🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (ٱلصَّدَاقَةُ وَٱلْعَدَاوَةُ لِلَّهِ)
اللہ کے لیے دوستی اور دشمنی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5021
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 5021 - عَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"أَتَدْرُونَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى؟"قَالَ قَائِلٌ؟ الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ. وَقَالَ قَائِلٌ الْجِهَادُ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى  الْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ الْفَصْلَ الْأَخِيرَ.
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کو کون سے اعمال زیادہ پسند ہیں؟“ صحابہ میں سے کسی نے عرض کیا: نماز، زکاۃ، اور کسی نے عرض کیا: جہاد ہے۔ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل، اللہ کی خاطر محبت کرنا اور اللہ کی خاطر بغض رکھنا ہے۔“ احمد، اور ابوداؤد نے آخری حصہ روایت کیا ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ احمد و ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5021]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أحمد (5/ 146ح 21628) و أبو داود (4599)
٭ يزيد بن أبي زياد: ضعيف و الرجل: مجھول .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مُكْرِمُ رَبِّهِ ٱلْكَرِيمِ)
رب کریم کا اکرام کرنے والا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5022
5022 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا أَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلَّهِ إِلَّا أَكْرَمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر کسی شخص سے محبت کرتا ہے تو وہ اپنے رب عز وجل کی تکریم کرتا ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5022]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (259/5 ح 22582، نسخة محققة: 22229)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْ هُوَ أَفْضَلُ مُسْلِمٍ؟)
بہترین مسلمان کون؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5023
5023 - وَعَنْ أَسْمَاءَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ:"خِيَارُكُمُ الَّذِينَ إِذَا رُءُوا ذُكِرَ اللَّهُ"رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ضرور بتائیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں کہ جب ان پر نظر پڑے تو اللہ یاد آ جائے۔“ حسن، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5023]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه ابن ماجه (4119)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَلَاثُ أَصْلِ الْخَيْرِ)
بھلائی کی اصل تین چیزیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5024
5024 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَوْ أَنَّ عَبْدَيْنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَاحِدٌ فِي الْمَشْرِقِ وَآخَرُ فِي الْمَغْرِبِ ; لَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. يَقُولُ: هَذَا الَّذِي كُنْتَ تُحِبُّهُ فِيَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اگر دو بندے اللہ عز و جل کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں، ایک مشرق میں ہے اور ایک مغرب میں، تو روزِ قیامت اللہ ان دونوں کو اکٹھا کر دے گا اور فرمائے گا: یہ ہے وہ جس سے تم میری رضا کی خاطر محبت کیا کرتے تھے۔“ إسناده ضعيف، رواه البيهقي في شعب الإيمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5024]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب ا لإيمان (9022، نسخة محققة: 8606)
٭ حکيم بن نافع الرقي ضعفه الجمھور و الأعمش عنعن إن صح السند إليه.»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ذِكْرُ ٱللَّهِ فِي ٱلْوَحْدَةِ)
تنہائی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5025
5025 - وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مِلَاكِ هَذَا الْأَمْرِ الَّذِي تُصِيبُ بِهِ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ عَلَيْكَ بِمَجَالِسِ أَهْلِ الذِّكْرِ  ، وَإِذَا خَلَوْتَ فَحَرِّكْ لِسَانَكَ مَا اسْتَطَعْتَ بِذِكْرِ اللَّهِ، وَأَحِبَّ فِي اللَّهِ وَأَبْغِضْ فِي اللَّهِ  ، يَا أَبَا رَزِينٍ! هَلْ شَعَرْتَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا خَرَجَ مَنْ بَيْتِهِ زَائِرًا أَخَاهُ، شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، كُلُّهُمْ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ وَيَقُولُونَ: رَبَّنَا إِنَّهُ وَصَلَ فِيكَ، فَصِلْهُ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُعْمِلَ جَسَدَكَ فِي ذَلِكَ فَافْعَلْ".
ابورزین (لقیط بن عامر بن صبرہ رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس دین کی بنیاد کے متعلق نہ بتاؤں جس کے ذریعے تم دین و دنیا کی بھلائی حاصل کر لو؟ تم اہل ذکر کی مجالس اختیار کرو، جب خلوت میں ہو تو پھر جس قدر ہو سکے اپنی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رکھو اور اللہ کی خاطر محبت کرو اور اللہ کی خاطر بغض رکھو۔ ابورزین! کیا تمہیں معلوم ہے کہ آدمی جب اپنے (مسلمان) بھائی کی زیارت کے لیے (گھر سے) نکلتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے ساتھ چلتے ہیں اور وہ سب اس کے لیے دعائیں کرتے جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں: ہمارے پروردگار! اس نے تیری رضا کی خاطر تعلق جوڑا ہے تو اسے (اپنی رحمت و مغفرت کے ساتھ) جوڑ دے، اگر تم اپنے جسم کو ان کاموں پر لگا سکو تو لگاؤ۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5025]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (9024، نسخة محققة: 8608)
٭ عثمان بن عطاء بن أبي مسلم الخراساني: ضعيف و أبوه مدلس .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سَاكِنُ أَعْلَى الْيَاقُوتِ)
زبرجد کے بالاخانوں میں رہنے والے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5026
5026 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَعُمُدًا مِنْ يَاقُوتٍ عَلَيْهَا غُرَفٌ مِنْ زَبَرْجَدٍ، لَهَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ تُضِيءُ كَمَا يُضِيءُ الْكَوْكَبُ الدُّرِّيُّ". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَنْ يَسْكُنُهَا؟ قَالَ:"الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ  ، وَالْمُتَجَالِسُونَ فِي اللَّهِ، وَالْمُتَلَاقُونَ فِي اللَّهِ"رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جنت میں یاقوت کے ستون ہیں، ان پر زمرد کے بالا خانے ہیں، ان کے دروازے کھلے ہیں، وہ چمک دار ستارے کی طرح چمکتے ہیں۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں کون لوگ رہیں گے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے، اللہ کی خاطر آپس میں ہم نشینی اختیار کرنے والے اور اللہ کی خاطر آپس میں ملاقات کرنے والے۔“ امام بیہقی رحمہ اللہ نے تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں۔ اسنادہ ضعیف، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5026]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (9002، نسخة محققة: 8589)
٭ فيه محمد بن أبي حميد: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْعُ تَرْكِ التَّعَلُّقِ أَكْثَرَ مِنْ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ)
تین دن سے زیادہ ترک تعلق کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5027
(17) بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ مِنَ التَّهَاجُرِ وَالتَّقَاطُعِ  وَاتِّبَاعِ الْعَوْرَاتِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5027 - عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زائد ترکِ تعلقات کرے، دونوں ملتے ہیں تو وہ اس سے اعراض کرتا ہے اور وہ اس سے اعراض کرتا ہے، اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5027]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6077) و مسلم (2560/25)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ذَمُّ الحَسَدِ وَالكَيْنَةِ وَالغِيبَةِ وَغَيْرِهَا)
حسد، کینہ، غیبت وغیرہ کی مذمت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5028
5028 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ; فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ  ، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا". وَفِي رِوَايَةٍ:"وَلَا تَنَافَسُوا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، تم کسی کے عیب مت تلاش کرو اور نہ جاسوسی کرو، قیمت بڑھانے کے لیے بولی مت دو اور نہ باہم حسد کرو، بغض مت رکھو اور نہ قطع تعلقی کرو اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ”(اور حسد کی بنا پر) باہم ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5028]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6066) ومسلم (2563/28)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَأْجِيلُ مَغْفِرَةِ الْمُتَعَادِينَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا)
باہمی عداوت والوں کی بخشش ملتوی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5029
5029 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلٌ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ  . فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”پیر اور جمعرات کے روز جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں، شرک سے بیزار ہر شخص کو بخش دیا جاتا ہے، البتہ اس شخص کی مغفرت نہیں ہوتی جس کی اپنے بھائی کے ساتھ رنجش و عداوت ہو، کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ وہ صلح کر لیں۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5029]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2565/35)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَأْخِيرُ مَغْفِرَةِ أَصْحَابِ الكَيْنَةِ وَالعَدَاوَةِ)
کینہ اور عداوت والوں کی مغفرت میں تاخیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5030
5030 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ  يَوْمَ الْاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: اتْرُكُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہر جمعہ (سات دنوں میں) لوگوں کے اعمال دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے روز پیش کیے جاتے ہیں، ہر بندۂ مومن کو بخش دیا جاتا ہے، البتہ اس بندے کی مغفرت نہیں ہوتی جس کی اپنے بھائی کے ساتھ رنجش و عداوت ہو، کہا جاتا ہے: ان دونوں کو چھوڑ دو حتیٰ کہ وہ (عداوت سے) رجوع کر لیں۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5030]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2565/36)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيحٌ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں