🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (عَدَمُ مَشْيِ الرَّجُلِ بَيْنَ النِّسَاءِ)
مرد، عورتوں کے درمیان نہ چلے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4728
4728 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يَمْشِيَ - يَعْنِي الرَّجُلُ - بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا کہ ”آدمی دو عورتوں کے درمیان چلے۔“ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ جِدًّا» ”اس کی سند بہت ضعیف ہے“، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4728]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه أبو داود (5273)
٭ فيه داود بن أبي صالح المدني: منکر الحديث وقال: أبو حاتم الرازي: ’’مجھول حدّث بحديث منکر‘‘.»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْجُلُوسُ حَيْثُ تُوجَدُ فُرْصَةٌ فِي الْمَجْلِسِ)
مجلس میں جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4729
4729 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي  . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَذُكِرَ حَدِيثَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي"بَابِ الْقِيَامِ". وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَلِيٍّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فِي"بَابِ أَسْمَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصِفَاتِهِ"إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے ہر شخص کو جہاں جگہ ملتی وہ وہیں بیٹھ جاتا تھا۔ سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی دو حدیثیں باب القیام میں ذکر کی گئی ہیں، اور علی و ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی دو حدیثیں ہم ان شاء اللہ تعالیٰ باب اسماء النبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم و صفاتہ میں ذکر کریں گے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4729]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (4825) [و الترمذي (2725) ]
٭ شريک القاضي مدلس و عنعن و لم أجد من تابعه و للحديث شاھد ضعيف في المعجم الکبير للطبراني (7197) وحديث البخاري (66) و مسلم (2176) يغني عنه .
حديث عبد الله بن عمرو تقدم (4703) و حديث علي يأتي (5790) و حديث أبي ھريرة يأتي (5795)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جُ Common Phrasesالْجُلُوسُ الْمُوجِبُ لِغَضَبِ اللَّهِ تَعَالَى)
اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والی بیٹھک
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4730
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 4730 - عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: مَرَّ بِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا جَالِسٌ هَكَذَا وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِي الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي وَاتَّكَأْتُ عَلَى أَلْيَةِ يَدِي  . قَالَ:"أَتَقْعُدُ قِعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ؟". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عمرو بن شريد اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی پشت کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ کے پاس جو گوشت ہے اس پر ٹیک لگائی ہوئی تھی، اسی حالت میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پر غضب ہوا (یعنی یہود)؟“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4730]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4848)
٭ فيه ابن جريج مدلس و عنعن و لم أجد تصريح سماعه في السند الموصول .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جُلُوسُ أَهْلِ النَّارِ)
آگ والوں کا بیٹھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4731
4731 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ:"يَا جُنْدُبُ! إِنَّمَا هِيَ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے چونکا مارا اور فرمایا: ”جندب! یہ تو جہنمیوں کا سا لیٹنا ہے۔“ صحیح، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4731]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه ابن ماجه (3724)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (آدَابُ الْعُطَاسِ وَالتَّثَاؤُبِ)
چھینکنے اور جمائی کے آداب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4732
(6) بَابُ الْعُطَاسِ وَالتَّثَاؤُبِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 4732 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ  ، فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ وَحَمِدَ اللَّهَ كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَثَاءَبَ ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ:"فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَالَ: هَا، ضَحِكَ الشَّيْطَانُ مِنْهُ"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ چھینکنے کو پسند فرماتا ہے اور جمائی لینے کو ناپسند فرماتا ہے۔ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے اور «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہے، تو اسے سننے والے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اسے «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“ کہے۔ رہی جمائی تو وہ شیطان کی طرف سے ہے، جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو وہ اسے روکنے کی مقدور بھر کوشش کرے، کیونکہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے۔“ بخاری۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے: ”کیونکہ تم میں سے کوئی ایک (جمائی کے وقت) آواز نکالتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے۔“ اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4732]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6226، الرواية الأولي، 6223 والرواية الثانية) ومسلم (2994/56 الرواية الثانية)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه البخاري (6226)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جَوَابُ الْعُطَاسِ)
چھینک کا جواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4733
4733 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ  ، وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فَإِذَا قَالَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَلْيَقُلْ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ"رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہے اور اس کا (مسلمان) بھائی یا اس کا ساتھی اسے «یَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“ کہے، جب وہ اسے «یَرْحَمُكَ اللّٰهُ» کہے تو یہ (چھینک مارنے والا) کہے: «یَهْدِيْكُمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے۔““ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4733]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6224)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ يَسْتَحِقُّ الْجَوَابَ)
الحمد للہ کہنے والا جواب کا مستحق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4734
4734 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ. فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! شَمَّتَّ هَذَا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي  قَالَ:"إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَلَمْ تَحْمَدِ اللَّهَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، دو آدمیوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چھینک ماری تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان میں سے ایک کو چھینک کا جواب دیا جبکہ دوسرے کو نہ کہا، تو اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی جبکہ میرے لیے دعا نہیں فرمائی، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس لیے کہ اس نے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ کہا، جبکہ تم نے «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ نہیں کہا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4734]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6225) و مسلم (2991/53)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ الرَّدِّ إِذَا لَمْ يَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ)
الحمد للہ نہ کہنے پر جواب نہ دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4735
4735 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ  ، وَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَا تُشَمِّتُوهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کوئی چھینک مارے اور «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ کہے تو تم اسے دعا دو، اور اگر وہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ نہ کہے تو تم اس کے لیے دعا نہ کرو۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4735]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2992/54)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كَثْرَةُ الْعُطَاسِ عَلَامَةُ الزُّكَامِ)
بار بار چھینک آنا زکام کی علامت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4736
4736 - وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ:"يَرْحَمُكَ اللَّهُ"ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى، فَقَالَ:"الرَّجُلُ مَزْكُومٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ، وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ قَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ:"إِنَّهُ مَزْكُومٌ".
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا، جبکہ ایک آدمی نے آپ کے پاس چھینک ماری، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے فرمایا: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“ پھر اس نے دوسری مرتبہ چھینک ماری تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بندے کو زکام لگا ہوا ہے۔“ اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے تیسری مرتبہ (چھینک آنے پر) فرمایا کہ ”اسے زکام لگا ہوا ہے۔“ رواہ مسلم والترمذي۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4736]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2993/55) و الترمذي (2743)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُخُولُ الشَّيْطَانِ فِي الْفَمِ عِنْدَ التَّثَاؤُبِ)
جمائی کے وقت شیطان منھ میں داخل ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4737
4737 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْسِكْ بِيَدِهِ عَلَى فَمِهِ  ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھے کیونکہ شیطان (منہ میں) داخل ہو جاتا ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4737]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2995/57)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں