قرار دے دیا۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3550]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4362)
٭ مغيرة بن مقسم مدلس و عنعن، و أما جرير فھو ابن عبد الحميد الضبي: ثقة إمام .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ عُقُوبَةِ السَّاحِرِ)
جادوگر کی سزا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3551
3551 - وَعَنْ جُنْدَبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبُهُ بِالسَّيْفِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جادوگر کی حد (یعنی سزا) تلوار کے ساتھ قتل کرنا ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3551]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1460)
٭ قال البيھقي (136/8): ’’إسماعيل بن مسلم المکي: ضعيف .‘‘»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عُقُوبَةُ البَغَاةِ المَوْتُ)
بغاوت کی سزا موت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3552
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 3552 - وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ يُفَرِّقُ بَيْنَ أُمَّتِي فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ  . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص (امام کے خلاف) خروج کرے اور میری امت کے درمیان تفریق ڈالے تو اس کی گردن اڑا دو۔ صحیح، رواہ النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3552]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه النسائي (93/7 ح 4028)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سَيُقْتَلُ الخَوَارِجُ)
خارجیوں کو قتل کر دیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3553
3553 - وَعَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنِ الْخَوَارِجِ فَلَقِيْتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْخَوَارِجَ؟ قَالَ: نَعَمٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ وَرَأَيْتُهُ بِعَيْنَيَّ، أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ فَقَسَمَهُ فَأَعْطَى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمَنْ عَنْ شِمَالِهِ وَلَمْ يُعْطِ مَنْ وَرَاءَهُ شَيْئًا، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ، رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومُ الشَّعْرِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَ: وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي رَجُلًا هُوَ أَعْدَلُ مِنِّي. ثُمَّ قَالَ: يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ كَانَ هَذَا مِنْهُمْ يَقْرَأُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ  كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.
شریک بن شہاب بیان کرتے ہیں، میری تمنا تھی کہ میں نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کسی صحابی سے ملوں اور ان سے خوارج کے متعلق دریافت کروں، میں عید کے روز ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے ان کے ساتھیوں کی موجودگی میں ملا تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خوارج کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمودات کو اپنے کانوں سے سنا ہے اور آپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کچھ مال پیش کیا گیا تو آپ نے اسے تقسیم فرمایا اور اپنے دائیں بائیں والوں کو عطا کیا، لیکن آپ نے اپنی پچھلی جانب والوں کو کچھ نہ دیا تو آپ کی پچھلی جانب سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: محمد! (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) آپ نے تقسیم میں انصاف نہیں کیا، وہ منڈے ہوئے بالوں والا سیاہ فام شخص تھا، اس پر دو سفید کپڑے تھے، (اس پر) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! میرے بعد تم کوئی ایسا آدمی نہیں پاؤ گے جو مجھ سے زیادہ عدل کرنے والا ہو۔ پھر فرمایا: آخری زمانے میں ایک قوم کا ظہور ہو گا، گویا یہ انہی میں سے ہے، وہ قرآن پڑھتے ہوں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل (کر پار ہو) جاتا ہے۔ سر منڈانا ان کی علامت ہو گی، وہ مسلسل ظاہر ہوتے رہیں گے حتی کہ ان کا آخری فرد مسیح دجال کے ساتھ ظاہر ہو گا۔ جب تم ان سے ملو تو (جان لو کہ) وہ تمام مخلوق سے بدترین ہیں۔ اسنادہ حسن، رواہ النسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3553]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه النسائي (119/7. 121 ح 4108)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ أَشَدِّ النَّاسِ قَتْلًا)
بدترین مقتول کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3554
3554 - وَعَنْ أَبِي غَالِبٍ رَأَى أَبُو أُمَامَةَ رُءُوسًا مَنْصُوبَةً عَلَى دَرَجِ دِمَشْقَ فَقَالَ: أَبُو أُمَامَةَ كِلَابُ النَّارِ شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوهُ  ثُمَّ قَرَأَ يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ الْآيَةَ قِيلَ لِأَبِي أُمَامَةَ أَنْتَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوَثَلَاثًا حَتَّى عَدَّ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابوغالب سے روایت ہے، ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے راہ دمشق پر کچھ سر نصب کیے ہوئے دیکھے تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (یہ) جہنم کے کتے ہیں، آسمان تلے یہ بدترین مقتول ہیں، اور انہوں نے جنہیں قتل کیا ہے وہ بہترین مقتول ہیں، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: اس روز بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے۔ ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، آپ نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگر میں نے اسے (بار بار) سات مرتبہ تک نہ سنا ہوتا تو میں اسے تمہیں بیان نہ کرتا۔ ترمذی، ابن ماجہ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب القصاص/حدیث: 3554]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3000) و ابن ماجه (176)
٭ و للحديث شواھد وھو بھا صحيح .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں