مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (مَنْ رَبَّى ابْنَتَيْنِ يَكُونُ مَعِي يَوْمَ القِيَامَةِ)
دو بیٹیوں کی پرورش والا قیامت کے دن میرے ساتھ ہو گا
حدیث نمبر: 4950
4950 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ هَكَذَا، وَضَمَّ أَصَابِعَهُ) . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دو بچیوں کی پرورش کی حتیٰ کہ وہ بالغ ہو گئیں، تو وہ روزِ قیامت اس طرح آئے گا کہ میں اور وہ اس طرح ہوں گے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں ملائیں۔ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4950]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (149/ 2631)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (إِكْرَامُ مَنْ يَخْدُمُ الأَرْمَلَةَ وَالمِسْكِينَ)
بیوہ اور مسکین کی خدمت کرنے والے کا اعزاز
حدیث نمبر: 4951
4951 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالسَّاعِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ". وَأَحْسَبُهُ قَالَ:"كَالْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ وَكَالصَّائِمِ لَا يُفْطِرُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اور مسکین کی ضرورتوں کا خیال رکھنے والا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔“ اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ قیام کرنے (تہجد پڑھنے) والے کی طرح ہے جو سستی نہیں کرتا، اور اس روزہ دار کی طرح ہے جو افطار نہیں کرتا (مسلسل روزے رکھتا ہے)۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4951]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6007) و مسلم (2982/41)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (بُشْرَى لِلَّذِينَ يَعْتَنُونَ بِالْيَتَامَى)
یتیم کی کفالت کرنے والے کے لیے خوش خبری
حدیث نمبر: 4952
4952 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ وَلِغَيْرِهِ، فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا"وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا شَيْئًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا، خواہ یتیم اس کا اپنا ہو یا کسی اور کا، جنت میں اس طرح ہوں گے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ فرمایا اور پھر ان دونوں (انگلیوں) کے درمیان کچھ فرق کیا۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4952]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5304)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ)
مومنین کی مثال
حدیث نمبر: 4953
4953 - وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ إِذَا اشْتَكِي عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آپ مؤمنوں کو باہم رحمت و مہربانی کرنے، باہم محبت اور معاونت کرنے میں، جسم کی مانند پائیں گے، جب کوئی عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کا سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا رہتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4953]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6011) و مسلم (2586/66)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَشَقَّةُ مُسْلِمٍ وَاحِدٍ مَشَقَّةُ جَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ)
ایک مسلمان کی تکلیف تمام مسلمانوں کی تکلیف
حدیث نمبر: 4954
4954 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ، إِنِ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ ، وَإِنِ اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمام مومن فردِ واحد کی طرح ہیں، اگر اس کی آنکھ دکھتی ہے تو اس کا سارا جسم دکھتا ہے، اور اگر اس کا سر تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو بھی اس کا سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4954]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2586/67)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مُؤْمِنٌ كَجِدَارٍ لِلْآخَرِينَ)
ایک مؤمن دوسرے کی دیوار کی طرح
حدیث نمبر: 4955
4955 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا"، ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مومن (دوسرے) مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4955]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6026) و مسلم (2585/65)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (أَجْرُ الشَّفَاعَةِ وَثَوَابُهَا)
سفارش کا اجر و ثواب
حدیث نمبر: 4956
4956 - وَعَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَتَاهُ السَّائِلُ أَوْ صَاحِبُ الْحَاجَةِ قَالَ:"اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا وَيَقْضِي اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ مَا شَاءَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب سائل یا کوئی ضرورت مند شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: ”تم (مجھ سے) سفارش کرو تمہیں اجر ملے گا، اور اللہ جو چاہے گا وہ اپنے رسول کی زبان پر جاری فرما دے گا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4956]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7476) و مسلم 2627/145)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مُسَاعَدَةُ الظَّالِمِ وَالْمَظْلُومِ)
ظالم اور مظلوم کی مدد
حدیث نمبر: 4957
4957 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْصُرُهُ مَظْلُومًا، فَكَيْفَ أَنْصُرُهُ ظَالِمًا؟ قَالَ:"تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ، فَذَلِكَ نَصْرُكَ إِيَّاهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے (مسلمان) بھائی کی مدد کرو، وہ ظالم ہو یا مظلوم۔“ کسی آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں مظلوم کی تو مدد کروں گا لیکن ظالم کی مدد کیسے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اسے ظلم سے روکنا، یہی تمہارا اس کی مدد کرنا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4957]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6952) و مسلم (2584/62)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الْمُسْلِمُونَ إِخْوَةٌ بَيْنَهُمْ)
مسلمان آپس میں بھائی ہیں
حدیث نمبر: 4958
4958 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يُسْلِمُهُ ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ تو وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے (ظالم کے) سپرد کرتا ہے، اور جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو تو اللہ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے، اور جو شخص کسی مسلمان کی کوئی پریشانی دور کرتا ہے تو اللہ اس سے قیامت کے روز کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور فرما دے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے تو روزِ قیامت اللہ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4958]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2442) و مسلم (2580/58)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (كَيْفَ يَتَعَايَشُ الْمُسْلِمُونَ بَيْنَهُمْ؟)
مسلمان آپس میں کیسے رہیں؟
حدیث نمبر: 4959
4959 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -"الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ ، وَلَا يَحْقِرُهُ، التَّقْوَى هَهُنَا". وَيُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ"بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر خیال کرتا ہے، «التَّقْوَى هَا هُنَا» ”تقویٰ یہاں ہے“۔“ اور آپ نے اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ کیا: ”کسی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر خیال کرے، ہر مسلمان کا خون، اس کا مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4959]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2564/32)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح