مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (وَعِيدٌ عَلَى قَطِيعَةِ الرَّحِمِ)
صلہ رحمی نہ کرنے پر وعید
حدیث نمبر: 4930
4930 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا اللَّهُ، وَأَنَا الرَّحْمَنُ، خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنِ اسْمِي، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ ، وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میں اللہ ہوں اور میں رحمن ہوں، میں نے رحم تخلیق کیا اور اس کا نام اپنے نام (رحمن) سے تجویز کیا، جس نے اسے جوڑا میں اسے جوڑوں گا اور جس نے اسے توڑا تو میں اسے (اپنی رحمت سے) محروم کر دوں گا۔“ صحیح، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4930]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أبو داود (1694) [و الترمذي (1907 وقال: صحيح) ] »
قال الشيخ الألباني: حسن صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (القَوْمُ الَّذِينَ فِيهِمْ عَدَمُ الرَّحْمَةِ)
جس قوم میں بے رحمی ہو
حدیث نمبر: 4931
4931 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"لَا تَنْزِلُ الرَّحْمَةُ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ قَاطِعُ الرَّحِمِ"رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس قوم میں قطع رحمی کرنے والا شخص ہو اس پر رحمت نازل نہیں ہوتی۔“ (اسنادہ ضعیف جدا، رواہ البیھقی فی شعب الایمان)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4931]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه البيھقي في شعب الإيمان (7962، نسحة محققة: 7590) [والبغوي في شرح السنة (28/13 ح 3439. 3440) والبخاري في الأدب المفرد (63) و فيه أبو إدام سليمان بن زيد المحاربي وھو ضعيف جدًا متھم] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا
--. (عُقُوبَةُ ذَنْبَيْنِ فِي الدُّنْيَا أَيْضًا)
دو گناہوں کی سزا دنیا میں بھی
حدیث نمبر: 4932
4932 - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا، مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم و سرکشی اور قطع رحمی ایسے گناہ ہیں کہ ان کے مرتکب کو اللہ دنیا میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ اسے آخرت میں بھی ذخیرہ کر لیتا ہے۔“ اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4932]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (2511 وقال: صحيح) و أبو داود (4902)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (ثَلَاثَةُ أَشْخَاصٍ مَحْرُومُونَ مِنَ الجَنَّةِ)
تین لوگ جنت سے محروم
حدیث نمبر: 4933
4933 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ، وَلَا عَاقٌّ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ، وَالدَّارِمِيُّ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”احسان جتلانے والا، والدین کا نافرمان اور مستقل شراب نوش جنت میں نہیں جائے گا۔“ (اسنادہ حسن، رواہ النسائی والدارمی) [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4933]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه النسائي (318/8 ح 5675) و الدارمي (112/2 ح 2099)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (التَّرْغِيبُ فِي حُسْنِ المُعَامَلَةِ مَعَ الأَقَارِبِ)
رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب
حدیث نمبر: 4934
4934 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ ، فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ، مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے نسب کو اس قدر ضرور سیکھو جس کے مطابق تم صلہ رحمی کرتے ہو، کیونکہ صلہ رحمی اہل رحم میں محبت، مال میں اضافے اور درازئ عمر کا باعث ہے۔“ ترمذی، اور فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4934]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1979)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (مَغْفِرَةُ ذَنْبٍ كَبِيرٍ بِإِحْسَانٍ إِلَى الخَالَةِ)
خالہ سے احسان کرنے پر بڑا گناہ معاف
حدیث نمبر: 4935
4935 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ ذَنْبًا عَظِيمًا، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ:"هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟"قَالَ: لَا قَالَ:"وَهَلْ لَكَ مِنْ خَالَةٍ؟"قَالَ: نَعَمْ قَالَ:"فَبِرَّهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، تو کیا میرے لیے توبہ (کی گنجائش) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہاری والدہ ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہاری خالہ ہے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ساتھ حسن سلوک کرو۔“ «إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ» ”اس کی سند صحیح ہے، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4935]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه الترمذي (1904 وقال: صحيح)
٭ و صححه ابن حبان (الموارد: 2022) و الحاکم علي شرط الشيخين (155/4) ووافقه الذهبي .»
٭ و صححه ابن حبان (الموارد: 2022) و الحاکم علي شرط الشيخين (155/4) ووافقه الذهبي .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
--. (الإِحْسَانُ مَعَ الوَالِدَيْنِ المُتَوَفَّيَيْنِ)
فوت شدہ والدین کے ساتھ نیکی
حدیث نمبر: 4936
4936 - وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا ؟ قَالَ:"نَعَمْ، الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا، وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس اثنا میں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اتنے میں بنو سلمہ (کے قبیلے) سے ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا والدین کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی ایسی صورت ہے جس کے ذریعے میں ان کی وفات کے بعد ان سے حسن سلوک کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! ان کے لیے دعا کرو، ان کے لیے مغفرت طلب کرو، ان کے بعد ان کی وصیت پر عمل کرو، وہ جو صلہ رحمی کیا کرتے تھے اسے جاری رکھو اور ان کے دوستوں کی تکریم کرو۔“ (اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4936]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (5142) و ابن ماجه (3664)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (إِكْرَامُ الأُمِّ الرَّضَاعِيَّةِ)
رضاعی ماں کا اکرام
حدیث نمبر: 4937
4937 - وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْسِمُ لَحْمًا بِالْجِعْرَانَةِ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ حَتَّى دَنَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَسَطَ لَهَا رِدَاءَهُ، فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ. فَقُلْتُ مَنْ هِيَ؟، فَقَالُوا: هِيَ أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جعرانہ کے مقام پر گوشت تقسیم کرتے ہوئے دیکھا، اچانک ایک عورت آئی حتیٰ کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے اپنی چادر بچھا دی اور وہ اس پر بیٹھ گئی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو انہوں نے بتایا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی والدہ ہیں۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4937]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (5144)
٭ عمارة بن ثوبان: مستور و جعفر بن يحيي مثله .»
٭ عمارة بن ثوبان: مستور و جعفر بن يحيي مثله .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (قِصَّةُ أَهْلِ الكَهْفِ)
غار والوں کا قصّہ
حدیث نمبر: 4938
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 4938 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَتَمَاشَوْنَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ، فَمَالُوا إِلَى غَارٍ فِي الْجَبَلِ ، فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ، فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا لِلَّهِ صَالِحَةً، فَادْعُوا اللَّهَ بِهَا لَعَلَّهُ يُفَرِّجُهَا ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ كُنْتُ أَرْعَى عَلَيْهِمْ، فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ فَحَلَبْتُ بَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ أَسْقِيهِمَا قَبْلَ وَلَدِي، وَإِنَّهُ قَدْ نَأَى بِي الشَّجَرُ، فَمَا أَتَيْتُ حَتَّى أَمْسَيْتُ، فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا، فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ، فَجِئْتُ بِالْحِلَابِ، فَقُمْتُ عِنْدَ رُؤُوسِهِمَا أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا، وَأَكْرَهُ أَنْ أَبْدَأَ بِالصِّبْيَةِ قَبْلَهُمَا وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ لَنَا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ. فَفَرَجَ اللَّهُ لَهُمْ حَتَّى يَرَوْنَ السَّمَاءَ. قَالَ الثَّانِي: إِنَّهُ كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ أُحِبُّهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ، فَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا، فَأَبَتْ حَتَّى آتِيَهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَسَعَيْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِائَةَ دِينَارٍ، فَلَقِيتُهَا، فَلَمَّا قَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا، قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفْتَحِ الْخَاتَمَ، فَقُمْتُ عَنْهَا. اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا، فَفَرَجَ لَهُمْ فُرْجَةً. وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرْقِ أَرُزٍّ، فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ قَالَ: أَعْطِنِي حَقِّي، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ، فَتَرَكَهُ وَرَغِبَ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا، فَجَاءَنِي فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَظْلِمْنِي وَأَعْطِنِي حَقِّي، فَقُلْتُ: اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْبَقْرِ وَرَاعِيهَا، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَهْزَأْ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَهْزَأُ بِكَ فَخُذْ ذَلِكَ الْبَقْرَ وَرَاعِيَهَا. فَأَخَذَهُ فَانْطَلَقَ بِهَا، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ مَا بَقِيَ فَفَرَجَ اللَّهُ عَنْهُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران کے تین آدمی سفر کر رہے تھے، بارش آئی، انہوں نے پہاڑ میں ایک غار میں پناہ لی، اتنے میں پہاڑ سے ایک چٹان گری اور اس نے ان کی غار کا منہ بند کر دیا۔ چنانچہ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: اپنے اعمال کا جائزہ لو جو تم نے خالص اللہ کی رضا کی خاطر کیے تھے، پھر ان کے ذریعے اللہ سے دعا کرو شاید کہ وہ اس تکلیف (چٹان) کو دور کر دے، ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے بوڑھے والدین تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے، میں ان کے نان و نفقہ کا ذمہ دار تھا، جب میں شام کے وقت مویشی لے کر واپس آتا تو میں دودھ دوہ کر، اپنی اولاد سے پہلے، اپنے والدین کی خدمت میں پیش کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ میں جنگل میں دور نکل گیا جس کی وجہ سے میں شام کے وقت (دیر سے) گھر پہنچا تو میں نے ان دونوں کو سویا ہوا پایا، میں نے حسب معمول دودھ دوہا، پھر میں دودھ کا برتن لے کر آیا اور ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا، میں نے انہیں جگانا مناسب نہ سمجھا اور ان سے پہلے بچوں کو پلانا بھی نامناسب جانا جبکہ بچے میرے قدموں کے پاس بھوکے بلکتے رہے، میری اور ان کی یہی صورت حال رہی حتیٰ کہ صبح ہو گئی، (اے اللہ!) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کی خاطر ایسے کیا تھا تو پھر ہمارے لیے اس قدر راستہ بنا دے کہ ہم وہاں سے آسمان دیکھ لیں، اللہ نے ان کے لیے راستہ کھول دیا حتیٰ کہ وہ آسمان دیکھنے لگے۔ دوسرے نے عرض کیا: اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی، میں اسے اتنا چاہتا تھا جتنا کہ زیادہ سے زیادہ مرد خواتین کو چاہتے ہیں، میں نے اس سے برائی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن اس نے انکار کر دیا، حتیٰ کہ میں اسے سو دینار دوں، میں نے کوشش کر کے سو دینار جمع کیے اور وہ لے کر اس کے پاس گیا، اور جب میں (اس سے برا فعل کرنے کے لیے) اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا: اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر جا اور اس مہر کو نہ توڑ، (یہ سنتے ہی) میں اس سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ تیری رضا کی خاطر کیا تھا تو ہمارے لیے راستہ کھول دے! اللہ نے ان کے لیے کچھ راستہ کھول دیا۔ تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! میں نے ایک فرق (6 ارطل) چاولوں کی اجرت پر ایک مزدور کام پر لگا رکھا تھا، پس جب اس نے اپنا کام مکمل کر لیا تو اس نے کہا: میرا حق مجھے ادا کرو، جب میں نے اس کا حق اس پر پیش کیا تو وہ اسے کمتر سمجھتے ہوئے چھوڑ کر چلا گیا میں اس سے زراعت کرتا رہا حتیٰ کہ میں نے اس سے گائے اور چرواہے جمع کر لیے، وہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا: اللہ سے ڈر جا اور مجھ پر ظلم نہ کر اور میرا حق مجھے ادا کر، میں نے کہا: یہ گائے اور اس کے چرانے والے کو لے جا، اس نے کہا: اللہ سے ڈر! مجھ سے مذاق نہ کر، میں نے کہا: میں تم سے مذاق نہیں کر رہا، تم یہ گائے اور اس کے چرواہے کو لے جاؤ، وہ اسے لے کر چلا گیا۔ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو باقی راستہ بھی کھول دے، چنانچہ اللہ نے ان کے لیے راستہ کھول دیا (اور وہ تکلیف دور کر دی)۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4938]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3465) و مسلم (100/ 2743)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الأُمَّهَاتِ)
ماں کے قدموں میں جنت
حدیث نمبر: 4939
4939 - وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلِهَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ". وَالنَّسَائِيُّ، وَالْبَيْهَقِيُّ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! میں جہاد میں شریک ہونے کے لیے آپ سے مشورہ کرنا چاہتا ہوں“، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہاری والدہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ! اس کے پاس رہو، کیونکہ جنت اس کے قدموں کے پاس ہے۔“ اس کی سند صحیح ہے، اسے امام احمد، نسائی اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4939]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (429/3 ح 15623) و النسائي (11/6 ح 3106) و البيھقي في شعب الإيمان (7833)»
قال الشيخ الألباني: إِسْنَاده جيد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح