مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ عَلَى سُفْرَةٍ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے
حدیث نمبر: 4169
4169 - وَعَنْ قَتَادَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مَا أَكَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خِوَانٍ ، وَلَا فِي سُكُرَّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ. قِيلَ لِقَتَادَةَ: عَلَامَ يَأْكُلُونَ؟ قَالَ: عَلَى السُفَرِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ میز پر رکھ کر کھایا اور نہ طشتری میں کھانا کھایا اور نہ ہی چپاتی کھائی۔ قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ وہ کس چیز پر کھانا کھایا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: دستر خوان پر۔ (رواہ البخاری) [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4169]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5386)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (زُهْدُ سَيِّدِنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا زہد
حدیث نمبر: 4170
4170 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: مَا أَعْلَمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ ، وَلَا رَأَى شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهِ قَطُّ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری زندگی میدے کی روٹی اور سالم بھنی ہوئی بکری دیکھی (یعنی کھائی) ہو۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4170]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5385)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَحِينًا غَيْرَ مُنَخَّلٍ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر چھنا ہوا آٹا کھایا
حدیث نمبر: 4171
4171 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّقِيَّ مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ . وَقَالَ: مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُنْخُلًا مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، قِيلَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟، قَالَ كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ، فَيَطِيرُ مَا طَارَ، وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، جب سے اللہ نے انہیں مبعوث فرمایا زندگی بھر نہ میدہ کی روٹی دیکھی اور نہ چھلنی، ان سے دریافت کیا گیا کہ تم پھر بِن چھنے جَو کیسے کھاتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم اس کا آٹا بناتے اور پھونک مارتے جو چیز اڑنی ہوتی وہ اڑ جاتی، اور جو باقی رہ جاتا ہم اسے گوندھ کر روٹی بناتے اور اسے کھا لیتے تھے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4171]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5413)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (عَدَمُ انْتِقَادِ عَيْبٍ فِي الطَّعَامِ)
کھانے میں عیب نہ نکالا جائے
حدیث نمبر: 4172
4172 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ:"مَا عَابَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامًا قَطُّ ، إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر آپ نے اسے پسند کیا تو کھا لیا اور اگر ناپسند کیا تو اسے چھوڑ دیا۔ [متفق علیہ] [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4172]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5409) و مسلم (187/ 2064)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (فَرْقُ أَكْلِ الْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ)
مومن اور کافر کے کھانے کافرق
حدیث نمبر: 4173
4173 - وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا، فَأَسْلَمَ، فَكَانَ يَأْكُلُ قَلِيلًا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:"إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی بہت زیادہ کھایا کرتا تھا، جب وہ مسلمان ہو گیا تو کم کھانے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایک آنت میں کھاتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4173]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5393)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (فَرْقُ أَكْلِ الْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ، بِرِوَايَةِ مُسْلِمٍ)
مومن اور کافر کے کھانے کافرق، بروایت مسلم
حدیث نمبر: 4174
4174 - وَرَوَى مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَابْنِ عُمَرَ الْمُسْنَدَ مِنْهُ فَقَطْ.
امام مسلم رحمہ اللہ نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صرف مسند روایت ہے، اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4174]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (184/ 2061)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (فَرْقُ أَكْلِ الْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ، بِرِوَايَةِ مُسْلِمٍ)
مومن اور کافر کے کھانے کافرق، بروایت مسلم
حدیث نمبر: 4175
4175 - وَرَوَى مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَابْنِ عُمَرَ الْمُسْنَدَ مِنْهُ فَقَطْ.
امام مسلم رحمہ اللہ نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صرف مسند روایت ہے، «رَوَاهُ مُسْلِمٌ» ”اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے“، «رَوَاهُ مُسْلِمٌ» ”اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4175]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (182/ 2060)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ بِمِعَةٍ وَاحِدَةٍ وَالْكَافِرُ بِسَبْعِ مِعًى)
مؤمن ایک اور کافر سات انتڑیوں سے کھاتا پیتا ہے
حدیث نمبر: 4176
4176 - وَفِي أُخْرَى لَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَافَهُ ضَيْفٌ وَهُوَ كَافِرٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ، فَشَرِبَ حِلَابَهَا، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ، ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ، فَشَرِبَ حِلَابَهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرَى، فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ".
اور صحیح مسلم کی دوسری روایت جو کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ایک کافر شخص مہمان ٹھہرا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بکری کے متعلق فرمایا تو اس کا دودھ دوہا گیا، اس نے اس کا سارا دودھ پی لیا، پھر دوسری کا دودھ دوہا گیا تو اس نے وہ بھی پی لیا، پھر ایک اور کا دودھ دوہا گیا، اس نے اسے بھی پی لیا، حتیٰ کہ اس نے سات بکریوں کا دودھ پی لیا، پھر اگلے روز اس نے اسلام قبول کر لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کے متعلق حکم فرمایا، اس کا دودھ دوہا گیا اس نے اس کا دودھ پی لیا، پھر دوسری کے متعلق حکم دیا گیا تو وہ دوسری کا سارا دودھ نہ پی سکا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایک آنت میں پیتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4176]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2063/186)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (طَعَامُ اثْنَيْنِ كَافٍ لِثَلَاثَةٍ)
دو کا کھانا تین کے لئے کافی ہوتا ہے
حدیث نمبر: 4177
4177 - وَعَنْهُ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ ، وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”دو (آدمیوں) کا کھانا تین کے لیے کافی ہوتا ہے جبکہ تین کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4177]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (5392) و مسلم (2058/178)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بَيَانُ الْكَفَايَةِ فِي الْأَكْلِ)
کھانے میں کفایت کا بیان
حدیث نمبر: 4178
4178 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ ، وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے، دو کا کھانا چار کے لیے اور چار کا کھانا آٹھ کے لیے کافی ہوتا ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4178]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2059/179)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح