🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (إِعْطَاءُ الرَّايَةِ فِي خَيْبَرَ)
خیبر میں جھنڈا دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6089
6089 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ:"لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهَ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ  . فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلُّهُمْ يَرْجُونَ أَنْ يُعْطَاهَا. فَقَالَ:"أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟". فَقَالُوا: هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ. قَالَ فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ". فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا؟ قَالَ:"انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِي اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَذَكَرَ حَدِيثَ الْبَرَاءِ، قَالَ لِعَلِيٍّ:"أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ"فِي بَابِ"بُلُوغِ الصَّغِيرِ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ خیبر کے موقع پر فرمایا: میں کل ایک ایسے شخص کو پرچم عطا کروں گا جس کے ہاتھوں اللہ فتح عطا فرمائے گا، وہ شخص اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اسے محبوب رکھتے ہیں۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو تمام لوگ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور وہ سب پرامید تھے کہ وہ (پرچم) اسے عطا کیا جائے گا۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انہیں بلاؤ۔ وہ آپ کے پاس لائے گئے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب لگایا تو وہ ایسے شفایاب ہوئے کہ گویا انہیں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پرچم انہیں عطا فرمایا تو علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! کیا میں ان سے لڑتا رہوں حتیٰ کہ وہ ہمارے جیسے (یعنی مسلمان) ہو جائیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یونہی چلتے رہو حتیٰ کہ تم ان کے میدان میں اترو، پھر انہیں اسلام کی دعوت پیش کرو اور انہیں بتاؤ کہ اللہ کے کیا حقوق ان پر واجب ہیں، اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعے اللہ کسی ایک آدمی کو ہدایت عطا فرما دے تو وہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ متفق علیہ۔ اور براء رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تو مجھ سے اور میں تم سے ہوں باب بلوغ الصغیر میں ذکر کی گئی ہے۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6089]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (2942) و مسلم (34/ 2406)
حديث البراء تقدم (3377)»
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَضْرَةُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ)
حضرت علی رضی اللہ عنہ ہر مؤمن کے ولی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6090
الْفَصْلُ الثَّانِي 6090 - عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:"إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور وہ ہر مومن کے دوست ہیں۔ اسنادہ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6090]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3712 وقال: غريب)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (مَنْ كُنْتُ صَدِيقَهُ فَعَلِيٌّ صَدِيقُهُ)
جس کا میں دوست اس کا علی دوست
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6091
6091 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: قَالَ"مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جس کا دوست ہوں، علی اس کے دوست ہیں۔ اسنادہ صحیح، رواہ احمد و الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6091]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده صحيح، رواه أحمد (4/ 368 ح 19494) والترمذي (3713 وقال: حسن غريب)
٭ و للحديث طريق کثيرة جدًا فھو من الأحاديث المتواترة .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ)
علی مجھ سے اور میں علی سے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6092
6092 - وَعَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ، وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ" . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
حُبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، اور میری طرف سے کوئی ادائیگی نہ کرے سوائے میرے اور علی کے۔ ترمذی، اور امام احمد نے اسے ابوجناوہ سے روایت کیا ہے۔ حسن، رواہ الترمذی و احمد۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6092]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (3719 وقال: حسن غريب صحيح) و أحمد (4/ 164 ح 17645)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَضْرَةُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِخْوَانٌ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ)
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا اور آخرت میں بھائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6093
6093 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: آخَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ، وَلَمْ تُؤَاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ)  رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تو علی رضی اللہ عنہ اشکبار آنکھوں کے ساتھ آئے اور عرض کیا: آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ہے، لیکن آپ نے میرے اور کسی اور کے درمیان بھائی چارہ قائم نہیں فرمایا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے دنیا اور آخرت میں بھائی ہو۔ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6093]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3720)
٭ حکيم بن جبير: ضعيف رمي بالتشيع، و جميع بن عمير: ضعيف ضعفه الجمھور .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَضْرَةُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحَبُّ عِبَادِ اللَّهِ تَعَالَى)
حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین بندے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6094
6094 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَيْرٌ، فَقَالَ:"اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّيْرَ"فَجَاءَهُ عَلِيٌّ، فَأَكَلَ مَعَهُ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک بھنا ہوا پرندہ تھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اپنی مخلوق میں سے اپنے محبوب ترین شخص کو میرے پاس بھیج جو میرے ساتھ اس پرندے کو کھائے۔ علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے آپ کے ساتھ تناول فرمایا۔ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث غریب ہے۔ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6094]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (3721)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِعْطَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لِحَضْرَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کچھ دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6095
6095 - وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَانِي وَإِذَا سَكَتُّ ابْتَدَأَنِي  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی چیز طلب کرتا تو آپ مجھے عطا فرماتے اور جب میں خاموش رہتا تو آپ طلب کیے بغیر مجھے عطا فرما دیتے تھے۔ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6095]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (3722)
٭ عبد الله بن عمرو بن ھند لم يسمع من علي رضي الله عنه . و جاء في المستدرک (3/ 125 ح 463) قال: ’’سمعت عليًا رضي الله عنه‘‘!!»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَضْرَةُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَابُ دَارِ الحِكْمَةِ)
حضرت علی رضی اللہ عنہ دارالحکمت کا دروازہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6096
6096 - وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ، وَعَلِيٌّ بَابُهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَالَ: رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَرِيكٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَحَدٍ مِنَ الثِّقَاتِ غَيْرَ شَرِيكٍ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں دار حکمت ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔ امام ترمذی ؒ نے کہا: یہ حدیث غریب ہے، اور انہوں نے فرمایا: بعض راویوں نے اس حدیث کو شریک سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس میں عن الصنابحی کا ذکر نہیں کیا، اور ہم شریک کے علاوہ یہ حدیث کسی ثقہ راوی سے نہیں جانتے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6096]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3723)
٭ شريک القاضي مدلس و عنعن و لم يثبت تصريح سماعه في ھذا الحديث و للحديث شواھد ضعيفة .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (سِرٌّ بَيْنَ حَضْرَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سرگوشی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6097
6097 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاهُ، فَقَالَ النَّاسُ: لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:"مَا انْتَجَيْتُهُ، وَلَكِنَّ اللَّهَ انْتَجَاهُ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، طائف کے روز رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے سرگوشی فرمائی۔ لوگوں نے کہا: آپ کی اپنے چچا زاد کے ساتھ سرگوشی طویل ہو گئی، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس سے سرگوشی نہیں کی، بلکہ اللہ نے اس سے سرگوشی کی ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6097]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3726 وقال: حسن غريب)
٭ أبو الزبير مدلس و عنعن .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (خُصُوصِيَّةٌ لِحَضْرَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک خصوصیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6098
6098 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ:"يَا عَلِيُّ، لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُجْنِبُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرَكَ"، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ: فَقُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ: مَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهُ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرَكَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: علی! میرے اور تمہارے سوا کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ حالت جنابت میں اس مسجد میں سے گزرے۔ علی بن منذر بیان کرتے ہیں، میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا: اس حدیث کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: میرے اور تیرے سوا کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ حالت جنابت میں مسجد سے راستے کا کام لے۔ ترمذی، اور انہوں نے کہا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6098]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3727)
٭ فيه عطية العوفي: ضعيف .»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں