🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (التَّرْغِيبُ فِي الصُّلْحِ)
صلح کی ترغیب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5031
5031 - وَعَنْ أُمِّ كُلْثُومَ بِنْتِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَزَادَ مُسْلِمٌ قَالَتْ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ - تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ كَذِبٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: الْحَرْبُ، وَالْإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ، وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا.
ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگوں کے درمیان صلح کرانے والا شخص جھوٹا نہیں، وہ (دونوں سے) خیر و بھلائی کی بات کرتا ہے اور (دونوں کو) خیر و بھلائی کی بات پہنچاتا ہے۔“ امام مسلم رحمہ اللہ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے انہیں یعنی نبی اکرم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تین امور کے علاوہ کسی معاملے میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے ہوئے نہیں سنا: لڑائی (جنگ) میں، لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں اور میاں بیوی کی باہم گفتگو کرنے میں۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5031]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2692) و مسلم (2605/101)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الشَّيْطَانُ قَدْ يَئِسَ)
شیطان مایوس ہو چکا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5032
وَذَكَرَ حَدِيثَ جَابِرٍ:"إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ"فِي"بَابِ الْوَسْوَسَةِ".
اور جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: ”شیطان مایوس ہو چکا۔“ باب الوسوسہ میں ذکر کی گئی ہے۔ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5032]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم، تقدم (72)»
قال الشيخ الألباني:
قال الشيخ زبير على زئي:رواه مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الإِبَاحَةُ فِي الكَذِبِ فِي ثَلاثِ مَسَائِلَ)
تین باتوں میں جھوٹ کی اجازت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5033
الْفَصْلُ الثَّانِي 5033 - عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَحِلُّ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ  : كَذِبُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ لِيُرْضِيَهَا  ، وَالْكَذِبُ فِي الْحَرْبِ، وَالْكَذِبُ لِيُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ.
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”صرف تین مواقع پر جھوٹ بولنا جائز ہے، آدمی کا اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے جھوٹ بولنا، لڑائی میں جھوٹ بولنا اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا۔“ صحیح، رواہ احمد والترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5033]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه أحمد 461/6 ح 28160) و الترمذي 1939 وقال: حسن)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَدَمُ الإِبَاحَةِ لِقَطْعِ التَّعَلُّقِ أَكْثَرَ مِنْ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ)
تین دن سے زیادہ قطع تعلق کی اجازت نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5034
5034 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا يَكُونُ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثٍ ; فَإِذَا لَقِيَهُ سَلَّمَ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِإِثْمِهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زائد ترکِ تعلق کرے، جب وہ اس سے ملاقات کرے تو تین مرتبہ اسے سلام کرے، ہر مرتبہ وہ اسے سلام کا جواب نہ دے تو یہ (سلام کرنے والا) اس (ترکِ ملاقات) کے گناہ سے پاک ہو جاتا ہے۔“ (اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5034]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أبو داود (4913)»
قال الشيخ الألباني: إِسْنَاده جيد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْ قَطَعَ التَّعَلُّقَ يَدْخُلُ النَّارَ)
قطع تعلق کرنے والا آگ میں جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5035
5035 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ  ، فَمِنْ هَجَرَ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زائد ترکِ تعلق کرے، جس شخص نے تین دن سے زائد تعلق توڑے رکھا اور وہ (اسی حالت میں) فوت ہو گیا تو وہ جہنم میں جائے گا۔“ (اسنادہ صحیح، رواہ احمد و ابوداؤد) [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5035]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (392/2 ح 9081) و أبو داود (4914)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (قَطْعُ التَّعَلُّقِ لِمُدَّةِ سَنَةٍ كَسَفْكِ الدَّمِ)
ایک سال کی قطع تعلقی خون بہانے کی طرح
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5036
5036 - وَعَنْ أَبِي خِرَاشٍ السُّلَمِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"مَنْ هَجَرَ أَخَاهُ سَنَةً فَهُوَ كَسَفْكِ دَمِهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوخراش سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنے بھائی سے سال بھر ترکِ ملاقات کی تو وہ اس کے خون بہانے کے مترادف ہے۔“ حسن، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5036]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أبو داود (4915)»
قال الشيخ الألباني: إِسْنَاده لين
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (كِلاهُمَا شَرِيكٌ فِي الأَجْرِ)
اجر میں دونوں شریک
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5037
5037 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثٍ  ، فَإِنْ مَرَّتْ بِهِ ثَلَاثٌ فَلْيَلْقَهُ، فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ، فَإِنْ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ، وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِالْإِثْمِ وَخَرَجَ الْمُسْلِمُ مِنَ الْهِجْرَةِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کسی مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مومن سے تین دن سے زائد ترک ملاقات کرے، جب تین دن گزر جائیں تو اسے چاہیے کہ وہ اس سے ملاقات کرے اور اسے سلام کرے، اگر اس نے سلام کا جواب دے دیا تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں، اور اگر وہ سلام کا جواب نہ دے تو وہی شخص گناہ گار ہو گا جبکہ سلام کرنے والا ترک ملاقات کے زمرے سے نکل جائے گا۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5037]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4912)
٭ فيه ھلال بن أبي ھلال المدني مستور، وثقه ابن حبان وحده و قال الذھبي: لا يعرف .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيفٌ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ثِقَلُ الحَسَدِ وَالبَغْضِ)
حسد اور بغض کی سنگینی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5038
5038 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ وَالصَّلَاةِ؟ قَالَ: قُلْنَا: بَلَى. قَالَ:"إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ  ، وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں روزے، صدقے اور نماز سے بہتر درجے والے عمل کے متعلق نہ بتاؤں؟“ راوی بیان کرتے ہیں، ہم نے عرض کیا: ضرور بتائیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”دو فریقوں، دوستوں، رشتہ داروں کے درمیان صلح کرانا، جبکہ دو فریقوں کے درمیان فساد ایسی خصلت ہے جو (نیکیوں کو) زائل کر دینے والی ہے۔“ ابوداؤد، ترمذی، اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد والترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5038]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4919) و الترمذي (2509)
٭ فيه الأعمش و أبو معاوية مدلسان و عنعنا و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الحَسَدُ وَالبَغْضُ يَقْضِيَانِ عَلَى الدِّينِ)
حسد اور بغض دین کو مونڈھتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5039
5039 - وَعَنِ الزُّبَيْرِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ، وَالْبَغْضَاءُ  هِيَ الْحَالِقَةُ، لَا أَقُولُ: تَحْلِقُ الشَّعْرَ، وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ.
زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”سابقہ امتوں کی بیماری (غیر محسوس طریقے سے) تمہاری طرف منتقل ہو گئی ہے، حسد اور بغض و عداوت اور وہ نیکیوں کو زائل کرنے والی ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ (بیماری) بال مونڈتی ہے بلکہ وہ دین کو ختم کر دیتی ہے۔“ [إسناده حسن، رواہ أحمد والترمذي] [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5039]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (167/1 ح 1430) و الترمذي (2510)
٭ فيه مولي للزبير: مجھول، لم أجد من وثقه وانظر تحفة الأحوذي (320/3) لمزيد التحقيق .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الحَسَدُ يَأْكُلُ الحَسَنَاتِ)
حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5040
5040 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ ; فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5040]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه أبو داود (4903)
٭ جد إبراهيم بن أبي أسيد: لا يعرف و الحديث ضعفه البخاري .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں