🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (فَضِيلَةُ أَهْلِ البَيْتِ وَالأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ)
اہل بیت اور انصار رضی اللہ عنہم کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6249
6249 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَلَا إِنَّ عَيْبَتِيَ الَّتِي آوِي إِلَيْهَا أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّ كَرِشِيَ الْأَنْصَارُ  فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ وَاقْبَلُوا عَنْ مُحْسِنِهِمْ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”سن لو! میرے اہل بیت میرے خاص ہیں جہاں میں پناہ لیتا ہوں، اور میرے راز دان انصار ہیں، ان کے خطاکاروں سے درگزر کرو اور ان کے نیکوکاروں سے (عذر) قبول کرو۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے اور انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے، جبکہ اس کی اسناد ضعیف ہے، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6249]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3904)
٭ فيه عطية العوفي: ضعيف مشھور مع التدليس القبيح .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (ذِكْرُ عَدَاوَةِ الأَنْصَارِ)
انصار سے دشمنی کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6250
6250 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ أَحَدٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ  ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص انصار سے دشمنی نہیں رکھے گا۔“ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ صحیح، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6250]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «صحيح، رواه الترمذي (3906)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِرْسَالُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَامَهُ إِلَى قَوْمِ حَضْرَةِ طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی قوم کو اپنا سلام بھیجنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6251
6251 - وَعَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ، ابوطلحہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اپنی قوم کو سلام کہو، کیونکہ وہ سوال کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور لڑائی کے وقت صبر کرتے ہیں۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6251]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3903 و قال: حسن صحيح)
٭ فيه محمد بن ثابت البناني: ضعيف، وتابعه الضعيف: الحسن بن أبي جعفر .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضِيلَةُ الَّذِينَ شَارَكُوا فِي بَدْرٍ وَالحُدَيْبِيَةِ)
بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونے والوں کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6252
6252 - وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَشْكُو حَاطِبًا إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: كَذَبْتَ، لَا يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ  ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حاطب رضی اللہ عنہ کا غلام نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ سے حاطب کی شکایت کرتے ہوئے کہا: اللہ کے رسول! حاطب جہنم میں جائے گا۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تو جھوٹ کہتا ہے، وہ اس میں داخل نہیں ہو گا؛ کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکا ہے۔“ «رَوَاهُ مُسْلِمٌ» [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6252]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (162/ 2195)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضِيلَةُ حَضْرَةِ سَلْمَانَ الفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَهْلِ فَارِسَ)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور اہل فارس کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6253
6253 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَكَرَ اللَّهُ إِنْ تَوَلَّيْنَا اسْتُبْدِلُوا بِنَا، ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَنَا، فَضَرَبَ عَلَى فَخِذِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ  ، ثُمَّ قَالَ: هَذَا وَقَوْمُهُ، وَلَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنَ الْفُرْسِ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت ﴿وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ﴾ [سورة محمد: 38] تلاوت فرمائی: ”اگر تم پھر گئے تو اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا، پھر وہ تمہاری مانند نہیں ہوں گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ اگر ہم پھر گئے تو وہ ہماری جگہ آ جائیں گے اور وہ ہماری طرح نہیں ہوں گے؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی ران پر ہاتھ مار کر فرمایا: ”یہ اور ان کی قوم، اگر دین ثریا پر بھی ہوا تو فارسی لوگ اسے حاصل کر لیں گے۔“ سندہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6253]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه الترمذي (3260)
٭ شيخ من أھل المدينة مجھول .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَعْبِيرُ الثِّقَةِ بِأَهْلِ العَجَمِ)
اہل عجم پر اعتماد کا اظہار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6254
6254 - وَعَنْهُ قَالَ: ذُكِرَتِ الْأَعَاجِمُ  عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ: لَأَنَا بِهِمْ أَوْ بِبَعْضِهِمْ أَوْثَقُ مِنِّي بِكُمْ أَوْ بِبَعْضِكُمْ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس عجمیوں کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں ان پر یا ان کے بعض لوگوں پر تم سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد کرتا ہوں۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6254]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3932 وقال: غريب)
٭ صالح بن أبي صالح مھران ضعيف (انظر تقريب التهذيب: 2867) و سفيان بن وکيع ضعيف أيضًا .»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (أَرْبَعَةَ عَشَرَ رَقِيبًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چودہ رقیب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6255
الْفَصْلُ الثَّالِثُ 6255 - عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ رُقَبَاءَ وَأُعْطِيْتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عَشَرَ  . قُلْنَا: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: أَنَا وَابْنَايَ، وَجَعْفَرٌ، وَحَمْزَةُ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَبِلَالٌ، وَسَلْمَانُ، وَعَمَّارٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَأَبُو ذَرٍّ، وَالْمِقْدَادُ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کے سات برگزیدہ نگہبان ہوتے ہیں، جبکہ مجھے چودہ عطا کیے گئے ہیں“ ہم نے عرض کیا، وہ کون ہیں؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں اور میرے دو بیٹے (حسن و حسین رضی اللہ عنہما)، جعفر، حمزہ، ابوبکر، عمر، مصعب بن عمیر، بلال، سلمان، عمار، عبداللہ بن مسعود، ابوذر اور مقداد رضی اللہ عنہم۔“ اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6255]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (3785) [و صححه الحاکم (3/ 199) فتعقبه الذهبي بقوله: ’’بل کثير واهٍ‘‘]
٭ فيه کثير النواء: ضعيف .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضِيلَةُ حَضْرَةِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6256
6256 - وَعَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ كَلَامٌ فَأَغْلَظْتُ لَهُ فِي الْقَوْلِ، فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ خَالِدٌ وَهُوَ يَشْكُو إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَجَعَلَ يُغْلِظُ لَهُ وَلَا يَزِيدُهُ إِلَّا غِلْظَةً وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ، فَبَكَى عَمَّارٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرَاهُ! فَرَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَسَهُ وَقَالَ: مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ  . قَالَ خَالِدٌ: فَخَرَجْتُ فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رِضَا عَمَّارٍ فَلَقِيتُهُ بِمَا رَضِيَ فَرَضِيَ.
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے درمیان کسی معاملے میں مکالمہ ہو گیا تو میں نے ان سے سخت لہجے میں بات کی، تو عمار رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میری شکایت کرنے چلے گئے۔ خالد رضی اللہ عنہ آئے تو عمار رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خالد رضی اللہ عنہ کی شکایت کر رہے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ خالد رضی اللہ عنہ ان سے سخت لہجے میں بات کرنے لگے اور اس سختی میں اضافہ ہوتا چلا گیا جبکہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، کوئی بات نہیں کر رہے تھے۔ (اس پر) عمار رضی اللہ عنہ رو پڑے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ انہیں دیکھ نہیں رہے؟ تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھا کر فرمایا: «مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ» ”جس نے عمار سے عداوت رکھی اللہ اس سے عداوت رکھے گا اور جو شخص عمار سے بغض رکھے گا تو اللہ اس سے بغض رکھے گا۔“ خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں وہاں سے نکلا تو عمار رضی اللہ عنہ کی رضامندی کے سوا مجھے کوئی چیز زیادہ محبوب نہیں تھی، میں نے انہیں راضی کرنے کی کوشش کی یہاں تک کہ وہ راضی ہو گئے۔ [اسنادہ حسن، رواہ احمد] [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6256]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه أحمد (4/ 89 ح 16938) [والحاکم (3/ 390. 391) و صححه و للسند علة ذکرھا الذھبي و لکنھا غير قادحة] »
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَضْرَةُ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَيْفُ اللَّهِ تَعَالَى)
حضرت خالد رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کی تلوار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6257
6257 - وَعَنْ أَبِي عُبَادَةَ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: خَالِدٌ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنِعْمَ فَتَى الْعَشِيرَةِ  . رَوَاهُمَا أَحْمَدُ.
ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”خالد اللہ عزوجل کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں، اور اپنے قبیلے کے اچھے نوجوان ہیں۔“ دونوں احادیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔ «سَنَدُهُ ضَعِيْفٌ، رَوَاهُ أَحْمَدُ» ”سند ضعیف ہے، اسے احمد نے روایت کیا ہے۔“ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6257]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «سنده ضعيف، رواه أحمد (4/ 90 ح 16948)
٭ فيه عبد الملک بن عمير: مدلس و لم أجد تصريح سماعه فالسند ضعيف وقال رسول الله ﷺ في خالد بن الوليد رضي الله عنه: ’’حتي أخذ الراية سيف من سيوف الله حتي فتح الله عليھم‘‘ رواه البخاري في صحيحه (4262) و ھذا الحديث يغني عنه .»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (اللَّهُ تَعَالَى يُحِبُّ أَرْبَعَةَ صَحَابَةٍ وَأَمَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَحَبَّتِهِمْ)
اللہ تعالیٰ جن چار صحابہ سے محبت کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے محبت کرنے کا حکم دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6258
6258 - وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَمَرَ بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ. قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِّهِمْ لَنَا  ؟ قَالَ: عَلِيٌّ مِنْهُمْ، يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا وَأَبُو ذَرٍّ، وَالْمِقْدَادُ، وَسَلْمَانُ، أَمَرَنِي بِحُبِّهِمْ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے چار اشخاص سے محبت کرنے کا مجھے حکم فرمایا ہے، اور اس نے مجھے بتایا کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے۔“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہمیں ان کے نام بتا دیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”علی ان میں سے ہیں۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار ان کا نام لیا، ”(باقی) ابوذر، مقداد اور سلمان ہیں، اس نے مجھے ان سے محبت کرنے کا حکم فرمایا ہے اور اس نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے۔“ ترمذی، اور انہوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ «إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ» ”اس کی سند حسن ہے، اسے ترمذی نے روایت کیا ہے“۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6258]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «إسناده حسن، رواه الترمذي (3718) [و ابن ماجه (149) ]
٭ شريک القاضي صرح بالسماع عند أحمد (5/ 351 ح 22968) و حديثه حسن إذا صرح بالسماع و حدّث قبل اختلاطه .»
قال الشيخ الألباني: لم تتمّ دراسته
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں