🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مُوَاصَلَةُ الضَّيْفِ إِلَى الْبَابِ، بِرِوَايَةِ الْبَيْهَقِي)
مہمان کو دروازے تک چھوڑنا، بروایت بیہقی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4259
4259 - وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ"عَنْهُ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَالَ فِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے کہا: ”اس کی سند میں ضعف ہے۔“ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ» ”اس کی سند ضعیف ہے، اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4259]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (9649، نسخة محققة: 9202)
٭ فيه سلم بن سالم (البلخي) ضعيف و عطاء الخراساني عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَأْتِي الْبَرَكَةُ سَرِيعًا فِي بَيْتِ الْمُضِيفِ)
میزبان کے گھر میں برکت جلدی آتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4260
4260 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (الْخَيْرُ أَسْرَعُ إِلَى الْبَيْتِ الَّذِي يُؤْكَلُ فِيهِ  مِنَ الشَّفْرَةِ إِلَى سَنَامِ الْبَعِيرِ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں کھانا کھلایا جائے اس میں خیر و برکت اس تیزی سے داخل ہوتی ہے، جس تیزی کے ساتھ چھری اونٹ کی کوہان کو کاٹتی ہے۔“ (إِسْنَادُہٗ ضَعِيفٌ جِدًّا، رَوَاہُ ابْنُ مَاجَہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4260]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه ابن ماجه (3357)
٭ فيه جبارة بن مغلس: متھم بالکذب، و الصواب في السند: ’’المحاربي عبد الرحمٰن عن نھشل و ھو ابن سعيد‘‘ و نھشل: متروک کذبه ابن راھويه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَتَى يَحِلُّ أَكْلُ الْمَيْتَةِ)
مردار کھانا کب درست ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4261
(2) بَابٌ فِي مَتَى يَكُونُ الْمَرْءُ مُضْطَرًّا لِتَحِلَّ لَهُ الْمَيْتَةُ وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الْأَوَّلِ الْفَصْلُ الثَّانِي 4261 - عَنِ الْفُجَيْعِ الْعَامِرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ مَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمِيتَةِ  ؟، قَالَ:"مَا طَعَامُكُمْ؟ قَالَ: نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ". قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَسَّرَهُ لِي عُقْبَةُ: قَدَحٌ غُدْوَةً، وَقَدَحٌ عَشِيَّةً. قَالَ:"ذَاكَ وَأَبِي الْجُوعُ"، فَأَحَلَّ لَهُمُ الْمَيْتَةَ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
فجیع عامری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہمارے لیے مردہ جانور کی کون سی چیز حلال ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کھانا کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: ہم شام اور صبح کے وقت دودھ کا ایک پیالہ پیتے ہیں، ابونعیم کا بیان ہے کہ عقبہ نے مجھے وضاحت سے بتلایا کہ ایک پیالہ صبح، ایک پیالہ شام کو۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میرے باپ کی قسم! یہ تو پھر بھوک ہے۔“ آپ نے اس حال میں ان کے لیے مردار کو حلال قرار دیا۔ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4261]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه أبو داود (3817)
٭ فيه وھب بن عقبة: وثقه ابن حبان وحده وقال الحافظ في التقريب: ’’مستور‘‘ و الحديث ضعفه البيھقي .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَوَاضِعُ أَكْلِ الْمَيْتَةِ)
مردار کب کھایا جا سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4262
4262 - وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا نَكُونُ بِأَرْضٍ فَتُصِيبُنَا بِهَا الْمَخْمَصَةُ، فَمَتَى يَحِلُّ لَنَا الْمَيْتَةُ  ؟ قَالَ:"مَا تَصْطَبِحُوا أَوْ تَغْتَبِقُوا أَوْ تَحْتَفِئُوا بِهَا بَقْلًا، فَشَأْنَكُمْ بِهَا"مَعْنَاهُ: إِذَا لَمْ تَجِدُوا صَبُوحًا أَوْ غَبُوقًا وَلَمْ تَجِدُوا بَقْلَةً تَأْكُلُونَهَا حَلَّتْ لَكُمُ الْمَيْتَةُ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم ایسی سرزمین پر ہوتے ہیں جہاں ہم بھوک کا شکار ہو جاتے ہیں، تو ہمارے لیے مردار کھانا کب حلال ہوتا ہے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم صبح یا شام کھانے کے لیے کوئی ترکاری نہ پاؤ، تب اس حالت میں تم مردار کھا سکتے ہو۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4262]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (88/2 ح 2002، نسخة محققة: 2039)
٭ حسان بن عطية: لم يسمع من أبي واقد الليثي رضي الله عنه فالسند منقطع .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (آدَابُ شُرْبِ الْمَاءِ)
پانی پینے آداب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4263
(3) بَابُ الْأَشْرِبَةِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 4263 - عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ مُسْلِمٌ فِي رِوَايَتَيْنِ وَيَقُولُ:"إِنَّهُ أَرْوَى وَأَبْرَأُ وَأَمْرَأُ".
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پینے کے دوران تین سانس لیا کرتے تھے۔ بخاری، مسلم۔ اور امام مسلم رحمہ اللہ نے ایک روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے تھے: ”یہ (تین سانس لینا) زیادہ پیاس بجھاتا ہے، صحت افزا ہے اور زیادہ باعث ہضم ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4263]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5631) و مسلم (123 / 2028)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا تَشْرَبُوا مِنْ فَمِ الْمِشْكِ)
مشک سے منھ لگا کر نہ پیو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4264
4264 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ”مشکیزے کے منہ سے پینے“ سے منع فرمایا ہے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4264]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5629) و مسلم (لم أجده)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فَمِ الْمِشْكِ)
مشک کے منھ سے پینا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4265
4265 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ  زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَ"وَاخْتِنَاثُهَا": أَنْ يُقْلَبَ رَأْسُهَا، ثُمَّ يُشْرَبَ مِنْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. [ ص: 2746 ]
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ”مشکیزوں کے منہ موڑ کر ان سے پانی پینے“ سے منع فرمایا ہے، اور ایک روایت میں اضافہ نقل کیا ہے: ”مشکیزوں کا منہ موڑنا یہ ہے کہ اس کا دہانہ اُلٹا کر پھر ان سے پیا جائے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4265]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5625) و مسلم (111/ 2023)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لْيُشْرَبِ الْمَاءُ جَالِسًا)
بیٹھ کر پیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4266
4266 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا  . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ”منع فرمایا کہ آدمی کھڑا ہو کر پیئے۔“ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4266]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2024/113)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا)
کھڑے ہو کر پینا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4267
4267 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَائِمًا  ، فَمَنْ نَسِيَ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَقِئْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کھڑا ہو کر نہ پیے، تم میں سے جو شخص بھول جائے تو وہ قے کر دے۔“ (رواہ مسلم) [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4267]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (116/ 2026)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (شُرْبُ مَاءِ زَمْزَمَ قَائِمًا)
زمزم کھڑے ہو کر پیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4268
4268 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے ڈول میں آبِ زمزم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر نوش فرمایا۔ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4268]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (1637) و مسلم (120/ 2023)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں