🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ السُّؤَالِ بِأَسْمَاءِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالاِسْتِعَاذَةِ بِهَا:
باب: اللہ تعالیٰ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7396
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ، فَقَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرُّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سالم نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘””جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھ لے «باسم الله،‏‏‏‏ اللهم جنبنا الشيطان،‏‏‏‏ وجنب الشيطان ما رزقتنا‏.‏» ”شروع اللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھنا اور تو جو ہمیں بچہ عطا کرے اسے بھی شیطان سے دور رکھنا۔“ تو اگر اسی صحبت میں ان دونوں سے کوئی بچہ نصیب ہوا تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7396]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھ لے: «بِسْمِ اللّٰهِ، اللّٰهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا» ”اللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھنا اور جو کچھ تو ہمیں عطا کرے اس سے بھی شیطان کو دور رکھنا۔“ اگر اس صحبت میں کوئی بچہ ان دونوں کے نصیب میں ہوا تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7396]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7397
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أُرْسِلُ كِلَابِي الْمُعَلَّمَةَ؟، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَأَمْسَكْنَ فَكُلْ، وَإِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ فَخَزَقَ فَكُلْ".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے ہمام نے، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لیے چھوڑتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سدھائے ہوئے کتے چھوڑو اور ان کے ساتھ اللہ کا نام بھی لے لو، پھر وہ کوئی شکار پکڑیں اور اسے کھائیں نہیں تو تم اسے کھا سکتے ہو اور جب شکار پر بن پھال کے تیر یعنی لکڑی سے کوئی شکار مارے لیکن وہ نوک سے لگ کر جانور کا گوشت چیر دے تو ایسا شکار بھی کھاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7397]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میں شکار پر اپنے سکھائے ہوئے کتے چھوڑتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سدھائے ہوئے کتے چھوڑو اور چھوڑتے وقت اللہ کا نام بھی لو، پھر اگر وہ شکار پکڑ کر اسے روک لیں، اس سے خود نہ کھائیں تو تم اسے کھا سکتے ہو۔““ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7397]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7398
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالُوا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَا هُنَا أَقْوَامًا حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِشِرْكٍ يَأْتُونَا بِلُحْمَانٍ لَا نَدْرِي يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا أَمْ لَا؟، قَالَ: اذْكُرُوا أَنْتُمُ اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا"، تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالدَّرَاوَرْدِيُّ، وَأُسَامَةُ بْنُ حَفْصٍ.
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوخالد احمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن عروہ سنا، وہ اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے بیان کرتے تھے کہ ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہاں کے قبیلے ابھی حال ہی میں اسلام لائے اور وہ ہمیں گوشت لا کر دیتے ہیں۔ ہمیں یقین نہیں ہوتا کہ ذبح کرتے وقت انہوں نے اللہ کا نام بھی لیا تھا یا نہیں (تو کیا ہم اسے کھا سکتے ہیں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس پر اللہ کا نام لے کر اسے کھا لیا کرو۔ اس روایت کی متابعت محمد بن عبدالرحمٰن دراوردی اور اسامہ بن حفص نے کی۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7398]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! یہاں کچھ لوگ ہیں جن کا زمانہ شرک کے قریب ہے، وہ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں، ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا تھا یا نہیں؟ (تو کیا ہم اسے کھا سکتے ہیں؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کا نام لے کر اسے کھا لیا کرو۔“ یہ روایت بیان کرنے میں محمد بن عبدالرحمن، عبدالعزیز بن محمد دراوردی اور اسامہ بن حفص نے ابو خالد کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7398]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7399
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کی قربانی کی اور ذبح کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7399]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کی قربانی دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کرتے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7399]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7400
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبٍ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ" صَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ، فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ".
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے اور ان سے جندب رضی اللہ عنہ نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا ”جس نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح ابھی نہ کیا ہو تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7400]
حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ قربانی کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، آپ نے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: ”جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر دی، وہ اس کی جگہ اور قربانی کرے اور جس نے ابھی تک قربانی ذبح نہ کی ہو، تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7400]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7401
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ورقاء نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھایا کرو، اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہو تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7401]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، جو کوئی قسم اٹھانا چاہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7401]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الذَّاتِ وَالنُّعُوتِ وَأَسَامِي اللَّهِ:
باب: اللہ تعالیٰ کو ذات کہہ سکتے ہیں (اسی طرح شخص بھی کہہ سکتے ہیں) یہ اس کے اسماء اور صفات ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7402
وَقَالَ خُبَيْبٌ وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ فَذَكَرَ الذَّاتَ بِاسْمِهِ تَعَالَى.
اور خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ نے مرتے وقت کہا کہ یہ سب تکلیف اللہ کی ذات مقدس کے لیے ہے تو اللہ کے نام کے ساتھ انہوں نے «ذات» کا لفظ لگایا۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: Q7402]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7402
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ أَسِيدِ بْنِ جَارِيَةَ الثَّقَفِيُّ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً مِنْهُمْ خُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ، فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ، أَنَّ ابْنَةَ الْحَارِثِ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهُمْ حِينَ اجْتَمَعُوا اسْتَعَارَ مِنْهَا مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا، فَلَمَّا خَرَجُوا مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوهُ، قَالَ خُبَيْبٌ الْأَنْصَارِيُّ: وَلَسْتُ أُبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ شِقٍّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوٍ مُمَزَّعِ فَقَتَلَهُ ابْنُ الْحَارِثِ، فَأَخْبَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ خَبَرَهُمْ يَوْمَ أُصِيبُوا".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبر دی جو بنی زہرہ کے حلیف تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں تھے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عضل اور قارہ والوں کی درخواست پر دس اکابر صحابہ کو جن میں خبیب رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کے ہاں بھیجا۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی کہ حارث کی صاحبزادی زینب نے انہیں بتایا کہ جب لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے آمادہ ہوئے (اور قید میں تھے) تو اسی زمانے میں انہوں نے ان سے صفائی کرنے کے لیے استرہ لیا تھا، جب وہ لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو حرم سے باہر قتل کرنے لے گئے تو انہوں نے یہ اشعار کہے۔ ”اور جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی پروا نہیں کہ مجھے کس پہلو پر قتل کیا جائے گا اور میرا یہ مرنا اللہ کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے گا تو میرے ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوئے اعضاء پر برکت نازل کرے گا۔“ پھر ابن الحارث نے انہیں قتل کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اس حادثہ کی اطلاع اسی دن دی جس دن یہ حضرات شہید کئے گئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7402]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد، بنو زہرہ قبیلے کے حلیف حضرت اسید بن جاریہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کسی مہم پر روانہ کیا۔ ان میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حارث کی بیٹی نے بتایا کہ جب حارث کے بیٹوں نے انہیں قتل کرنے کا پروگرام بنایا تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے استرا مانگا تاکہ اپنے زیر ناف بال صاف کریں۔ جب وہ انہیں قتل کرنے کے لیے حرم سے باہر لے گئے تو حضرت خبیب انصاری رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے: ”جب مسلمان بن کے دنیا سے چلوں مجھ کو کیا ڈر ہے کس کروٹ کروں، میرا مرنا ہے اللہ کی ذات میں وہ اگر چاہے نہ ہوں گا میں زبوں، تن جو ٹکڑے ٹکڑے اب ہو جائے گا اس کے ٹکڑے پر وہ برکت دے فزوں۔“ پھر حارث کے بیٹے (عقبہ) نے انہیں قتل کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اسی دن اطلاع کر دی جس دن یہ حضرات شہید کیے گئے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7402]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ آل عمران میں) ارشاد ”اور اللہ اپنی ذات سے تمہیں ڈراتا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7403
وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: {تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ}.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد (سورۃ المائدہ میں) (عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ میں) «تعلم ما في نفسي ولا أعلم ما في نفسك» ”اور یا اللہ! تو وہ جانتا ہے جو میرے نفس میں ہے لیکن میں وہ نہیں جانتا جو تیرے نفس میں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: Q7403]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7403
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ، وَمَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی بھی اللہ سے زیادہ غیرت مند نہیں اور اسی لیے اس نے فواحش کو حرام قرار دیا ہے اور اللہ سے زیادہ کوئی تعریف پسند کرنے والا نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7403]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی بھی غیرت مند نہیں، اسی لیے اس نے فواحش کو حرام قرار دیا ہے، نیز اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی کو مدح و تعریف پسند نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب التوحيد/حدیث: 7403]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں