🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (وَضْعُ الْيَدِ أَوِ الثَّوْبِ عَلَى الْفَمِ عِنْدَ الْعُطَاسِ)
چھینکتے وقت اپنا ہاتھ یا کپڑا منہ پر رکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4738
الْفَصْلُ الثَّانِي 4738 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا عَطَسَ غَطَّى وَجْهَهُ بِيَدِهِ أَوْ ثَوْبِهِ، وَغَضَّ بِهَا صَوْتَهُ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب چھینک مارتے تو آپ اپنے ہاتھ یا اپنے کپڑے سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیتے اور اس کے ساتھ وہ اپنی آواز پست کرتے تھے۔ ترمذی، ابوداؤد، اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ» ”اس کی سند حسن ہے، اسے ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4738]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2745) و أبو داود (5029)»
قال الشيخ الألباني: إِسْنَاده جيد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جَوَابُ الْعُطَاسِ الْكَامِلُ)
چھینک کا مکمل جواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4739
4739 - وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ  ، وَلْيَقُلِ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ هُوَ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ.
ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ کہے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى كُلِّ حَالٍ» ”ہر حال پر اللہ کا شکر ہے۔“ اور جو شخص اسے جواب دے تو وہ کہے: «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے۔“ اور وہ (چھینک مارنے والا) کہے: «يَهْدِيكمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے۔““ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی والدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4739]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2741) [و ابن ماجه (3715) ] و الدارمي (283/2 ح 2662)
٭ محمد بن أبي ليلي ضعيف و حديث البخاري (6224) يغني عنه .»
قال الشيخ الألباني: إِسْنَاده جيد
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (جَوَابُ عُطَاسِ الْيَهُودِ)
یہودیوں کی چھینک کا جواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4740
4740 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ:. كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْجُونَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ: يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ، فَيَقُولُ:"يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہود، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس امید پر چھینک مارا کرتے تھے کہ آپ انہیں «يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ» کہیں، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہا کرتے تھے: ”يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ“ ”اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے۔“ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4740]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (2739 وقال: حسن صحيح) و أبو داود (5038)»
قال الشيخ الألباني: إِسْنَاده جيد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ جَوَازِ النَّقْصِ أَوِ الزِّيَادَةِ فِي الدُّعَاءِ الْمَسْنُونِ)
مسنون دعاؤں میں کمی بیشی جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4741
4741 - وَعَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ: وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ. فَكَأَنَّ الرَّجُلَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَقُلْ إِلَّا مَا قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ، إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ  ، وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ يَرُدُّ عَلَيْهِ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ.
ہلال بن یساف رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ہم سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ اتنے میں لوگوں میں سے ایک آدمی نے چھینک ماری تو اس نے کہا: السلام علیکم! (یہ سن کر) سالم رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تجھ پر اور تیری ماں پر۔“ گویا اس آدمی نے اپنے دل میں کچھ ناراضی محسوس کی، انہوں نے فرمایا: سن لو! میں نے تمہیں صرف وہی کچھ کہا ہے جو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا تھا، (ایک دفعہ) ایک آدمی نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چھینک ماری تو اس نے کہا: السلام علیکم! نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر اور تیری ماں پر، (پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا) جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ» کہے، اور جو اسے جواب دے تو وہ کہے: «یَرْحَمُکَ اللہُ»، اور پھر وہ کہے: اللہ مجھے اور تمہیں بخش دے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی وابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4741]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2740) و أبو داود (5031)
٭ قال الحاکم: ’’الوھم في رواية جرير (بن عبد الحميد) ھذه ظاهر فإن ھلال بن يساف لم يدرک سالم بن عبيد و لم يروه و بينھما رجل مجھول‘‘ فالسند معلل .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الرَّدُّ عَلَى الْعُطَاسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ)
چھینک والے کو تین دفعہ جواب دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4742
4742 - وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"شَمِّتِ الْعَاطِسَ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَشَمِّتْهُ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
عبید بن رفاعہ رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”چھینک مارنے والے کو تین مرتبہ دعائیہ جواب دو، وہ اگر اس سے زیادہ مرتبہ چھینک مارے تو پھر اگر تم چاہو تو اسے دعائیہ جواب دو اور اگر تم چاہو تو (جواب) نہ دو۔“ ابوداؤد، ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ «إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ» ”اس کی سند ضعیف ہے، اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4742]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (5036) و الترمذي (2744)
٭ عبيدة: لا يعرف حالھا وحميدة لم يوثقھا غير ابن حبان و أبو خالد يزيد بن عبد الرحمٰن الدالاني مدلس و عنعن .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ وُجُوبِ الرَّدِّ عَلَى عُطَاسِ مَنْ بِهِ زُكَامٌ)
زکام والے کی چھینک کا جواب لازم نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4743
4743 - وَعَنْ أَبَى هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ:"شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلَاثًا، فَإِنْ زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَقَالَ: لَا أَعْلَمُهُ. إِلَّا أَنَّهُ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”اپنے (مسلمان) بھائی کو (چھینک مارنے کے جواب میں) تین بار دعائیہ جواب دو، اگر چھینکوں میں اضافہ ہو جائے تو وہ زکام ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد۔ اور انہوں (راوی سعید المقبری) نے کہا: میں ان کے متعلق یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے حدیث کو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف مرفوع کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4743]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (5034)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الْغَضَبُ عَلَى جَوَابِ الْعُطَاسِ الْخَاطِئِ)
چھینک کے غلط جواب پر ناراضگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4744
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 4744 - عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأَنَا أَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، وَلَيْسَ هَكَذَا عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَقُولَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں چھینک ماری تو کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَالسَّلَامُ عَلَىٰ رَسُولِ اللّٰهِ» ”اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام ہو“، (یہ سن کر) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں بھی کہتا ہوں: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَالسَّلَامُ عَلَىٰ رَسُولِ اللّٰهِ» ”ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے، اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام ہو“، مگر اس طرح کہنا ثابت نہیں ہے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سکھایا تھا کہ ہم کہیں: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَىٰ كُلِّ حَالٍ» ”ہر حال پر اللہ کا شکر ہے۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ اس کی سند حسن ہے، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4744]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2738)»
قال الشيخ الألباني: إِسْنَاده جيد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَبَسُّمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسکراہٹ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4745
(7) بَابُ الضَّحِكِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 4745 - عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَبْتَسِمُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھلکھلا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ کے حلق کا کوا دیکھ سکوں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو صرف مسکرایا کرتے تھے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4745]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6092)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَبَسُّمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسکراہٹ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4746
4746 - وَعَنْ جَرِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے (مجلس میں آنے سے) منع نہیں کیا اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی مجھے دیکھتے تو مسکراتے۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4746]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6089) و مسلم (2475/134)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (التَّبَسُّمُ عَلَى أَحَادِيثِ الْجَاهِلِيَّةِ)
زمانہ جاہلیت کی باتوں پر مسکرانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4747
4747 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ  ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَكُونَ، وَيَتَبَسَّمُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ: يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس جگہ نماز پڑھتے تو وہاں سے طلوعِ آفتاب تک نہیں اٹھتے تھے، اور جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے، اور (اس دوران) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم باتیں کرتے اور امورِ جاہلیت پر گفتگو کیا کرتے اور ہنستے تھے جبکہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقط تبسم فرمایا کرتے تھے۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے: وہ شعر پڑھا کرتے تھے۔ رواہ مسلم والترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4747]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2322/69) و الترمذي (2850 وقال: حسن صحيح)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں