مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (الْمِلْحُ خَيْرُ إِدَامٍ)
نمک بہترین سالن
حدیث نمبر: 4239
4240 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِذَا وُضِعَ الطَّعَامُ فَاخْلَعُوا نِعَالَكُمْ ؟ فَإِنَّهُ أَرْوَحُ لِأَقْدَامِكُمْ) .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے سالن کا سردار نمک ہے۔ “ اسنادہ ضعیف جذا، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4239]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه ابن ماجه (3315)
٭ فيه عيسي الحناط: متروک و السند ضعفه البوصيري .»
٭ فيه عيسي الحناط: متروک و السند ضعفه البوصيري .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
--. (لْيُؤْكَلِ الطَّعَامُ بِاطْمِئْنَانٍ وَسُكُونٍ)
کھانا اطمینان اور سکون سے کھایا جائے
حدیث نمبر: 4240
4241 - وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا أَتَيْتُ بِثَرِيدٍ أَمَرَتْ بِهِ فَغُطِّيَ ، حَتَّى تَذْهَبَ فَوْرَةُ دُخَانِهِ، وَتَقُولُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: هُوَ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ. رَوَاهُمَا الدَّارِمِيُّ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب کھانا لگا دیا جائے تو اپنے جوتے اتار دیا کرو، کیونکہ یہ تمہارے پاؤں کے لیے زیادہ آرام دہ ہے۔ “ اسنادہ ضعیف جذا موضوع، رواہ الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4240]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا موضوع، رواه الدارمي (108/2 ح 2086، نسخة محققة: 2125)
٭ فيه موسي بن محمد بن إبراهيم: متروک، و السند منقطع و قال الذھبي في تلخيص المستدرک (119/4): ’’أحسبه موضوعًا و إسناده مظلم‘‘ .»
٭ فيه موسي بن محمد بن إبراهيم: متروک، و السند منقطع و قال الذھبي في تلخيص المستدرک (119/4): ’’أحسبه موضوعًا و إسناده مظلم‘‘ .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا موضوع
--. (كُلُوا الطَّعَامَ قَلِيلَ السُّخُونَةِ)
کم گرم کھانا کھاؤ
حدیث نمبر: 4241
4242 - وَعَنْ نُبَيْشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ، ثُمَّ لَحِسَهَا ، تَقُولُ لَهُ الْقَصْعَةُ:"أَعْتَقَكَ اللَّهُ مِنَ النَّارِ كَمَا أَعْتَقْتَنِي مِنَ الشَّيْطَانِ". رَوَاهُ رَزِينٌ.
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کے پاس ثرید لایا جاتا تو آپ کے کہنے پر اسے ڈھانک دیا جاتا حتی کہ اس کا جوش حرارت ختم ہو جاتا۔ اور وہ فرماتی تھیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ایسا کرنا زیادہ باعث برکت ہے۔ “ دونوں روایتیں امام دارمی نے نقل کیں۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4241]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (100/2 ح 2053، نسخة محققة: 2091) [وأبو نعيم في حلية الأولياء (177/8) و ابن حبان (الإحسان: 5184 / 5207) والحاکم (118/4) ]
٭ فيه الزھري: مدلس و عنعن .»
٭ فيه الزھري: مدلس و عنعن .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (الْإِنَاءُ يَدْعُو)
پیالہ دعا کرتا ہے
حدیث نمبر: 4242
4239 - وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَيِّدُ إِدَامِكُمُ الْمِلْحُ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
نبیشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی برتن میں کھا کر اسے اچھی طرح صاف کرتا ہے تو وہ برتن اس کے متعلق کہتا ہے: اللہ تمہیں جہنم سے آزادی عطا فرمائے جس طرح تم نے مجھے شیطان سے آزادی دی۔ “ لم اجدہ، رواہ رزین۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4242]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لم أجده، رواه رزين (لم أجده) وانظر ح 4218»
قال الشيخ زبير على زئي:لم أجده
--. (أَوْصَافُ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ)
بندہ مومن کے اوصاف
حدیث نمبر: 4243
(1) بَابُ الضِّيَافَةِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 4243 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ". وَفِي رِوَايَةٍ بَدَلَ: (الْجَارِ) : وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ خیر و بھلائی کی بات کرے ورنہ خاموش رہے ایک دوسری روایت میں: پڑوسی کے بجائے یہ الفاظ ہیں: ”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ صلہ رحمی کرے۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4243]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6018، و الرواية الثانية: 6138) و مسلم (47/75)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (إِكْرَامُ الضَّيْفِ)
مہمان کا اکرام
حدیث نمبر: 4244
4244 - وَعَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ ، وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحَرِّجَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوشریح الکعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور وہ ایک دن ایک رات ہے، اور ضیافت تین دن کے لیے ہے، اس کے بعد صدقہ ہے۔ اور مہمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ میزبان کے ہاں اس قدر قیام کرے کہ وہ اسے تنگی میں مبتلا کر دے۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4244]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6019) و مسلم (48/14)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (حَقُّ الضَّيْفِ عَلَى الْمُضِيفِ)
مہمان کا حق میزبان پر
حدیث نمبر: 4245
4245 - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا يُقْرُونَنَا، فَمَا تَرَى؟ فَقَالَ لَنَا:"إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا ؟، فَانْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا، آپ ہمیں بھیجتے ہیں، اور ہم کسی قوم کے ہاں پڑاؤ ڈالتے ہیں تو وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے اس بارے میں جناب کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم کسی قوم کے ہاں پڑاؤ ڈالو اور وہ مہمان نوازی کے مطابق تمہاری مہمان نوازی کریں تو اسے قبول کرو اور اگر وہ مہمان نوازی نہ کریں تو پھر مہمان نوازی کا جو حق ہے وہ ان سے وصول کر سکتے ہو۔ “ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4245]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2461) و مسلم (1727/17)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (إِضَافَةُ صَحَابِيٍّ أَنْصَارِيٍّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
ایک انصاری صحابی ا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کرنا
حدیث نمبر: 4246
4246 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ، فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ:"مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟! قَالَا: الْجُوعُ . قَالَ:"وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا، قُومُوا"، فَقَامُوا مَعَهُ، فَأَتَى رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ، فَلَمَّا رَأَتْهُ الْمَرْأَةُ، قَالَتْ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا. قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَيْنَ فُلَانٌ؟"، قَالَتْ: ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ. إِذْ جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ، فَنَظَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَاحِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أَكْرَمَ أَضْيَافًا مِنِّي، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَجَاءَ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ، فَقَالَ: كُلُوا مِنْ هَذِهِ، وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ"فَذَبَحَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَمِنْ ذَلِكَ الْعِذْقِ، وَشَرِبُوا، فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ:"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ، ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتَّى أَصَابَكُمْ هَذَا النَّعِيمُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَذُكِرَ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ:"كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ.."فِي"بَابِ الْوَلِيمَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کسی روز یا کسی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کی ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تمہیں کس چیز نے تمہارے گھروں سے نکالا؟“ انہوں نے عرض کیا، بھوک نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے بھی اسی چیز نے نکالا جس نے تمہیں نکالا ہے، چلو!“ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل دیئے۔ آپ ایک انصاری صحابی کے پاس تشریف لائے لیکن وہ گھر پر نہیں تھے، جب اس کی اہلیہ نے آپ کو دیکھا تو کہا: خوش آمدید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”فلاں کہاں ہے؟“ اس نے عرض کیا: وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں، اتنے میں وہ انصاری بھی تشریف لے آئے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو پکار اٹھے: الحمد للہ، مہمانی کے لحاظ سے آج کا دن میرے لیے بہت ہی باعث عزت ہے، راوی بیان کرتے ہیں، وہ شخص گیا اور کھجوروں کا خوشہ لایا جس میں کچی، پکی اور عمدہ ہر قسم کی کھجوریں تھیں، اس نے عرض کیا، آپ انہیں تناول فرمائیں، اور خود اس نے چھری پکڑ لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ”دودھ دینے والی بکری سے احتیاط کرنا۔ “ اس نے ان کی خاطر بکری ذبح کی، انہوں نے اس بکری کا گوشت کھایا اور کھجوریں کھائیں اور پانی پیا۔ جب وہ سیر و سیراب ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روز قیامت تم سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا، بھوک نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا، پھر تم ان نعمتوں سے مستفید ہو کر واپس جاؤ گے۔ “ رواہ مسلم۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: ”انصار میں سے ایک آدمی تھا ....۔ ”باب الولیمۃ“ میں ذکر کی گئی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4246]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2038/14)
حديث أبي مسعود تقدم (3219)»
حديث أبي مسعود تقدم (3219)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الضِّيَافَةُ حَقٌّ لِلضَّيْفِ)
مہمانداری مہمان کا حق
حدیث نمبر: 4247
الْفَصْلُ الثَّانِي 4247 - عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَافَ قَوْمًا، فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا ؟ كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرُهُ حَتَّى يَأْخُذَ لَهُ بِقِرَاهُ مِنْ مَالِهِ وَزَرْعِهِ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ:"وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يُقْرُوهُ، كَانَ لَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ".
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی مسلمان کسی قوم کے ہاں مہمان ٹھہرے لیکن وہ حقِ ضیافت سے محروم رہے تو اس کی نصرت کرنا ہر مسلمان پر حق ہے حتی کہ وہ اس کے مال اور اس کی زراعت سے اس کا حقِ ضیافت لے لے۔ “ دارمی، ابوداؤد۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے: ”جو کسی قوم کے ہاں مہمان ٹھہرا لیکن انہوں نے اس کی ضیافت نہ کی تو وہ اپنے حقِ ضیافت کے برابر ان کے مال سے لے سکتا ہے۔ “ حسن، رواہ الدارمی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4247]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الدارمي (98/2 ح 2043) و أبو داود (3751 و الرواية الثانية:3804) و سندھا صحيح] »
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
--. (مُكَافَأَةُ السَّيِّئَةِ بِالْحَسَنَةِ)
برائی کا بدلہ اچھائی سے
حدیث نمبر: 4248
4248 - وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَلَمْ يُقِرْنِي وَلَمْ يُضِفْنِي ، ثُمَّ مَرَّ بِي بَعْدَ ذَلِكَ، أَأَقْرِيهِ أَمْ أَجْزِيهِ؟ قَالَ:"بَلِ اقْرِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابواحوص جشمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیں کہ اگر میں کسی شخص کے پاس سے گزروں تو وہ میری ضیافت نہ کرے لیکن اس کے بعد وہ میرے پاس سے گزرے تو کیا میں اس کی ضیافت کروں یا اس کو بدلہ دوں (کہ ضیافت نہ کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ ضیافت کرو۔ “ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4248]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (2006 وقال: حسن صحيح)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح