🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا بَصِيرًا}:
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”اور اللہ بہت سننے والا، بہت دیکھنے والا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7387
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي، قَالَ: قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مِنْ عِنْدِكَ مَغْفِرَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو عمرو نے خبر دی، انہیں یزید نے، انہیں ابوالخیر نے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! مجھے ایسی دعا سکھائیے جو میں اپنی نماز میں کیا کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پڑھا کرو «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولا يغفر الذنوب إلا أنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاغفر لي من عندك مغفرة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ إنك أنت الغفور الرحيم‏"‏‏.‏» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے سوا گناہوں کو اور کوئی نہیں بخشتا، پس میرے گناہ اپنے پاس سے بخش دے، بلاشبہ تو بڑا مغفرت کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7387]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ”اللہ کے رسول! مجھے ایسی دعا سکھائیں جسے میں اپنی نماز میں پڑھا کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دعا پڑھا کرو: «اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ”اے اللہ! میں نے اپنے آپ پر بہت ظلم کیا ہے، تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں، مجھے اپنے پاس سے مغفرت عطا فرما اور مجھ پر رحم فرما، یقیناً تو ہی بہت زیادہ بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔““ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7387]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7388
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي، قَالَ: قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مِنْ عِنْدِكَ مَغْفِرَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو عمرو نے خبر دی، انہیں یزید نے، انہیں ابوالخیر نے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! مجھے ایسی دعا سکھائیے جو میں اپنی نماز میں کیا کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پڑھا کرو «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولا يغفر الذنوب إلا أنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاغفر لي من عندك مغفرة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ إنك أنت الغفور الرحيم‏"‏‏.‏» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے سوا گناہوں کو اور کوئی نہیں بخشتا، پس میرے گناہ اپنے پاس سے بخش دے، بلاشبہ تو بڑا مغفرت کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7388]
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ”اللہ کے رسول! مجھے ایسی دعا سکھائیں جسے میں اپنی نماز میں پڑھا کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دعا پڑھا کرو: «اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ”اے اللہ! میں نے اپنے آپ پر بہت ظلم کیا ہے۔ تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کو معاف کرنے والا نہیں۔ مجھے اپنے پاس سے مغفرت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت زیادہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔““ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7388]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7389
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، حَدَّثَتْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام نَادَانِي، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھ کو یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام نے مجھے پکار کر کہا کہ اللہ نے آپ کی قوم کی بات سن لی اور وہ بھی سن لیا جو انہوں نے آپ کو جواب دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7389]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت جبریل علیہ السلام نے مجھے آواز دے کر کہا: ”اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی بات سن لی ہے اور جو کچھ انہوں نے آپ کو جواب دیا ہے اسے بھی سن لیا ہے۔“” [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7389]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {قُلْ هُوَ الْقَادِرُ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الانعام میں) فرمانا کہ ”کہہ دیجئیے کہ وہی قدرت والا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7390
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يُحَدِّثُ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيُّ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ أَصْحَابَهُ الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ: إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ، ثُمَّ تُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ خَيْرًا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، قَالَ: أَوْ فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی الموالی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محمد بن المنکدر سے سنا، وہ عبداللہ بن حسن سے بیان کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ مجھے جابر بن عبداللہ سلمیٰ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو ہر مباح کام میں استخارہ کرنا سکھاتے تھے جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا مقصد کرے تو اسے چاہئے کہ فرض کے سوا دو رکعت نفل نماز پڑھے، پھر سلام کے بعد یہ دعا کرے ”اے اللہ! میں تیرے علم کے طفیل اس کام میں خیریت طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے طفیل طاقت مانگتا ہوں اور تیرا فضل۔ کیونکہ تجھے قدرت ہے اور مجھے نہیں ‘، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیوب کا بہت جاننے والا ہے۔ اے اللہ! پس اگر تو یہ بات جانتا ہے (اس وقت استخارہ کرنے والے کو اس کام کا نام لینا چاہئیے) کہ اس کام میں میرے لیے دنیا و آخرت میں بھلائی ہے یا اس طرح فرمایا کہ ”میرے دین میں اور گزران میں اور میرے ہر انجام کے اعتبار سے بھلائی ہے تو اس پر مجھے قادر بنا دے اور میرے لیے اسے آسان کر دے، پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما۔ اے اللہ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے۔ میرے دین اور گزراہ کے اعتبار سے اور میرے انجام کے اعتبار سے، یا فرمایا کہ میری دنیا و دین کے اعتبار سے تو مجھے اس کام سے دور کر دے اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس پر راضی اور خوش رکھ۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7390]
حضرت جابر بن عبداللہ سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تمام (جائز) کاموں میں استخارہ کرنے کی تعلیم دیتے تھے جس طرح آپ انہیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے، آپ فرماتے: ”جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے، پھر یوں کہے: اے اللہ! میں تیرے علم کے طفیل اس کام میں طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل کا طلبگار ہوں کیونکہ تجھے قدرت ہے مجھے نہیں، تو جانتا ہے میں نہیں، تو غیبوں کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (یہاں اس کام کا بعینہ نام لے) میرے لیے دنیا و آخرت میں۔۔۔۔۔۔۔ یا اس طرح فرمایا کہ میرے دین، میری زندگی اور میرے ہر انجام کے اعتبار سے۔۔۔۔ بہتر ہے، تو مجھے اس کی قدرت دے اور میرے لیے اسے آسان کر دے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (یہاں اس کام کا بعینہ نام لے) میرے دنیا و آخرت میں۔۔۔۔۔ یا اس طرح فرمایا کہ میرے دین، زندگی اور میرے ہر انجام کے اعتبار سے۔۔۔۔ برا ہے، مجھے اس کام سے دور رکھ اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں بھی وہ ہو، پھر مجھے اس پر راضی اور خوش کر دے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7390]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ مُقَلِّبِ الْقُلُوبِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ}:
باب: اللہ تعالیٰ کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ دلوں کا پھیرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الانعام) میں فرمان ”اور ہم ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7391
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" أَكْثَرُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْلِفُ لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ".
مجھ سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ ابن مبارک نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم اس طرح کھاتے ”قسم اس کی جو دلوں کا پھیر دینے والا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7391]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ قسم اٹھایا کرتے تھے: ”دلوں کو پھیرنے والے کی قسم!“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7391]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ اسْمٍ إِلاَّ وَاحِدًا:
باب: اس بیان میں کہ اللہ کے ننانوے نام ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7392
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذُو الْجَلَالِ الْعَظَمَةِ الْبَرُّ اللَّطِيفُ.
‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ «ذو الجلال» کے معنی جلال اور عظمت والا۔ «البر» کے معنی لطیف اور باریک بین۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: Q7392]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7392
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ" أَحْصَيْنَاهُ: حَفِظْنَاهُ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، جو انہیں یاد کر لے گا وہ جنت میں جائے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7392]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، یعنی سو سے ایک کم، جو کوئی انہیں یاد کر لے وہ جنت میں داخل ہوگا۔“ «أَحْصَيْنَاهُ» کے معنی ہیں: «حَفِظْنَاهُ» یعنی ہم نے اسے محفوظ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7392]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ السُّؤَالِ بِأَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالاِسْتِعَاذَةِ بِهَا:
باب: اللہ تعالیٰ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7393
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ فِرَاشَهُ، فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلْيَقُلْ: بِاسْمِكَ رَبِّ، وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي، فَاغْفِرْ لَهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا، فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ" تَابَعَهُ يَحْيَى وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَزَادَ زُهَيْرٌ، وَأَبُو ضَمْرَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَوَاهُ ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنے بستر پر جائے تو اسے چاہئے کہ اسے اپنے کپڑے کے کنارے سے تین مرتبہ صاف کر لے اور یہ دعا پڑھے «باسمك رب وضعت جنبي وبك أرفعه،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ إن أمسكت نفسي فاغفر لها،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ”اے میرے رب! تیرا نام لے کر میں اپنی کروٹ رکھتا ہوں اور تیرے نام ہی کے ساتھ اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری جان کو باقی رکھا تو اسے معاف کرنا اور اگر اسے (اپنی طرف سوتے ہی میں) اٹھا لیا تو اس کی حفاظت اس طرح کرنا جس طرح تو اپنے نیکوکار بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔“ اس روایت کی متابعت یحییٰ اور بشر بن الفضل نے عبیداللہ سے کی ہے، ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اور زہیر، ابوضمرہ اور اسماعیل بن زکریا نے عبیداللہ سے یہ اضافہ کیا کہ ان سے سعید نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس کی روایت ابن عجلان نے کی، ان سے سعید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اس کی متابعت محمد بن عبدالرحمٰن الداوردی اور اسامہ بن حفص نے کی۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7393]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر جائے تو کپڑے کے کنارے سے اسے تین مرتبہ جھاڑے اور یہ دعا پڑھے: «بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» ”اے میرے رب! تیرے نام سے میں نے اپنا پہلو رکھا اور تیری ہی رحمت سے میں اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری روح کو روک لیا تو اسے معاف کرنا اور اگر اسے چھوڑ دیا تو اس کی حفاظت کرنا جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔““ یحییٰ اور بشر بن مفضل نے عبید اللہ سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اسی طرح) بیان کیا ہے؛ نیز زہیر، ابو ضمرہ اور اسماعیل بن زکریا نے عبید اللہ سے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ ان سے سعید نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔ ابن عجلان نے بھی سعید سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7393]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7394
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ، وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹنے جاتے تو یہ دعا کرتے «اللهم باسمك أحيا وأموت» ”اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوں اور اسی کے ساتھ مروں گا۔“ اور جب صبح ہوتی تو یہ دعا کرتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» ”تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے اس کے بعد زندہ کیا کہ ہم مر چکے تھے اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7394]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر تشریف لاتے تو دعا کرتے: «بِاسْمِكَ اللّٰهُمَّ أَمُوْتُ وَأَحْيَا» ”اے اللہ! میں تیرے نام کے طفیل زندہ ہوں اور اسی کے ساتھ فوت ہوں گا۔“ اور جب صبح ہوتی تو یہ دعا کرتے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُوْرُ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں فوت کرنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7394]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7395
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: بِاسْمِكَ نَمُوتُ وَنَحْيَا، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ".
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ربعی بن حراش نے، ان سے خرشہ بن الحر نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں لیٹنے جاتے تو کہتے «باسمك نموت ونحيا» ”ہم تیرے ہی نام سے مریں گے اور اسی سے زندہ ہوں گے۔“ اور جب بیدار ہوتے تو کہتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» ”تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف جانا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7395]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت اپنے بستر پر جاتے تو دعا کرتے: «بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا» ”ہم تیرے ہی نام سے فوت ہوتے ہیں اور اسی سے زندہ ہوں گے۔“ اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» ”تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا ہے اور اسی کی طرف جمع ہونا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7395]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں