Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (وَضْعُ الْيَدِ أَوِ الثَّوْبِ عَلَى الْفَمِ عِنْدَ الْعُطَاسِ)
چھینکتے وقت اپنا ہاتھ یا کپڑا منہ پر رکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4738
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَطَسَ غَطَّى وَجْهَهُ بِيَدِهِ أَوْ ثَوْبِهِ وَغَضَّ بِهَا صَوْتَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب چھینک مارتے تو آپ اپنے ہاتھ یا اپنے کپڑے سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیتے اور اس کے ساتھ وہ اپنی آواز پست کرتے تھے۔ ترمذی، ابوداؤد، اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4738]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2745) و أبو داود (5029)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جَوَابُ الْعُطَاسِ الْكَامِلُ)
چھینک کا مکمل جواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4739
وَعَن أبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذا عطسَ أحدكُم فلْيقلْ: الحمدُ لله عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلِ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ: يَرْحَمك الله وَليقل هُوَ: يهديكم وَيصْلح بالكم رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ کہے: ہر حال پر اللہ کا شکر ہے۔ اور جو شخص اسے جواب دے تو وہ کہے: اللہ تم پر رحم فرمائے۔ اور وہ (چھینک مارنے والا) کہے: اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے۔ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی و الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4739]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2741) [و ابن ماجه (3715) ] و الدارمي (283/2 ح 2662)
٭ محمد بن أبي ليلي ضعيف و حديث البخاري (6224) يغني عنه .»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جَوَابُ عُطَاسِ الْيَهُودِ)
یہودیوں کی چھینک کا جواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4740
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُونَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ: يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ فَيَقُولُ: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، یہود، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس امید پر چھینک مارا کرتے تھے کہ آپ انہیں ((یَرْحَمُکُمُ اللہ)) کہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہا کرتے تھے: اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے۔ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4740]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (2739 وقال: حسن صحيح) و أبو داود (5038)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ جَوَازِ النَّقْصِ أَوِ الزِّيَادَةِ فِي الدُّعَاءِ الْمَسْنُونِ)
مسنون دعاؤں میں کمی بیشی جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4741
وَعَن هلالِ بن يسَاف قَالَ: كُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ: وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ. فَكَأَنَّ الرَّجُلَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَقُلْ إِلَّا مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ يَرُدُّ عَلَيْهِ: يرحمكَ اللَّهُ وَليقل: يغْفر لي وَلكم رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں، ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے کہ اتنے میں لوگوں میں سے ایک آدمی نے چھینک ماری تو اس نے کہا: السلام علیکم! (یہ سن کر) سالم نے کہا: تجھ پر اور تیری ماں پر، گویا اس آدمی نے اپنے دل میں کچھ ناراضی محسوس کی، انہوں نے فرمایا: سن لو! میں نے تمہیں صرف وہی کچھ کہا ہے جو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا تھا (ایک دفعہ) ایک آدمی نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چھینک ماری تو اس نے کہا: السلام علیکم! نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجھ پر اور تیری ماں پر، (پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا) جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ ((اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ)) کہے، اور جو اسے جواب دے تو وہ کہے: ((یَرْحَمُکَ اللہُ))، اور پھر وہ کہے: اللہ مجھے اور تمہیں بخش دے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4741]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2740) و أبو داود (5031)
٭ قال الحاکم: ’’الوھم في رواية جرير (بن عبد الحميد) ھذه ظاهر فإن ھلال بن يساف لم يدرک سالم بن عبيد و لم يروه و بينھما رجل مجھول‘‘ فالسند معلل .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الرَّدُّ عَلَى الْعُطَاسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ)
چھینک والے کو تین دفعہ جواب دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4742
وَعَن عبيد بن رِفَاعَة عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «شَمِّتِ الْعَاطِسَ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
عبید بن رفاعہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چھینک مارنے والے کو تین مرتبہ دعائیہ جواب دو، وہ اگر اس سے زیادہ مرتبہ چھینک مارے تو پھر اگر تم چاہو تو اسے دعائیہ جواب دو اور اگر تم چاہو تو (جواب) نہ دو۔ ابوداؤد، ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد و الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4742]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (5036) و الترمذي (2744)
٭ عبيدة: لا يعرف حالھا وحميدة لم يوثقھا غير ابن حبان و أبو خالد يزيد بن عبد الرحمٰن الدالاني مدلس و عنعن .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ وُجُوبِ الرَّدِّ عَلَى عُطَاسِ مَنْ بِهِ زُكَامٌ)
زکام والے کی چھینک کا جواب لازم نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4743
وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: «شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا أَنَّهُ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اپنے (مسلمان) بھائی کو (چھینک مارنے کے جواب میں) تین بار دعائیہ جواب دو، اگر چھینکوں میں اضافہ ہو جائے تو وہ زکام ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ اور انہوں (راوی سعید المقبری) نے کہا: میں ان کے متعلق یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے حدیث کو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف مرفوع کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4743]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (5034)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْغَضَبُ عَلَى جَوَابِ الْعُطَاسِ الْخَاطِئِ)
چھینک کے غلط جواب پر ناراضگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4744
عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ إِلَى جَنْبِ ابْن عمَرَ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأَنَا أَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَلَيْسَ هَكَذَا. عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَ َّمَ أَنْ نَقُولَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
نافع ؒ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں چھینک ماری تو کہا: اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام ہو، (یہ سن کر) ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں بھی کہتا ہوں: ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے، اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام ہو۔ مگر اس طرح کہنا ثابت نہیں ہے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سکھایا تھا کہ ہم کہیں: ہر حال پر اللہ کا شکر ہے۔ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4744]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2738)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَبَسُّمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسکراہٹ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4745
عَن عائشةرضي اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يتبسم. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھلکھلا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ کے حلق کا کوا دیکھ سکوں، آپ تو صرف مسکرایا کرتے تھے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4745]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6092)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَبَسُّمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسکراہٹ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4746
وَعَن جرير قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ. مُتَّفق عَلَيْهِ
جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے (مجلس میں آنے سے) منع نہیں کیا اور آپ جب بھی مجھے دیکھتے تو مسکراتے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4746]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6089) و مسلم (2475/134)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (التَّبَسُّمُ عَلَى أَحَادِيثِ الْجَاهِلِيَّةِ)
زمانہ جاہلیت کی باتوں پر مسکرانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4747
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّة فيضحكون ويبتسم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَة لِلتِّرْمِذِي: يتناشدون الشِّعْرَ
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس جگہ نماز پڑھتے تو وہاں سے طلوعِ آفتاب تک نہیں اٹھتے تھے، اور جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے، اور (اس دوران) صحابہ کرام رضی اللہ عنہ باتیں کرتے اور اُمورِ جاہلیت پر گفتگو کیا کرتے اور ہنستے تھے جبکہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقط تبسم فرمایا کرتے تھے۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے: وہ شعر پڑھا کرتے تھے۔ رواہ مسلم و الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4747]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2322/69) و الترمذي (2850 وقال: حسن صحيح)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں