🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (غَفْلَةُ النَّاسِ عَنْ عَذَابِ اللَّهِ)
عذاب الٰہی سے لوگوں کی غفلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5346
الْفَصْلُ الثَّانِي 5346 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا  ، وَلَا مِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں نے جہنم کی مثل کوئی چیز نہیں دیکھی کہ جس سے بھاگنے والا خوابِ غفلت میں ہو، اور نہ ہی جنت کی نعمتوں و سرور کے مثل کوئی چیز دیکھی ہے جس کا چاہنے والا خوابِ غفلت میں ہو۔“ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5346]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (1633 وقال: حسن صحيح)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَوْ عَلِمْتُمْ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا)
اگر تم جان لو، جو میں جانتا ہوں تو کم ہنسو اور زیادہ رونے لگو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5347
5347 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ، أَطَّتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعَةِ أَصَابِعَ إِلَّا وَمَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ  ، وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ، وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ"، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ شَجَرَةً تُعْضَدُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو میں دیکھ رہا ہوں وہ تم نہیں دیکھتے اور جو میں سنتا ہوں وہ تم نہیں سنتے، آسمان نے آواز نکالی اور اسے چرچرانے کی آواز نکالنی بھی چاہیے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہاں ہر چار انگشت پر فرشتہ اپنی پیشانی رکھے ہوئے اللہ کے حضور سربسجود ہے، اللہ کی قسم! اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ، تم بستروں پر عورتوں (بیویوں) سے لطف اندوز ہونا چھوڑ دو اور تم صحراؤں کی طرف نکل جاؤ اور اللہ کے حضور (دعاؤں کے ذریعے) آہ و زاری کرو۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: کاش! میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔ حسن، رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5347]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه أحمد (5/ 173 ح 21848) والترمذي (2321 و قال: حسن غريب) و ابن ماجه (4190)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (التَّحْضِيرُ المَطْلُوبُ لِلْجَنَّةِ)
جنت کے لیے مطلوبہ تیاری
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5348
5348 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَنْ خَافَ أَدْلَجَ، وَمَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ  ، أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ غَالِيَةٌ، أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ الْجَنَّةُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (رات کے آخری حصے میں سفر کرنے سے) ڈرتا ہو وہ رات کے ابتدائی حصے میں سفر کا آغاز کرتا ہے اور جو شخص رات کے ابتدائی حصے میں سفر کرتا ہے تو وہ منزل پر پہنچ جاتا ہے، سن لو! اللہ کا سامان قیمتی ہے، سن لو! اللہ کا سامان جنت ہے۔“ ضعیف، رواہ الترمذی رحمہ اللہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5348]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «ضعيف، رواه الترمذي (2450 وقال: حسن غريب)
٭ يزيد بن سنان: ضعيف ضعفه الجمھور و ضعفه راجح .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَعْضُ النَّاسِ سَيَدْخُلُونَ النَّارَ رَغْمَ ذِكْرِ اللَّهِ)
اللہ کو یاد کرنے کے باوجود کچھ لوگ جہنم میں جائیں گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5349
5349 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ:"يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ ذَكَرَنِي يَوْمًا أَوْ خَافَنِي فِي مَقَامٍ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والْبَيْهَقِيُّ فِي"كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ".
انس رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ، اس کا ذکر عظیم الشان ہو، فرمائے گا: ”ہر اس شخص کو جہنم کی آگ سے نکال دو جس نے (اخلاص کے ساتھ) کسی ایک روز بھی مجھے یاد کیا ہو یا وہ کسی جگہ مجھ سے ڈرا ہو۔“”یہ حدیث حسن ہے، اسے ترمذی اور بیہقی نے کتاب البعث والنشور میں روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5349]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (2594 وقال: حسن غريب) و البيھقي في کتاب البعث و النشور (لم أجده ورواه في شعب الإيمان (740) [والحاکم (70/1) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَيَانُ الَّذِينَ يَخَافُونَ اللَّهَ تَعَالَى دَائِمًا)
اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے والوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5350
5350 - وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَهُمُ الَّذِينَ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَسْرِقُونَ  ؟ قَالَ:"لَا يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ! وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ يَصُومُونَ، وَيُصَلُّونَ، وَيَتَصَدَّقُونَ، وَهُمْ يَخَافُونَ أَنْ لَا يُقْبَلَ مِنْهُمْ، أُولَئِكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس آیت: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ﴾ [سورة المؤمنون: 60] ”وہ لوگ دیتے ہیں، جو کچھ دیتے ہیں، اور اس پر ان کے دل خوفزدہ ہیں۔“ کے متعلق دریافت کیا، کیا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے اور چوری کرتے ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”صدیق کی بیٹی! نہیں، بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں اور صدقہ کرتے ہیں، اور وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسے نہ ہو کہ وہ ان سے قبول نہ ہو، یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں۔“ حسن، اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5350]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (2675) و ابن ماجه (4198)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (التَّحْضِيرُ لِلْمَوْتِ)
موت کی تیاری
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5351
5351 - وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ قَامَ فَقَالَ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ! اذْكُرُوا اللَّهَ، اذْكُرُوا اللَّهَ، جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ، تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ، جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ، جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معمول تھا کہ جب دو تہائی رات گزر جاتی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو جاتے اور فرماتے: ”لوگو! اللہ کا ذکر کرو، اللہ کا ذکر کرو، زلزلہ آنے والا ہے، اس کے متصل بعد دوسرا زلزلہ آنے والا ہے، اور موت اپنی سختیوں کے ساتھ آ گئی اور موت اپنی سختیوں کے ساتھ آ گئی۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5351]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2457 وقال: حسن)
٭ سفيان الثوري مدلس و لم أجد تصريح سماعه في ھذا الحديث .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اُذْكُرُوا المَوْتَ كَثِيرًا)
موت کو کثرت سے یاد کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5352
5352 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَلَاةٍ فَرَأَى النَّاسَ كَأَنَّهُمْ يَكْتَشِرُونَ، قَالَ:"أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ أَكْثَرْتُمْ ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ لَشَغَلَكُمْ عَمَّا أَرَى الْمَوْتُ  ، فَأَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ، الْمَوْتِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَأْتِ عَلَى الْقَبْرِ إِلَّا تَكَلَّمَ، فَيَقُولُ: أَنَا بَيْتُ الْغُرْبَةِ، وَأَنَا بَيْتُ الْوَحْدَةِ، وَأَنَا بَيْتُ التُّرَابِ، وَأَنَا بَيْتُ الدُّودِ، وَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا  ، أَمَا إِنْ كُنْتَ لَأَحَبُّ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ، فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِي بِكَ"، قَالَ:"فَيَتَّسِعُ لَهُ مَدَّ بَصَرِهِ، وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ أَوِ الْكَافِرُ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ: لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا  ، أَمَا إِنْ كُنْتَ لَأَبْغَضَ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَيَّ، فَإِذَا وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَيَّ فَسَتَرَى صَنِيعِي بِكَ"قَالَ:"فَيَلْتَئِمُ عَلَيْهِ حَتَّى يَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ"، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَصَابِعِهِ، فَأَدْخَلَ بَعْضَهَا فِي جَوْفِ بَعْضٍ، قَالَ:"وَيُقَيَّضُ لَهُ سَبْعُونَ تِنِّينًا لَوْ أَنَّ وَاحِدًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ شَيْئًا مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا، فَيَنْهَسْنَهُ وَيَخْدِشْنَهُ حَتَّى يُفْضِي بِهِ إِلَى الْحِسَابِ"، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے تشریف لائے تو آپ نے لوگوں کو دیکھا گویا وہ ہنس رہے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”سن لو! اگر تم لذتوں کو قطع کر دینے والی (موت) کا کثرت سے ذکر کرتے تو وہ تمہیں اس چیز (ہنسنے) سے، جو میں نے دیکھی ہے، تمہیں باز رکھتی، تم لذتوں کو قطع کرنے والی چیز یعنی موت کا کثرت سے ذکر کرو، کیونکہ قبر ہر روز کہتی ہے: میں غیر مانوس کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں اور میں کیڑوں مکوڑوں کا گھر ہوں، اور جب بندہ مومن دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے خوش آمدید کہتی ہے، سن لو! میری سطح پر چلنے والے افراد سے تو مجھے سب سے زیادہ پسند تھا، آج تو میرے سپرد کر دیا گیا ہے، اور تو میرے پاس آ گیا ہے، تو اپنے ساتھ میرا سلوک دیکھے گا۔“ فرمایا: ”وہ اس کی حد نظر تک اس کے لیے فراخ کر دی جاتی ہے اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، اور جب فاجر بندہ یا کافر شخص دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے کہتی ہے: تیرے لیے کسی قسم کا خیر مقدم نہیں، سن لے! میری سطح پر چلنے والے تمام افراد سے تو مجھے زیادہ ناپسند تھا، تو آج میرے سپرد کیا گیا ہے، اور تو میرے پاس آ گیا ہے، تو عنقریب اپنے ساتھ میرا سلوک دیکھ لے گا۔“ فرمایا: ”وہ اس پر تنگ ہو جاتی ہے، حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں، اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ کیفیت کر کے دکھائی کہ آپ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیں، اور فرمایا: ”اس پر ستر اژدھے مسلط کر دیے جائیں گے، اور اگر ان میں سے ایک زمین پر پھونک مار دے تو وہ (زمین) رہتی دنیا تک کوئی چیز نہ اگائے، وہ اسے ڈستے اور نوچتے رہیں گے حتیٰ کہ اسے حساب تک پہنچا دیا جائے گا۔“ راوی بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”قبر تو باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5352]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (2460)
٭ عبيد الله بن الوليد الوصافي: ضعيف و عطية العوفي ضعيف مدلس و لبعض الحديث شواھد .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (السُّوَرُ الَّتِي جَعَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْخًا)
جن سورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا کر دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5353
5353 - وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ شِبْتَ، قَالَ:"شَيَّبَتْنِي سُورَةُ هُودٍ وَأَخَوَاتُهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بوڑھے ہو گئے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”سورۂ ہود اور اس جیسی سورتوں نے مجھے بوڑھا کر دیا۔“ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5353]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (في الشمائل: 42) و الطبراني في الکبير (123/22 ح 317)
٭ أبو إسحاق عنعن وانظر الحديث الآتي (5354)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سُوَرُ القُرْآنِ الَّتِي جَعَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْخًا)
وہ قرآن کی سورتیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا کر ڈالا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5354
5354 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ شِبْتَ، قَالَ:"شَيَّبَتْنِي هُودٌ وَ الْوَاقِعَةُ وَ الْمُرْسَلَاتُ وَ عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ وَ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ:"لَا يَلِجُ فِي النَّارِ"فِي (كِتَابِ الْجِهَادِ) .
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ تو بوڑھے ہو گئے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”سورۂ ہود، واقعہ، مرسلات، ﴿عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ﴾ [سورة النبأ: 1] اور سورۂ شمس نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔“ ترمذی، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث: ”جہنم میں داخل نہیں ہو گا۔“ باب الجھاد میں ذکر کی گئی ہے۔ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5354]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (3297)
٭ أبو إسحاق عنعن و للحديث شواھد ضعيفة و روي الطبراني في الکبير (17/ 286. 287 ح 790) بسند حسن عن عقبة بن عامر رضي الله عنه أن رجلاً قال: يا رسول الله! شبت؟ قال: ((شيتني ھود وأخوا تھا .)) و ھو يغني عنه .
حديث أبي ھريرة: لا يلج النار، تقدم (3828)»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَا يُعْتَبَرُ الذَّنْبُ الصَّغِيرُ هَيِّنًا)
گناہ صغیرہ کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5355
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 5355 - عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ  ، كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمُوبِقَاتِ، يَعْنِي الْمُهْلِكَاتِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: تم ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں (یعنی نہایت معمولی ہیں) جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں ہم انہیں مہلک شمار کیا کرتے تھے۔ «رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ» [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5355]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6492)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں