🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (الكَلامُ أَمَانَةٌ)
گفتگو امانت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5061
5061 - وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ الْحَدِيثَ ثُمَّ الْتَفَتَ ; فَهِيَ أَمَانَةٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَأَبُو دَاوُدَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی بات کرتے ہوئے ادھر ادھر دیکھے (کہ کہیں کوئی اور تو نہیں سن رہا) تو وہ امانت ہے۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی وابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5061]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (1959وقال: حسن) و أبو داود (4868)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْ يُشَاوَرُ هُوَ أَمِينٌ)
جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5062
5062 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التِّيِّهَانِ:"هَلْ لَكَ خَادِمٌ؟ فَقَالَ: لَا. قَالَ:"فَإِذَا أَتَانَا سَبْيٌ فَأْتِنَا. فَأُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَأْسَيْنِ، فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَرْ مِنْهُمَا. فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! اخْتَرْ لِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ  . خُذْ هَذَا فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي، وَاسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابو الہیثم بن التیہان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی خادم ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو تم ہمارے پاس آنا۔“ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس دو غلام لائے گئے تو ابو الہیثم رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے۔ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ان میں سے کوئی ایک پسند کر لو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ ہی پسند فرما دیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: «الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ» ”جس شخص سے مشورہ طلب کیا جائے تو وہ امین ہوتا ہے، اسے لے لو کیونکہ میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔“ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5062]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2369 وقال: حسن صحيح غريب)
٭ عبد الملک بن عمير مدلس و عنعن و حديث الترمذي (2822) حسن بالشواھد .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثَلاثُ مَجَالِسَ لَا تَكُونُ كَلَامُهَا أَمَانَةً)
تین مجالیس جن کی بات امانت نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5063
5063 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الْمَجَالِسُ بِالْأَمَانَةِ  إِلَّا ثَلَاثَةُ مَجَالِسَ: سَفْكُ دَمٍ حَرَامٍ، أَوْ فَرْجٌ حَرَامٌ، أَوِ اقْتِطَاعُ مَالٍ بِغَيْرِ حَقٍّ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ:"إِنَّ أَعْظَمَ الْأَمَانَةِ فِي"بَابِ الْمُبَاشَرَةِ"فِي"الْفَصْلِ الْأَوَّلِ".
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تین مجالس، (جہاں) ناحق قتل کرنے یا زنا کرنے یا ناحق مال حاصل کرنے کے متعلق باتیں ہو رہی ہوں، کے علاوہ مجالس (کی باتیں) امانت ہوتی ہیں۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ اور ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کہ: ”بے شک بڑی امانت“ باب المباشرۃ کی فصل اول میں ذکر ہو چکی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5063]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4869)
٭ ابن أخي جابر: مجھول، لم أجد من وثقه .
حديث أبي سعيد تقدم (3190)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الإِنْسَانُ مُسْتَجِيبٌ بِسَبَبِ عَقْلِهِ)
عقل کی وجہ سے آدمی جوابدہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5064
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 5064 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْعَقْلَ  قَالَ لَهُ: قُمْ فَقَامَ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: أَدْبِرْ فَأَدْبَرَ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: أَقْبِلْ فَأَقْبَلَ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اقْعُدْ فَقَعَدَ، ثُمَّ قَالَ: مَا خَلَقْتُ خَلْقًا هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَلَا أَفْضَلُ مِنْكَ وَلَا أَحْسَنُ مِنْكَ، بِكَ آخُذُ، وَبِكَ أُعْطِي، وَبِكَ أُعْرَفُ، وَبِكَ أُعَاتِبُ، وَبِكَ الثَّوَابُ، وَعَلَيْكَ الْعِقَابُ". وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے عقل کو پیدا فرمایا تو اسے فرمایا: کھڑی ہو جا، وہ کھڑی ہو گئی، پھر اسے کہا: پیچھے مڑ، تو وہ پیچھے مڑ گئی، پھر اسے کہا: سامنے توجہ کر، تو وہ سامنے آ گئی، پھر اسے کہا: بیٹھ جا، تو وہ بیٹھ گئی، پھر اسے فرمایا: میں نے اپنی پوری مخلوق میں تجھے سب سے زیادہ بہتر و افضل اور سب سے اچھا بنایا ہے، میں تیری وجہ سے مؤاخذہ کروں گا، تیری وجہ سے عنایت کروں گا اور تیری وجہ سے میں پہچانا جاتا ہوں، میں تیری وجہ سے سزا دوں گا، جزا اور ثواب کا انحصار بھی تجھ پر ہے۔“ اس کے متعلق بعض علماء نے کلام کیا ہے۔ «إِسْنَادُهُ مَوْضُوعٌ، رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ» ”اس کی سند موضوع ہے، اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5064]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده موضوع، رواه البيھقي في شعب الإيمان (46330، نسخة محققة: 4313)
٭ الفضل بن عيسي الرقاشي: منکر الحديث و حفص بن عمر يروي الموضوعات .»
قال الشيخ الألباني: مَوْضُوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده موضوع

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الجَزَاءُ فِي القِيَامَةِ بِحَسَبِ العَقْلِ)
قیامت میں عقل کے مطابق بدلہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5065
5065 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ الرَّجُلَ لِيَكُونُ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمِ وَالزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ". حَتَّى ذَكَرَ سِهَامَ الْخَيْرِ كُلَّهَا:"وَمَا يُجْزَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا بِقَدْرِ عَقْلِهِ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بلا شبہ ایک شخص نماز پڑھنے والوں، روزہ رکھنے والوں، زکوٰۃ دینے والوں، حج اور عمرہ کرنے والوں میں ہو گا۔“ یہاں تک کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمام اچھے کاموں کا ذکر کیا۔ ”لیکن اس شخص کو ثواب اس کی عقل کے تناسب سے دیا جائے گا۔“ اسنادہ ضعیف جدا، رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5065]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه البيھقي في شعب الإيمان (4637، نسخة محققة: 4316)
٭ منصور بن سقير أو صقير: ضعيف و قال ابن معين في حديثه: ھذاحديث باطل .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الأَخْلَاقُ شَرَفٌ عَظِيمٌ)
اخلاق بڑا شرف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5066
5066 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا أَبَا ذَرٍّ! لَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ  وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ، وَلَا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: ”ابوذر! تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں اور مشتبہات سے رک جانے جیسا کوئی تقویٰ نہیں اور نہ ہی حسنِ خلق جیسا کوئی حسب و شرف ہے۔“ اس کی سند ضعیف ہے، اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5066]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه البيھقي في شعب الإيمان (4646، نسخة محققة: 4325، 7668) [و ابن ماجه (4218بسند آخر و سنده ضعيف) ]
٭ إبراھيم بن يحيي الغساني: ضعيف مجروح .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضِيلَةُ النُّعُومَةِ)
نرمی کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5067
5067 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"الِاقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْمَعِيشَةِ، وَالتَّوَدُّدُ إِلَى النَّاسِ نِصْفُ الْعَقْلِ  ، وَحُسْنُ السُّؤَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ"رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْأَرْبَعَةَ فِي"شُعَبِ الْإِيمَانِ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”خرچ کرنے میں میانہ روی نصف معیشت ہے، (اچھے) لوگوں سے دوستی اور محبت نصف عقل ہے، اور حسن سوال نصف علم ہے۔“ امام بیہقی رحمہ اللہ نے یہ چاروں احادیث شعب الایمان میں نقل کی ہیں۔ اسنادہ ضعیف منکر، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5067]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف منکر، رواه البيھقي في شعب الإيمان (6568، نسخة محققة: 6148)
٭ فيه مخيس بن تميم و حفص بن عمر: مجھولان (انظر الجرح و التعديل 442/8 وغيره) و قال أبو حاتم: ’’ھذا حديث باطل‘‘ . (علل الحديث 284/2 ح 2354)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف منکر

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اللَّهُ تَعَالَى يُحِبُّ النُّعُومَةَ)
اللہ تعالیٰ نرمی کو پسند کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5068
(19) بَابُ الرِّفْقِ  وَالْحَيَاءِ وَحُسْنِ الْخُلُقِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5068 - عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ  ، وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: قَالَ لِعَائِشَةَ:"عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ، وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَ، إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے، نرمی کو پسند فرماتا ہے، اور وہ جس قدر نرمی پر عطا کرتا ہے، وہ سختی پر عطا نہیں کرتا نہ اس کے علاوہ کسی اور چیز پر عطا کرتا ہے۔“ اور مسلم ہی کی روایت میں ہے: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”نرمی اختیار کرو، سختی اور بدزبانی سے اجتناب کرو، بے شک جس چیز میں نرمی ہوتی ہے تو وہ اس (چیز) کو مزین کر دیتی ہے اور جس چیز سے اسے نکال لیا جاتا ہے تو وہ اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5068]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه مسلم (79. 2593/77) والبخاري (الرواية الثانية: 6030)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ)
شرم و حیا ایمان سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5069
5069 - وَعَنْ جَرِيرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جریر رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”نرمی سے محروم شخص (ہر قسم کی) خیر و بھلائی سے محروم ہے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5069]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (74/ 2592)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ)
حیاء ایمان سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5070
5070 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"دَعْهُ، فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انصار کے ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیا کے متعلق نصیحت کر رہا تھا (کہ اتنے شرمیلے نہ بنو)، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، کیونکہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5070]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (24) و مسلم (59/ 36)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں