مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (قَرَارُ حَضْرَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِعَدَمِ مُوَاجَهَةِ البُغَاةِ)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا باغیوں کے خلاف قدم نہ انھانے کا فیصلہ
حدیث نمبر: 6079
6079 - وَعَنْ أَبِي سَهْلَةَ، قَالَ: قَالَ لِي عُثْمَانُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَوْمَ الدَّارِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوسہلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، عثمان رضی اللہ عنہ نے محاصرے کے دن مجھے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا اور اس پر میں قائم ہوں۔“ اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6079]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (3711)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (رَدُّ حَضْرَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى مَنْ يَعْتَرِضُ عَلَى حَضْرَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرنے والے کو جواب دینا
حدیث نمبر: 6080
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 6080 - عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُرِيدُ حَجَّ الْبَيْتِ فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا، فَقَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: هَؤُلَاءِ قُرَيْشٌ. قَالَ: فَمَنِ الشَّيْخُ فِيهِمْ؟ قَالُوا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ. قَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ فَحَدِّثْنِي: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ وَلَمْ يَشْهَدْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّهُ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَفَا عَنْهُ، وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ مَرِيضَةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ) . وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُثْمَانَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَمَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ الْيُمْنَى: (هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ) فَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ، وَقَالَ: (هَذِهِ لِعُثْمَانَ) . ثُمَّ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: اذْهَبْ بِهَا الْآنَ مَعَكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عثمان بن عبداللہ بن موہب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، اہل مصر سے ایک آدمی حج کے ارادے سے آیا تو اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھ کر کہا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ قریشی ہیں، اس نے کہا: ان میں الشیخ (معتبر عالم) کون ہے؟ انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، اس آدمی نے کہا: ابن عمر! میں تم سے کسی چیز کے متعلق سوال کرتا ہوں، مجھے بتائیں، کیا آپ جانتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ غزوۂ احد میں فرار ہو گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اس نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ غزوۂ بدر میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اس نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ بیعت رضوان کے موقع پر بھی وہ موجود نہیں تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، اس نے کہا: «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آؤ میں تمہیں واضح کرتا ہوں، رہا ان کا غزوۂ احد سے فرار ہونا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ نے انہیں معاف فرما دیا ہے، رہا ان کا بدر سے غائب ہونا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی رقیہ رضی اللہ عنہا ان کی اہلیہ تھیں اور وہ بیمار تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”آپ کے لیے غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے مجاہد کے برابر اجر و ثواب ہے اور اس کے برابر آپ کے لیے مال غنیمت میں سے حصہ بھی ہے۔“ رہا ان کا بیعت رضوان کے وقت موجود نہ ہونا، تو اگر مکہ میں عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی معزز ہوتا تو آپ اسے بھیجتے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجا، اور بیعت رضوان عثمان رضی اللہ عنہ کے مکہ چلے جانے کے بعد ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کے متعلق فرمایا: ”یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔“ اور اسے اپنے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”یہ عثمان کے لیے ہے۔“ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اب یہ (جوابات) اپنے ساتھ لے جانا (اور انہیں یاد رکھنا)۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6080]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3698)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (ثَبَاتُ حَضْرَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى وَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر قائم رہنا
حدیث نمبر: 6081
6081 - وَعَنْ أَبِي سَهْلَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: جَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (يُسِرُّ إِلَى عُثْمَانَ، وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ) ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ قُلْنَا: أَلَا تُقَاتِلُ؟ قَالَ: لَا، إِنْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهِدَ إِلَيَّ أَمْرًا، فَأَنَا صَابِرٌ نَفْسِي عَلَيْهِ.
عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوسہلہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عثمان رضی اللہ عنہ سے مخفی طور پر کوئی بات کر رہے تھے اور عثمان رضی اللہ عنہ کا رنگ متغیر ہو رہا تھا۔ جب محاصرے کا دن تھا تو ہم نے کہا: کیا ہم لڑائی نہیں کریں گے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک امر کی وصیت کی ہے اور میں اپنے آپ کو اس کا پابند رکھوں گا۔ (صحیح، رواہ البیہقی فی دلائل النبوۃ) [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6081]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه البيھقي في دلائل النبوة (6/ 391 بزيادة: ’’عن عائشة‘‘) [و ابن ماجه (113) بدون ذکر عائشة رضي الله عنھا] و للحديث شواھد .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (أَمْرُ اتِّبَاعِ حَضْرَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي زَمَنِ الفِتَنِ)
فتنوں کے دور میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پیروی کا حکم
حدیث نمبر: 6082
6082 - وَعَنْ أَبِي حَبِيبَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا، وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: (إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا - أَوْ قَالَ: اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً - فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ أَوْ مَا تَأْمُرُنَا بِهِ؟ قَالَ: (عَلَيْكُمْ بِالْأَمِيرِ وَأَصْحَابِهِ) وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ. رَوَاهَا الْبَيْهَقِيُّ فِي (دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ) .
ابو حبیبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ گھر میں داخل ہوئے جبکہ عثمان رضی اللہ عنہ اس میں محصور تھے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا کہ وہ عثمان رضی اللہ عنہ سے بات کرنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں، انہیں اجازت مل گئی، وہ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میرے بعد تم فتنہ اور اختلاف دیکھو گے۔“ یا فرمایا: ”اختلاف اور فتنہ دیکھو گے۔“ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے کیا حکم ہے یا آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم امیر اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس (امیر) کے متعلق عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ نے دونوں احادیث دلائل النبوۃ میں روایت کی ہیں۔ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ» ”اس کی سند حسن ہے، اسے بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6082]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه البيھقي في دلائل النبوة (6/ 393) [و أحمد (2/ 344. 345 ح 8522) ] »
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
--. (يَا أُحُدُ اثْبُتْ، فَإِنَّ عَلَيْكَ نَبِيًّا وَصِدِّيقًا وَشَهِيدَيْنِ)
اے احد ٹھہر جا، تیرے اوپر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں
حدیث نمبر: 6083
[ 7 ] بَابُ مَنَاقِبِ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 6083 - عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَعِدَ أُحُدًا، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَرَجَفَ بِهِمْ، فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: (اثْبُتْ أُحُدُ، فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ) . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے، ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ تھے، اس نے حرکت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر اپنا پاؤں مار کر فرمایا: ”احد! ٹھہر جاؤ، تم پر ایک نبی ہے، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔“ [رواہ البخاری] ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6083]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3686)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (بِشَارَةُ الجَنَّةِ لِحَضْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ)
حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو جنت کی بشارت
حدیث نمبر: 6084
6084 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ) فَفَتَحْتُ لَهُ، فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ ، فَبَشَّرْتُهُ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ) فَفَتَحْتُ لَهُ، فَإِذَا عُمَرُ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ، فَقَالَ لِي: (افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ) فَإِذَا عُثْمَانُ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ، قَالَ: اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں مدینہ کے ایک باغ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک آدمی آیا اور اس نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو، اور اسے جنت کی بشارت دو۔“ چنانچہ میں نے اس شخص کے لیے دروازہ کھول دیا تو وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق انہیں جنت کی بشارت سنائی تو انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے بھی دروازہ کھولنے کا کہا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے بھی دروازہ کھول دو، اور اسے بھی جنت کی بشارت سناؤ۔“ چنانچہ میں نے اس کے لیے دروازہ کھولا تو وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق انہیں بھی جنت کی بشارت سنائی تو انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی، پھر ایک اور آدمی نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے بھی جنت کی بشارت سنا دو، ان مصائب کے بعد جن سے ان کا واسطہ پڑے گا۔“ تو وہ عثمان رضی اللہ عنہ تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق انہیں بتایا تو انہوں نے اللہ کی حمد بیان کی۔ پھر فرمایا: «اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ» ”اللہ ہی سے مدد درکار ہے“۔ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6084]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3693) و مسلم (28/ 2403)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (تَسْمِيَةُ الثَّلَاثَةِ بِتَرْتِيبِ الخِلَافَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تینوں کا نام خلافت کی ترتیب سے لیا جاتا تھا
حدیث نمبر: 6085
الْفَصْلُ الثَّانِي 6085 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيٌّ: أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کہا کرتے تھے۔ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6085]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (3707 وقال: حسن صحيح غريب) [و أصله في صحيح البخاري (3698) ] »
قال الشيخ الألباني: حسن صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
--. (رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خواب
حدیث نمبر: 6086
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 6086 - عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ كَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ، وَنِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ"قَالَ جَابِرٌ: فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْنَا: أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللَّهِ، وَأَمَّا نَوْطُ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ فَهُمْ وُلَاةُ الْأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”رات مجھے خواب میں ایک مردِ صالح دکھایا گیا گویا وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ معلق ہیں، عمر رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ معلق ہیں، اور عثمان رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ معلق ہیں۔“ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے اٹھے تو ہم نے کہا: مردِ صالح سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اور دوسرے جو ایک دوسرے کے ساتھ معلق ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس دین کے والی ہیں، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے۔ سندہ ضعیف، رواہ ابوداؤد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6086]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أبو داود (4636) [و صححه الحاکم (3/ 71. 72) ووافقه الذهبي]
٭ الزھري مدلس و عنعن و له شاھد ضعيف تقدم (6057)»
٭ الزھري مدلس و عنعن و له شاھد ضعيف تقدم (6057)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
--. (مَثَلُ الأَرْبَعَةِ كَمَثَلِ مُوسَى وَهَارُونَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ)
ان چاروں کے لئے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہم السلام کی مثال
حدیث نمبر: 6087
[ 8 ] بَابُ مَنَاقِبِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 6087 - عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ: (أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”آپ میرے لیے ایسے ہیں جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لیے ہارون علیہ السلام تھے، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ (متفق علیہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6087]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3706) و مسلم (30/ 2404)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
--. (مَحَبَّةُ حَضْرَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَامَةُ الإِيمَانِ وَعَدَاوَتُهُ عَلَامَةُ النِّفَاقِ)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت ایمان کی اور دشمنی نفاق کی نشانی ہے
حدیث نمبر: 6088
6088 - وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيَّ: أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
زر بن حبیش بیان کرتے ہیں، علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے دانے کو اگایا اور ہر ذی روح کو پیدا فرمایا! نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عہد دیا کہ ”مومن شخص ہی مجھ سے محبت کرے گا اور صرف منافق شخص ہی مجھ سے دشمنی رکھے گا۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6088]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (131/ 78)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح