مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (احْفَظُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ الذُّنُوبِ الصَّغِيرَةِ وَالهَيِّنَةِ)
اپنے آپ کو چھوتے اور معمولی گناہوں سے بھی بچا کر رکھو
حدیث نمبر: 5356
5356 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"يَا عَائِشَةَ! إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ طَالِبًا"رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَالدَّارِمِيُّ، والْبَيْهَقِيُّ فِي (شُعَبِ الْإِيمَانِ) .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! چھوٹے گناہوں سے بھی اجتناب کرو کیونکہ ان گناہوں کے لیے بھی اللہ کی طرف سے (عذاب کا) مطالبہ کرنے والا ہے“۔ صحیح، رواہ ابن ماجہ والدارمی والبیہقی فی شعب الایمان۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5356]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه ابن ماجه (4242) و الدارمي (2/ 303 ح 2729) و البيھقي في شعب الإيمان (7261)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَكَانَةُ السَّيِّدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حیثیت
حدیث نمبر: 5357
5357 - وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: هَلْ تَدْرِي مَا قَالَهُ أَبِي لِأَبِيكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَإِنَّ أَبِي قَالَ لِأَبِيكَ: يَا أَبَا مُوسَى! هَلْ يَسُرُّكَ أَنَّ إِسْلَامَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِجْرَتَنَا مَعَهُ وَجِهَادَنَا مَعَهُ وَعَمَلَنَا كُلَّهُ مَعَهُ بَرَدَ لَنَا؟ وَأَنَّ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا، رَأْسًا بِرَأْسٍ؟ فَقَالَ أَبُوكَ لِأَبِي: لَا وَاللَّهِ، قَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَلَّيْنَا وَصُمْنَا وَعَمِلْنَا خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَسْلَمَ عَلَى أَيْدِينَا بَشَرٌ كَثِيرٌ وَإِنَّا لَنَرْجُو ذَلِكَ، قَالَ أَبِي: وَلَكِنِّي أَنَا، وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ بَرَدَ لَنَا، وَأَنَّ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَاكَ وَاللَّهِ كَانَ خَيْرًا مِنْ أَبِي. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوبردہ بن ابو موسیٰ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ میرے والد نے آپ کے والد سے کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: مجھے علم نہیں، انہوں نے فرمایا: میرے والد نے آپ کے والد سے کہا: اے ابوموسیٰ! کیا یہ بات تمہیں خوش کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ہمارا اسلام، آپ کی معیت میں ہماری ہجرت اور آپ کی معیت میں ہمارا جہاد اور آپ کے ساتھ ہم نے جو بھی عمل کیے وہ ہمارے لیے ثابت و برقرار رہیں، اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جو عمل کیے ہیں، ہم ان میں برابر برابر (گناہ نہ ثواب) رہ جائیں؟ اس پر آپ کے والد نے میرے والد سے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جہاد کیا، نمازیں پڑھیں، روزے رکھے، بہت سے نیک کام کیے اور بہت سے لوگوں نے ہمارے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا، اور ہم ان کاموں کے ثواب کی امید رکھتے ہیں، میرے والد نے کہا: لیکن میں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر رضی اللہ عنہ کی جان ہے! یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ اعمال (جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیے) ہمارے لیے ثابت رہیں، اور وہ تمام اعمال جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کیے، ان میں ہم برابر برابر نجات پا جائیں، میں (ابوبردہ) نے کہا: بے شک آپ کے والد (عمر رضی اللہ عنہ)، اللہ کی قسم! میرے والد سے بہتر تھے۔ اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5357]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3915)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (تِسْعُ نَصَائِحَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو نصیحتیں
حدیث نمبر: 5358
5358 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَمَرَنِي رَبِّي بِتِسْعٍ: خَشْيَةِ اللَّهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ ، وَكَلِمَةِ الْعَدْلِ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَى، وَالْقَصْدِ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى، وَأَنْ أَصِلَ مَنْ قَطَعَنِي، وَأُعْطِي مَنْ حَرَمَنِي، وَأَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَنِي، وَأَنْ يَكُونَ صَمْتِي فِكْرًا، وَنُطْقِي ذِكْرًا، وَنَظَرِي عِبْرَةً، وَآمُرُ بِالْعُرْفِ"وَقِيلَ: (بِالْمَعْرُوفِ) . رَوَاهُ رَزِينٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھے نو چیزوں کا حکم فرمایا: پوشیدہ و اعلانیہ ہر حالت میں اللہ کا ڈر رکھنا، غضب و رضا میں حق بات کرنا، فقر و مال داری میں میانہ روی اختیار کرنا، جو شخص مجھ سے قطع تعلق کرے میں اس کے ساتھ تعلق قائم کروں، جو شخص مجھے محروم رکھے میں اسے عطا کروں، جس شخص نے مجھ پر ظلم کیا میں اسے معاف کروں، میرا خاموش رہنا غور و فکر کا پیش خیمہ ہو، میرا بولنا ذکر ہو اور میرا دیکھنا عبرت ہو، اور یہ کہ میں نیکی کا حکم دوں۔“ «لَمْ أَجِدْهُ» ”میں نے اسے نہیں پایا“، اسے رزین نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5358]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «لم أجده، رواه رزين (لم أجده)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:لم أجده
--. (بَيَانُ دُمُوعِ الخَوْفِ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى)
اللہ تعالیٰ کے خوف سے آنسو نکلنے کا بیان
حدیث نمبر: 5359
5359 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يَخْرُجُ مِنْ عَيْنَيْهِ دُمُوعٌ وَإِنْ كَانَ مِثْلَ رَأْسِ الذُّبَابِ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ، ثُمَّ يُصِيبُ شَيْئًا مِنْ حَرِّ وَجْهِهِ إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس مومن بندے کی آنکھوں سے اللہ کے ڈر کے پیش نظر آنسو نکل آئیں، خواہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہوں، پھر وہ اس کے چہرے پر آ جائیں تو اللہ اس شخص کو جہنم کی آگ پر حرام قرار دے دیتا ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ ابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5359]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه ابن ماجه (4197)
٭ حماد بن أبي حميد: ضعيف، اسمه محمد (تقدم: 5303) و ھذا الحديث من أجله ضعفه البوصيري .»
٭ حماد بن أبي حميد: ضعيف، اسمه محمد (تقدم: 5303) و ھذا الحديث من أجله ضعفه البوصيري .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
--. (حَالَةُ النَّاسِ المُتَفَرِّقَةُ)
لوگوں کی پراگندہ حالت
حدیث نمبر: 5360
[ 7 ] بَابُ تَغَيُّرِ النَّاسِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5360 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّمَا النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ، لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ (اپنے حالات و صفات کے اختلاف کے لحاظ سے) ان سو اونٹوں کی طرح ہیں جن میں تم ایک بھی سواری کے قابل نہ پاؤ۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5360]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6498) و مسلم (232 / 2547)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (سَتَتَّبِعُونَ اليَهُودَ وَالنَّصَارَى)
تم لوگ یہود و نصاریٰ کی پیروی کرو گے
حدیث نمبر: 5361
5361 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ، شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ"، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ:"فَمَنْ؟". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی و موافقت کرو گے جس طرح بالشت بالشت کے برابر اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے، حتیٰ کہ اگر وہ سانڈے کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی ان کی موافقت کرو گے۔“ عرض کیا گیا، اللہ کے رسول! (پہلے لوگوں سے مراد) یہود و نصاریٰ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اور کون ہیں؟“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5361]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3456) و مسلم (6/ 2669)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (الصَّالِحُونَ وَالنِّيَابُ يَرْحَلُونَ مِنَ الدُّنْيَا)
نیک اور صالح لوگ دنیا سے چلے جائیں گے
حدیث نمبر: 5362
5362 - وَعَنْ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ، الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ، وَتَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ الشَّعِيرِ أَوِ التَّمْرِ، لَا يُبَالِيهِمُ اللَّهُ بَالَةً"رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نیک لوگ ایک ایک کر کے چلے جائیں گے، اور بے کار لوگ باقی رہ جائیں گے جیسے جو کا بھوسہ یا کھجور کا کچرا باقی رہ جاتا ہے جن کی اللہ کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہو گی۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5362]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4156)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (مَتَى سَتَفْسُدُ الأُمَّةُ المُسْلِمَةُ؟)
امت مسلمہ کی خرابی کب ہو گی
حدیث نمبر: 5363
الْفَصْلُ الثَّانِي 5363 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا مَشَتْ أُمَّتِي الْمُطَيْطِيَاءَ وَخَدَمَتْهُمْ أَبْنَاءُ الْمُلُوكِ أَبْنَاءُ فَارِسَ وَالرُّومِ، سَلَّطَ اللَّهُ شِرَارَهَا عَلَى خِيَارِهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب میری امت تکبرانہ چال چلے گی اور بادشاہوں کے بیٹے (یعنی) فارس و روم کے شہزادے ان کے خادم بن جائیں گے تو اللہ اس (امت) کے برے لوگوں کو ان کے اچھے لوگوں پر مسلط فرما دے گا۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5363]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (2261)
٭ موسي بن عبيدة ضعيف وروي ابن حبان في صحيحه (الإحسان:6716/6681) أن النبي ﷺ قال: ((إذا مشت أمتي المطيطاء وخد متھم فارس و الروم سلّط بعضھم علي بعض .)) و سنده حسن و ھو يغني عنه .»
٭ موسي بن عبيدة ضعيف وروي ابن حبان في صحيحه (الإحسان:6716/6681) أن النبي ﷺ قال: ((إذا مشت أمتي المطيطاء وخد متھم فارس و الروم سلّط بعضھم علي بعض .)) و سنده حسن و ھو يغني عنه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (قُرْبَ القِيَامَةِ سَتَقْتُلُونَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا)
قیامت کے قریب تم لوگ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو گے
حدیث نمبر: 5364
5364 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتُلُوا إِمَامَكُمْ، وَتَجْتَلِدُوا بِأَسْيَافِكُمْ، وَيَرِثُ دُنْيَاكُمْ شِرَارُكُمْ"- رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک تم اپنے خلیفہ کو قتل نہیں کرو گے، باہم قتل و غارت نہیں کرو گے اور تمہارے برے لوگ تمہاری دنیا کے وارث نہیں بن جائیں گے۔“ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ» ”اس کی سند حسن ہے، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5364]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2170 و قال: حسن)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (قُرْبَ القِيَامَةِ سَيَرِثُ الأَشْرَارُ الحُكْمَ وَالمَالَ)
قیامت کے قریب بدکار لوگ حکومت اور مال و دولت کے وارث ہوں گے
حدیث نمبر: 5365
5365 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، والْبَيْهَقِيُّ فِي (دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ) .
حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی حتیٰ کہ ذلیل و کمینہ شخص دنیا (کے مال و متاع اور عہدہ و منصب) سے سب سے زیادہ بہرہ مند ہو گا۔“ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی والبیہقی فی دلائل النبوۃ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5365]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (2209 وقال: حسن) و البيھقي في دلائل النبوة (6/ 392)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن