🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (وُجُوبُ الْوُضُوءِ عِنْدَ خُرُوجِ الرِّيَاحِ)
ریاح خارج ہونے پر وضو واجب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4209
4209 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، فَقُدِّمَ إِلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ  ؟ قَالَ:"إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالنَّسَائِيُّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیت الخلا سے باہر تشریف لائے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، صحابہ نے عرض کیا: کیا ہم آپ کی خدمت میں وضو کا پانی پیش نہ کریں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے وضو کا حکم صرف اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز پڑھنے کا ارادہ کروں۔ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی وابوداؤد والنسائی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4209]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (1847 وقال: حسن) و أبو داود (3760) و النسائي (85/1 ح 132) [ومسلم (374/118) و ذکره البغوي في مصابيح السنة (314) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وُجُوبُ الْوُضُوءِ عِنْدَ خُرُوجِ الرِّيَاحِ، بِرِوَايَةِ ابْنِ مَاجَهْ)
ریاح خارج ہونے پر وضو واجب، بروایت ابن ماجہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4210
4210 - وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے، «رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه» اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4210]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه ابن ماجه (3261)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْأَكْلُ مِنْ حَافَةِ الْإِنَاءِ)
برتن کے کنارے سے کھانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4211
4211 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ. فَقَالَ:"كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا، وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا ; فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَالدَّارِمِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ:"إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَأْكُلْ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ  ، وَلَكِنْ يَأْكُلُ مِنْ أَسْفَلِهَا ; فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا".
ابن عباس رضی اللہ عنہما، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ثرید کا پیالہ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے کناروں سے کھاؤ اور اس کے وسط سے نہ کھاؤ، کیونکہ برکت وسط میں نازل ہوتی ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ پیالے (پلیٹ) کے بالائی حصے سے نہ کھائے، بلکہ وہ اس کے نچلے حصے (یعنی اپنے آگے اور قریب) سے کھائے، کیونکہ برکت اس کے بالائی حصے میں نازل ہوتی ہے۔ [حسن، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4211]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (1805) و ابن ماجه (3277) و الدارمي (100/2 ح 2052) و أبو داود (3772)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَوَاضُعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انکساری
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4212
4212 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: مَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ  ، وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ رَجُلَانِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کبھی تکیہ لگا کر کھانا کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی آپ کے پیچھے دو آدمی چلتے ہوئے دیکھے گئے۔ «إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ»، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4212]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أبو داود (3770)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَكْلُ الْمَطْبُوخِ بِالنَّارِ لَا يُبْطِلُ الْوُضُوءَ)
آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے سے وجو نہیں ٹوٹتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4213
4213 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخُبْزٍ وَلَحْمٍ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ  ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَلَمْ نَزِدْ عَلَى أَنْ مَسَحْنَا أَيْدِيَنَا بِالْحَصْبَاءِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ آپ کی خدمت میں روٹی اور گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے تناول فرمایا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ کھایا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور ہم نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ ہم نے کنکریوں کے ساتھ اپنے ہاتھ صاف کر لیے۔ (صحیح، رواہ ابن ماجہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4213]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه ابن ماجه (3300)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا دَاءَ إِلَّا وَلَهُ دَوَاءٌ)
کوئی بیماری لاعلاج نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4214
4214 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ بِلَحْمٍ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ  ، فَنَهَسَ مِنْهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گوشت کی دستی پیش کی گئی اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دستی کا گوشت پسند فرمایا کرتے تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دانتوں کے ساتھ اس سے نوچ لیا۔ (صحیح، رواہ الترمذی و ابن ماجہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4214]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (1837 وقال: حسن صحيح) و ابن ماجه (3307)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَكْلُ اللَّحْمِ بِالِسِّكِّينِ مِنْ عَادَاتِ الْعَجَمِ)
گوشت چھری سے کاٹ کر کھانا عجمی تہذیب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4215
4215 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ ; فَإِنَّهُ مِنْ صُنْعِ الْأَعَاجِمِ  ، وَانْهَسُوهُ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ"وَقَالَا: لَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھری کے ساتھ (پکے ہوئے) گوشت کو مت کاٹو کیونکہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، بلکہ اسے دانتوں کے ساتھ کھاؤ، کیونکہ ایسا کرنا زیادہ لذیذ اور کھانے میں زیادہ سہل ہے۔ ابوداؤد، بیہقی فی شعب الایمان، اور دونوں نے فرمایا: یہ روایت قوی نہیں۔ اس کی سند ضعیف ہے، اسے ابوداؤد اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4215]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (3778) و البيھقي في شعب الإيمان (5898)
٭ فيه أبو معشر نجيح: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (النَّهْيُ عَنِ الْكَيِّ فِي الْعِلَاجِ)
علاج کے لیے داغنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4216
4216 - وَعَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ عَلِيٌّ، وَلَنَا دَوَالٍ مُعَلَّقَةٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْكُلُ وَعَلِيٌّ مَعَهُ يَأْكُلُ  ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَلِيٍّ:"مَهْ يَا عَلِيُّ، فَإِنَّكَ نَاقِهٌ"، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ لَهُمْ سِلْقًا وَشَعِيرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا عَلِيُّ! مِنْ هَذَا فَأَصِبْ ; فَإِنَّهُ أَوْفَقُ لَكَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ام منذر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے گھر تشریف لائے اور علی رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ہمراہ تھے، ہمارے گھر میں کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انہیں تناول فرمانے لگے اور علی رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ کھانے لگے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: علی! باز رہو، کیونکہ تم ابھی ابھی صحت یاب ہوئے ہو۔ وہ بیان کرتی ہیں، میں نے ان کے لیے چقندر اور جو پکائے تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی! یہ کھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے زیادہ موزوں ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4216]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (364/6 ح 27593) و الترمذي (2037 وقال: حسن غريب) و ابن ماجه (3442)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَنْظِيفُ الْإِنَاءِ جَيِّدًا بَعْدَ الطَّعَامِ)
کھانے کا برتن اچھی طرح صاف کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4217
4217 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْجِبُهُ الثُّفْلُ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو برتن (ہنڈیا، دیگچی) کے پیندے کے ساتھ لگا ہوا کھانا پسند تھا۔ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی والبہیقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4217]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (في الشمائل: 183) و البيھقي في شعب الإيمان (5924) [و الحاکم (115/4. 116) و صححه الذهبي]
٭ فيه حميد الطويل مدلس و عنعن .
تعديلات [4217] :
إسناده صحيح، رواه الترمذي (في الشمائل: 183) و البيھقي في شعب الإيمان (5924) [و الحاکم (115/4. 116) و صححه الذهبي] »
قال الشيخ الألباني:
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اسْتِغْفَارُ الْإِنَاءِ)
پیالے کا استغفار کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4218
4218 - وَعَنْ نُبَيْشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ فَلَحَسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ، وَالدَّارِمِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
نبیشہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی برتن میں کھا کر اسے اچھی طرح صاف کرتا ہے تو وہ برتن اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہے۔ احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی۔ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ» اس کی سند ضعیف ہے، اسے احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الأطعمة/حدیث: 4218]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (76/5 ح 21001) و الترمذي (1804) و ابن ماجه (3271) و الدارمي (96/2 ح 2033)
٭ أم عاصم: لم أجد لھا توثيقًا .»
قال الشيخ الألباني:
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں