🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (تَعْبِيرُ العَيْشِ وَالمَوْتِ مَعَ الأَنْصَارِ)
انصار کے ساتھ جینے اور مرنے کا اظہار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6219
6219 - وَعَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ  وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ. الْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ. قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلَّا ضِنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ: فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذُرَانِكُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، فتح مکہ کے روز ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ابوسفیان کے گھر داخل ہو جائے تو وہ امن میں ہے، جو ہتھیار ڈال دے وہ امن میں ہے۔“ انصار نے کہا: اس آدمی کو اپنے رشتہ داروں سے رحمت اور اپنے شہر کی محبت نے پکڑ لیا، (ان کی اس بات کے متعلق) رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوئی تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم نے کہا ہے کہ اس آدمی کو اپنے کنبے سے شفقت اور اپنے شہر سے محبت نے پکڑ لیا ہے، سن لو، ایسے نہیں، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں، میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی، میرا جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے۔“ انہوں نے عرض کیا، اللہ کی قسم! ہم نے تو محض اللہ اور اس کے رسول کی رفاقت کے حصول کے لیے ایسے کہا تھا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6219]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (86/ 1780)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَعْبِيرُ مَحَبَّةٍ لِلأَنْصَارِ)
انصار سے اظہار محبت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6220
6220 - وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى صِبْيَانًا وَنِسَاءً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ يَعْنِي الْأَنْصَارَ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (انصار کے) کچھ بچوں اور خواتین کو کسی شادی کی تقریب سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا: «اللَّهُمَّ أَنْتُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ» ”اے اللہ! (تو جانتا ہے) تم تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب ہو، اے اللہ! (تو جانتا ہے) تم یعنی انصار تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب ہو۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6220]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3785) و مسلم (174 / 2508)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَصِيَّةُ حُسْنِ السُّلُوكِ مَعَ الأَنْصَارِ)
انصار کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6221
6221 - وَعَنْهُ قَالَ مَرَّ أَبُو بَكْرٍ وَالْعَبَّاسُ بِمَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ الْأَنْصَارِ وَهُمْ يَبْكُونَ فَقَالَا مَا يُبْكِيكُمْ فَقَالُوا ذَكَرْنَا مَجْلِسَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَّا فَدَخَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ عَصَّبَ عَلَى رَأْسِهِ حَاشِيَةَ بُرْدٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ وَلَمْ يَصْعَدْ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي  . وَقَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر اور عباس رضی اللہ عنہما انصار کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ اس وقت رو رہے تھے، انہوں نے پوچھا: تم کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مجلس کو یاد کیا جس میں ہم (بیٹھا کرتے) تھے، ان دونوں میں سے ایک نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے اس کے متعلق آپ کو بتایا، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے سر مبارک پر کپڑے کی پٹی باندھے ہوئے باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے، اور اس روز کے بعد آپ منبر پر تشریف نہ لا سکے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”میں انصار کے بارے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں، وہ میرے جسم و جان (دست و بازو) ہیں، وہ اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے، اب ان کے حقوق باقی ہیں، تم ان کے نیکوکاروں کی طرف سے (عذر) قبول کرنا اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرنا۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6221]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3799)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَنَبُّؤٌ بِنُقْصَانِ الأَنْصَارِ)
انصار کے کم ہونے کی پیشگوئی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6222
6222 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُونُوا فِي النَّاسِ بِمَنْزِلَةِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ  فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ شَيْئًا يَضُرُّ فِيهِ قَوْمًا وَيَنْفَعُ فِيهِ آخَرِينَ فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَلْيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے مرض وفات میں باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ” «أَمَّا بَعْدُ!» باقی لوگ تو بہت زیادہ ہو جائیں گے جبکہ انصار کم ہو جائیں گے حتیٰ کہ وہ لوگوں میں نمک کے تناسب سے ہو جائیں گے، تم میں سے جو شخص کسی ایسی چیز کا ذمہ دار و سرپرست ہو جس میں وہ کسی کو نقصان اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ان (انصار) کے نیکوکاروں کے نیک کاموں کو قبول کرے اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرے۔“ رواہ البخاری رحمہ اللہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6222]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3628)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (دُعَاءُ المَغْفِرَةِ لِلأَنْصَارِ وَذُرِّيَّتِهِمْ)
انصار و اولاد انصار کے لئے دعا مغفرت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6223
6223 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ  . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ» ”اے اللہ! انصار، انصار کی اولاد اور انصار کی اولاد کی اولاد کی مغفرت فرما۔““ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6223]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (172/ 2506)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَفَاوُتُ مَرَاتِبِ أَفْضَلِيَّةِ قَبَائِلِ الأَنْصَارِ)
قبائل انصار کے افضلیت میں فرق مراتب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6224
6224 - وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ  ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفَى كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابواسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”انصار کا سب سے بہترین قبیلہ بنو نجار کا قبیلہ ہے، پھر بنو عبد الاشہل، پھر بنو حارث بن خزرج، پھر بنو ساعدہ اور انصار کے ہر قبیلے میں خیر ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6224]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3789) و مسلم (177/ 2511)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (وَعْدُ المَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ لِأَهْلِ بَدْرٍ)
اہل بدر سے مغفرت و بخشش کا وعدہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6225
6225 - وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ وَفِي رِوَايَةٍ وَأَبَا مَرْثَدٍ بَدَلَ الْمِقْدَادِ فَقَالَ: انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا فَانْطَلَقْنَا تَتَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا إِلَى الرَّوْضَةِ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ فَقُلْنَا أَخْرِجِي الْكِتَابَ قَالَتْ: مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ. فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَا حَاطِبُ مَا هَذَا؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَةٌ يَحْمُونَ بِهَا أَمْوَالَهُمْ وَأَهْلَهُمْ بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ كُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ  ."وَفِي رِوَايَةٍ قَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ کو، زبیر اور مقداد رضی اللہ عنہم کو (ایک دوسری روایت میں مقداد کے بجائے ابومرثد رضی اللہ عنہ کا نام ہے) کسی کام پر روانہ فرمایا، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”تم چلتے جانا حتیٰ کہ تم روضہ خاخ پر پہنچ جاؤ، وہاں ایک عورت ہو گی جس کے پاس ایک خط ہو گا، تم وہ اس سے لے لینا۔“ ہم روانہ ہوئے، ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے رہے حتیٰ کہ ہم روضہ خاخ پر پہنچ گئے اور وہاں ہمیں وہ عورت مل گئی۔ ہم نے کہا: خط نکالو! اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا: خط نکال دو ورنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے! چنانچہ اس نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال دیا، ہم وہ خط لے کر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس میں لکھا ہوا تھا: حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے اہل مکہ کے چند مشرکین کے نام، انہوں نے اس میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض امور کے متعلق انہیں خبر دی تھی۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”حاطب! یہ کیا (ماجرا) ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے متعلق جلدی نہ فرمائیں، میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میں قریش کا حلیف ہوں اور میں ان کے خاندان میں سے نہیں ہوں، اور آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ان کی تو ان سے قرابت ہے جس کی وجہ سے وہ مکہ میں اپنے اموال اور اہل و عیال کی حفاظت کر رہے ہیں، میں نے ان سے نسبی رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ پسند کیا کہ میں ان پر کوئی احسان کر دوں جس کی وجہ سے وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں گے۔ میں نے یہ نہ تو کفر کی وجہ سے کیا ہے، نہ اپنے دین سے ارتداد کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اسلام کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے کیا ہے، تب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس نے تم سے سچی بات کہی ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت فرمائیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں! رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اس شخص نے غزوۂ بدر میں شرکت کی ہے، اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ اہل بدر کے احوال سے پہلے ہی واقف تھا، اس لیے اس نے فرمایا: ”جو چاہو سو کرو، تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے۔““ ایک دوسری روایت میں ہے: ”میں تمہیں معاف کر چکا ہوں۔“ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ﴾ [سورة الممتحنة: 1] ”اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6225]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (6259 والرواية الثانية: 4274) و مسلم (161/ 2494)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضِيلَةُ الصَّحَابَةِ البَدْرِيِّينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ)
بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6226
6226 - وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ  ؟ قَالَ: مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جبرائیل علیہ السلام نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا: تم اہل بدر کو اپنے ہاں کس درجہ میں شمار کرتے ہو؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں سے سب سے افضل۔“ یا آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی طرح کی بات فرمائی۔ انہوں (جبرائیل علیہ السلام) نے فرمایا: اسی طرح جو فرشتے بدر میں شریک ہوئے ان کا بھی بلند درجہ ہے۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6226]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3992)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (بِشَارَةُ نَجَاةِ صَحَابَةِ غَزْوَةِ بَدْرٍ وَبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ مِنَ النَّارِ)
غزوہ بدر اور بیعت رضوان کے صحابہ کو جھنم سے چھٹکارے کی بشارت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6227
6227 - وَعَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ  . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:"وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا". قَالَ: فَلَمْ تَسْمَعِيهِ يَقُولُ:"ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا". وَفِي رِوَايَةٍ لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدُ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”میں امید کرتا ہوں کہ «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ غزوۂ بدر اور صلح حدیبیہ میں شرکت کرنے والا کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے: ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ ”تم میں سے ہر شخص نے اس پر وارد ہونا ہے“ [سورة مريم: 71] ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے سنا نہیں، وہ فرماتا ہے: ﴿ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِینَ اتَّقَوا﴾ ”پھر وہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو بچا لے گا“ [سورة مريم: 72] ۔“ ایک دوسری روایت میں ہے: ” «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ اصحابِ شجرہ جنہوں نے اس (درخت) کے نیچے بیعت کی تھی جہنم میں داخل نہیں ہوں گے۔“ (رواہ مسلم)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6227]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (163/ 2496)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضِيلَةُ الصَّحَابَةِ الَّذِينَ شَارَكُوا فِي بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ)
بیعت رضوان میں شریک صحابہ رضی اللہ عنہم کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6228
6228 - وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ، قَالَ لَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ  . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم چودہ سو افراد تھے، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا: ”آج زمین والوں میں سے تم سب سے بہتر ہو۔“ (متفق علیہ)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6228]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4154) و مسلم (71/ 1856)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں