🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (النَّهْيُ عَنِ النَّفْخِ فِي الْمَاءِ)
پانی پر پھونک مارنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4279
4279 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ  . فَقَالَ رَجُلٌ: الْقَذَاةَ أَرَاهَا فِي الْإِنَاءِ. قَالَ:"أَهْرِقْهَا". قَالَ: فَإِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ. قَالَ:"فَأَبِنِ الْقَدَحَ عَنْ فِيكَ، ثُمَّ تَنَفَّسْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مشروب میں پھونک مارنے سے منع فرمایا تو ایک آدمی نے عرض کیا، برتن میں گرا ہوا تنکا دیکھوں تو پھر (کیا کروں)؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے پھینک دو۔ اس نے عرض کیا، میں ایک سانس سے سیراب نہیں ہوتا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے منہ سے پیالہ ہٹا، پھر سانس لے۔ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4279]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (1887 وقال: حسن صحيح) و الدارمي (119/2 ح 2172)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ ثُقْبِ الْإِنَاءِ وَعَنِ النَّفْخِ فِيهِ)
پیالے کے سوراخ سے پانی پینا اور پھونک مارنا منع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4280
4280 - وَعَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ  ، وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیالے کے ٹوٹے ہوئے حصے سے پینے سے اور مشروب میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4280]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (3722)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (شَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِشْكٍ مُعَلَّقَةٍ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لٹکی ہوئی مشک سے پانی پیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4281
4281 - وَعَنْ كَبْشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ قَائِمًا  ، فَقُمْتُ إِلَى فِيهَا فَقَطَعْتُهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
کبشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ نے لٹکے ہوئے مشکیزے سے کھڑے ہو کر پانی پیا، میں نے اس (مشکیزے) کے منہ کی طرف توجہ رکھی اور میں نے اس (مشکیزے کے منہ) کو کاٹ لیا۔ ترمذی، ابن ماجہ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4281]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1892) و ابن ماجه (3423)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَحَبَّةُ الشَّيْءِ الْبَارِدِ الْحُلْوِ)
ٹھنڈی میٹھی چیز کی پسندیدگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4282
4282 - وَعَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحُلْوَ الْبَارِدَ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُرْسَلًا.
امام زہری نے عروہ کی سند سے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ٹھنڈا شیریں مشروب زیادہ پسند تھا۔ ترمذی اور انہوں نے کہا: صحیح وہ ہے جو زہری کی سند سے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مرسل روایت کیا گیا ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4282]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (1895)
٭ الزھري مدلس و عنعن و له شاھد ضعيف عند أحمد (338/1)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءُ الطَّعَامِ)
کھانے کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4283
4283 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ  . وَإِذَا سُقِيَ لَبَنًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَزِدْنَا مِنْهُ ; فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا اللَّبَنُ"، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ.
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ یوں دعا کرے: اے اللہ! اس میں برکت عطا فرما، اور ہمیں اس سے بہتر کھلا۔ اور جب دودھ پیئے تو یوں دعا کرے: اے اللہ اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے زیادہ عطا فرما۔ کیونکہ دودھ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے سے کفایت کرے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4283]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3455) و أبو داود (3730)
٭ فيه علي بن زيد بن جدعان: ضعيف و عمر بن حرملة مجھول وله شاھد ضعيف في الصحيحة للشيخ محمد ناصر الدين الألباني رحمه الله (2320) وأخطأ من صححه .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (شُرْبُ مَاءِ السُّقْيَا)
سقیاء کا پانی پینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4284
4284 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنَ السُّقْيَا  . قِيلَ: هِيَ عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے سقیا سے آبِ شیریں لایا جاتا تھا، مشہور ہے کہ وہ مدینہ سے دو روز کی مسافت پر ایک چشمہ ہے۔ اسنادہ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4284]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (3735)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اسْتِعْمَالُ آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ كَبِيرَةٌ مِنَ الْكَبَائِرِ)
سونے چاندی کے برتنوں کا استعمال بہت بڑا گناہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4285
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 4285 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ  ، أَوْ إِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ"، رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ. [ ص: 2755 ]
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں، یا کسی ایسے برتن میں، جس میں اس (سونے یا چاندی) میں سے کچھ ہو تو وہ شخص اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ہی انڈیلتا ہے۔ سندہ ضعیف، رواہ الدارقطنی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4285]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الدارقطني (40/1 ح 93 وقال: إسناده حسن)
٭ إبراھيم بن عبد الله بن مطيع و أبوه لم يوثقھما غير الدارقطني بتحسين حديثھما والله أعلم بھما .»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اسْتِعْمَالُ الْمَاءِ وَالْعَسَلِ وَالنَّبِيذِ وَاللَّبَنِ)
پانی، شہد، نبیذ اور دودھ کا استعمال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4286
(4) بَابُ النَّقِيعِ وَالْأَنْبِذَةِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 4286 - عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ: الْعَسَلَ، وَالنَّبِيذَ، وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ  . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے اپنے اس پیالے میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہر قسم کا مشروب پلایا، شہد، نبیذ، پانی اور دودھ۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4286]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (89/ 2008)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (صُنْعُ النَّبِيذِ فِي الْمِشْكِ)
مشک میں نبیذ بنانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4287
4287 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سِقَاءٍ يُوكَأُ أَعْلَاهُ  ، وَلَهُ عَزْلَاءُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً، فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً، وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ایک مشکیزے میں نبیذ تیار کیا کرتی تھیں، جسے اوپر سے باندھ دیا جاتا تھا، اور اس کے نیچے بھی منہ تھا، ہم صبح نبیذ تیار کرتیں تو آپ اسے شام کو نوش فرما لیتے اور ہم شام کو تیار کرتیں تو آپ اسے صبح کو نوش فرما لیتے تھے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4287]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (85 / 2005)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اسْتِعْمَالُ النَّبِيذِ قَبْلَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ)
نبیذ کا استعمال تین دن سے پہلے پہلے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4288
4288 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُنْبَذُ لَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ  ، فَيَشْرَبُهُ إِذَا أَصْبَحَ يَوْمَهُ ذَلِكَ، وَاللَّيْلَةَ الَّتِي تَجِيءُ، وَالْغَدَ، وَاللَّيْلَةَ الْأُخْرَى، وَالْغَدَ إِلَى الْعَصْرِ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ، أَوْ أَمَرَ بِهِ فَصُبَّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے رات کے پہلے حصے میں نبیذ تیار کی جاتی، جب اس دن صبح ہوتی تو آپ اسے نوش فرماتے اور رات کو بھی پیتے، اگلے دن اور اگلی رات بھی نوش فرماتے اور اگلے روز عصر تک نوش فرما لیتے، اگر کچھ بچ جاتی آپ اسے خادم کو پلا دیتے یا پھر آپ کے حکم پر اسے انڈیل دیا جاتا۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4288]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2004/79)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں