🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (مَعْرِفَةُ الإِنْسَانِ بِعَادَتِهِ وَخَصْلَتِهِ)
انسان کی شناخت اس کی عادت اور خصلت کے ساتھ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5336
5336 - وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ كَانَتْ لَهُ سَرِيرَةٌ صَالِحَةً أَوْ سَيِّئَةً، أَظْهَرَ اللَّهُ مِنْهَا رِدَاءً يُعْرَفُ بِهِ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی کوئی نیک یا بد خصلت چھپی ہوئی ہو تو اللہ اس سے کوئی علامت ظاہر فرما دے گا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔“ (اسنادہ ضعیف جدا، رواہ البیہقی فی شعب الایمان) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5336]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف جدًا، رواه البيھقي في شعب الإيمان (6942، نسخة محققة: 6543)
٭ فيه حفص بن سليمان: متروک .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف جدًا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (خَوْفُ الرِّيَاءِ)
ریاکاری کا اندیشہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5337
5337 - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ كُلَّ مُنَافِقٍ يَتَكَلَّمُ بِالْحِكْمَةِ وَيَعْمَلُ بِالْجَوْرِ"رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي (شُعَبِ الْإِيمَانِ) .
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس امت کے ہر منافق کا اندیشہ ہے کیونکہ وہ بات حکمت کے ساتھ کرتا ہے جبکہ عملی طور پر ظلم کرتا ہے۔“ امام بیہقی رحمہ اللہ نے تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں۔ (حسن، رواہ البیہقی فی شعب الایمان)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5337]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه البيھقي في شعب الإيمان (1777، نسخة محققة: 1641) [و أحمد (1/ 22 ح 143 وسنده حسن) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اللَّهُ تَعَالَى يَقْبَلُ النِّيَّةَ)
اللہ تعالیٰ نیت قبول کرتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5338
5338 - وَعَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ حَبِيبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنِّي لَسْتُ كُلَّ كَلَامِ الْحَكِيمِ أَتَقَبَّلُ، وَلَكِنْ أَتَقَبَّلُ هَمَّهُ وَهَوَاهُ  ، فَإِنْ كَانَ هَمُّهُ وَهَوَاهُ فِي طَاعَتِي جَعَلْتُ صَمْتَهُ حَمْدًا لِي وَوَقَارًا وَإِنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.
مہاجر بن حبیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میں دانا کے سارے کلام کو قبول نہیں کرتا، لیکن میں اس کی نیت اور اس کے ارادے کو قبول کرتا ہوں، اگر اس کی نیت اور اس کا ارادہ میری اطاعت میں ہے تو میں اس کی خاموشی کو اپنے لیے حمد و وقار قرار دے دیتا ہوں اگرچہ اس نے کلام نہ کیا ہو۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الدارمی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5338]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الدارمي (1/ 79 ح 258)
٭ فيه صدقة بن عبد الله بن مھاجر بن حبيب: مجھول، و المھاجر ليس صحابيًا و لعله المھاصر بن حبيب کما في النسخة المحققة فالسند مع ضعفه مرسل .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (لَوْ عَلِمْتُمْ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا)
اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو زیادہ رونے اور کم ہنسنے لگو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5339
[ 6 ] بَابُ الْبُكَاءِ وَالْخَوْفِ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 5339 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ابوالقاسم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم (نافرمانوں کے عذاب کے متعلق) جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روؤ اور کم ہنسو۔“ (رواہ البخاری) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5339]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (6485)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِعْلَانُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَدَمِ العِلْمِ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار لاعلمی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5340
5340 - وَعَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"وَاللَّهِ لَا أَدْرِي، وَاللَّهِ لَا أَدْرِي، وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ، مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
ام علاء انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا جبکہ میں اللہ کا رسول بھی ہوں کہ میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟“ (رواہ البخاری)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5340]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (1243)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَالُ اثْنَيْنِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ)
دو جہنمیوں کا حال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5341
5341 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا  ، رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، وَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میرے سامنے جہنم کی آگ پیش کی گئی تو میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت کو اس کی ایک بلی کی وجہ سے عذاب میں مبتلا دیکھا، اس نے اسے باندھ رکھا تھا، اس نے اسے نہ خود کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ حشرات الارض کھا سکے اسی حال وہ بھوکی مر گئی، اور میں نے عمرو بن عامر الخزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا، اور وہ پہلا شخص ہے جس نے بتوں کے نام پر جانور چھوڑنے کی رسم ایجاد کی۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5341]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (9/ 904)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فِتْنَةُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ)
یاجوج ماجوج کا فتنہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5342
5342 - وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَزِعًا يَقُولُ:"لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ"وَحَلَّقَ بِأُصْبَعَيْهِ: الْإِبْهَامَ وَالَّتِي تَلِيهَا  ، قَالَتْ زَيْنَبُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَفَنُهْلَكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ:"نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھبراہٹ کے عالم میں میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے: ” «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں“، عربوں کے لیے اس شر کے سبب تباہی ہے جو کہ قریب پہنچ چکی ہے، آج یاجوج ماجوج کا بند اس قدر کھول دیا گیا“ اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دو انگلیوں، انگوٹھے اور انگشتِ شہادت سے حلقہ بنایا، زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک کر دیے جائیں گے جبکہ صالح لوگ ہم میں موجود ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب فسق و فجور زیادہ ہو جائے گا۔“ (متفق علیہ) [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5342]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3346) و مسلم (1880/2)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بَعْضُ صُوَرِ عَذَابِ اللَّهِ)
اللہ کے عذاب کی کچھ شکلیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5343
5343 - وَعَنْ أَبِي عَامِرٍ، أَوْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:"لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْخَزَّ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ  وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلَى جَنْبِ عَلَمٍ يَرُوحُ عَلَيْهِمْ بِسَارِحَةٍ لَهُمْ يَأْتِيهِمْ رَجُلٌ لِحَاجَةٍ فَيَقُولُونَ: ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا، فَيُبَيِّتُهُمُ اللَّهُ، وَيَضَعُ الْعَلَمَ، وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفَى بَعْضِ نُسَخِ (الْمَصَابِيحِ) : (الْحَرَّ) بِالْحَاءِ وَالرَّاءِ الْمُهْمَلَتَيْنِ، وَهُوَ تَصْحِيفٌ، وَإِنَّمَا هُوَ بِالْخَاءِ وَالزَّايِ الْمُعْجَمَتَيْنِ، نَصَّ عَلَيْهِ الْحُمَيْدِيُّ، وَابْنُ الْأَثِيرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَفَى كِتَابِ (الْحُمَيْدِيِّ) عَنِ الْبُخَارِيِّ، وَكَذَا فِي (شَرْحِهِ) لِلْخَطَّابِيِّ: (تَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَةٌ لَهُمْ يَأْتِيهِمْ لِحَاجَةٍ) .
ابو عامر یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو خز (ہلکی قسم کا ریشم) اور عام ریشم، شراب اور آلاتِ موسیقی کو حلال سمجھیں گے، اور کچھ لوگ پہاڑ کے دامن کی طرف اتریں گے ان کے ساتھ ان کے مویشی آئیں گے، ایک آدمی کسی ضرورت کے تحت ان کے پاس آئے گا، تو وہ کہیں گے: کل آنا، اللہ انہیں راتوں رات عذاب میں مبتلا کر دے گا اور پہاڑ ان پر گرا دے گا جبکہ باقی لوگوں کی صورتیں مسخ کر کے روزِ قیامت تک بندر اور خنزیر بنا دے گا۔“ بخاری۔ اور مصابیح کے بعض نسخوں میں ”خز“ کے بجائے ”حر“ ہے اور یہ تصحیف ہے، جبکہ صحیح ”خز“ ہے، الحمیدی اور ابن اثیر نے اس حدیث میں اسی کو راجح قرار دیا ہے، اور کتاب الحمیدی میں امام بخاری کی سند سے، اور اسی طرح بخاری کی شرح للخطابی میں ہے: «تَرُوْحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَةٌ لَّهُمْ يَأْتِيْهِمْ لِحَاجَةٍ» ”شام کے وقت ان کے مویشی ان کے پاس واپس آئیں گے اور ان کے پاس کوئی ضرورت مند اپنی حاجت لے کر آئے گا“۔ رواہ البخاری و فی مصابیح السنہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5343]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (5590) و ذکره البغوي في مصابيح السنة (3/ 453ح 4113) و أخطأ من ضعفه .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (يُبْعَثُ النَّاسُ بِحَسَبِ أَعْمَالِهِمْ)
لوگوں کو اعمال کی حیثیت سے اٹھایا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5344
5344 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو تمام لوگ اس عذاب کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں، پھر وہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق (روز قیامت) اٹھائے جائیں گے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5344]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (7108) و مسلم (84 / 2879)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (يُبْعَثُ الإِنْسَانُ عَلَى الحَالِ الَّذِي مَاتَ عَلَيْهِ)
انسان اسی حال میں اٹھایا جائے گا جس حال میں مرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5345
5345 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہر بندہ اپنے آخری عمل پر، جس پر وہ فوت ہوا، اٹھایا جائے گا۔“ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5345]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (2878/83)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں