🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مشکوۃ المصابیح میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (6294)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. (تَعْيِينُ حَضْرَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِحَضْرَةِ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَيِّدًا)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حضرت بلال رضی ا للہ عنہ کو سردار بنانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6259
6259 - وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ يَقُولُ:"أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا يَعْنِي بِلَالًا"رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ہمارے سردار ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمارے سردار یعنی بلال رضی اللہ عنہ کو آزاد کیا۔ (رواہ البخاری)۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6259]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3754)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (انْتِقَالُ حَضْرَةِ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى بِلَادِ الشَّامِ)
حضرت بلال رضی ا للہ عنہ کا ملک شام چلے جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6260
6260 - وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ: أَنَّ بِلَالًا قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِنَفْسِكَ فَأَمْسِكْنِي، وَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِلَّهِ فَدَعْنِي وَعَمَلَ اللَّهِ  . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ نے مجھے اپنی ذات کے لیے خریدا ہے تو پھر آپ مجھے روک رکھیں، اور اگر آپ نے مجھے اللہ کی خاطر خریدا ہے تو پھر مجھے چھوڑ دیں اور اللہ کے راستے میں عمل کرنے دیں۔ (رواہ البخاری) [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6260]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3755)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (إِيثَارٌ بَيْنَ حَضْرَةِ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَزَوْجَتِهِ بِلَا مِثَالٍ)
حضرت ابوطلحہ رضی ا للہ عنہ اور ان کی اہلیہ کا بےمثال ایثار
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6261
6261 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي مَجْهُودٌ. فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ  ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ، وَقُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ يُضِيفُهُ يَرْحَمْهُ اللَّهُ. فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ - يُقَالُ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ - فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ قَالَتْ: لَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي. قَالَ: فَعَلِّلِيهِمْ بِشَيْءٍ وَنَوِّمِيهِمْ فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَرِيهِ أَنَّا نَأْكُلُ فَإِذَا أَهَوَى بِيَدِهِ لِيَأْكُلَ فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ كَيْ تُصْلِحِيهِ فَأَطْفِئِيهِ فَفَعَلَتْ، فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ، وَبَاتَا طَاوِيَيْنِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ أَوْ ضَحِكَ اللَّهُ مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانَةٍ. وَفِي رِوَايَةٍ مِثْلَهُ وَلَمْ يُسَمِّ أَبَا طَلْحَةَ، وَفِي آخِرِهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى"وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: ”مجھے شدید بھوک لگی ہوئی ہے“، چنانچہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی کسی زوجہ محترمہ کے پاس پیغام بھیجا تو انہوں نے عرض کیا: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میرے پاس تو صرف پانی ہے“، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری محترمہ کے پاس پیغام بھیجا تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا، اور تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے یہی جواب دیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”جو اس کی مہمان نوازی کرے گا اللہ اس پر رحم فرمائے گا“، انصار میں سے ایک آدمی (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ) کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! میں (اسے لے جاتا ہوں)“، وہ اسے اپنے گھر لے گئے اور اپنی اہلیہ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا: ”صرف میرے بچوں کے لیے کھانا ہے“، انہوں نے فرمایا: ”کسی چیز کے ذریعے انہیں دلاسا دے کر سلا دو، جب ہمارا مہمان داخل ہو تو اسے ظاہر کرنا کہ ہم کھا رہے ہیں، جب وہ کھانے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھائے تو چراغ درست کرنے کے بہانے اسے بجھا دینا“، چنانچہ انہوں نے ایسے ہی کیا، وہ بیٹھ گئے، مہمان نے کھانا کھا لیا اور ان دونوں (میاں بیوی) نے بھوکے رہ کر رات بسر کی، جب صبح کے وقت وہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے فلاں مرد اور فلاں عورت (کے ایثار) پر تعجب فرمایا، یا اللہ ان دونوں پر ہنس پڑا“، ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا، اور اس روایت کے آخر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ [سورة الحشر: 9] ”وہ اپنی جانوں پر دوسرے کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود بھی ضرورت ہوتی ہے“، متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6261]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4889) و مسلم (172 / 2054)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفق عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (حَضْرَةُ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَبْدٌ صَالِحٌ لِلَّهِ تَعَالَى)
حضرت خالد رضی ا للہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اچھے بندے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6262
6262 - وَعَنْهُ قَالَ: نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْزِلًا فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ، فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ هَذَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ فَأَقُولُ: فُلَانٌ. فَيَقُولُ: نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا، وَيَقُولُ: مَنْ هَذَا؟ فَأَقُولُ: فُلَانٌ. فَيَقُولُ: بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ حَتَّى مَرَّ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ. فَقَالَ: نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ  . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو لوگ ادھر ادھر پھرنے لگے، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: ”ابوہریرہ! یہ کون ہے؟“ میں عرض کرتا: فلاں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: ”یہ اللہ کا بندہ اچھا ہے۔“ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پوچھتے: ”یہ کون ہے؟“ میں عرض کرتا: فلاں ہے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: ”یہ اللہ کا بندہ برا ہے۔“ حتیٰ کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ گزرے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا بندہ خالد بن ولید اچھا ہے، وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔“ حسن، رواہ الترمذی۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6262]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «حسن، رواه الترمذي (3846)»
قال الشيخ الألباني: ضَعِيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (طَلَبُ الأَنْصَارِ دُعَاءً لِأَتْبَاعِهِمْ)
انصار کی اپنے اتباع کے لئے دعا کی درخواست
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6263
6263 - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ لِكُلِّ نَبِيٍّ أَتْبَاعٌ  وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا فَدَعَا بِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، انصار نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ہر نبی کے پیروکار ہوتے ہیں، ہم نے بھی آپ کی اتباع کی ہے، آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہمارے متبعین کو ہم میں شریک فرما دے، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی دعا فرمائی۔ [رواہ البخاری] [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6263]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (3787)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (عِزَّةُ الأَنْصَارِ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى بِسَبَبِ تَضْحِيَةِ أَنْفُسِهِمْ)
انصار جان کی قربانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں باعزت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6264
6264 - وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: مَا نَعْلَمُ حَيًّا مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ أَكْثَرَ شَهِيدًا أَعَزَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْأَنْصَارِ  قَالَ: وَقَالَ أَنَسٌ: قُتِلَ مِنْهُمْ يَوْمَ أُحُدٍ سَبْعُونَ، وَيَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ سَبْعُونَ، وَيَوْمَ الْيَمَامَةِ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ سَبْعُونَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم قبائلِ عرب میں سے کوئی ایسا قبیلہ نہیں جانتے جس کے شہداء کی تعداد انصار سے زیادہ ہو، روزِ قیامت سب سے زیادہ معزز قبیلہ انصار کا قبیلہ ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں، انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: غزوۂ احد میں ان کے ستر آدمی شہید ہوئے، بئرِ معونہ کے واقعہ میں ستر شہید ہوئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں یمامہ کی لڑائی میں ستر شہید ہوئے۔ [رواہ البخاری] [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6264]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4078)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (تَفْضِيلُ حَضْرَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلَّذِينَ شَارَكُوا فِي بَدْرٍ)
حضرت عمر رضی ا للہ عنہ کا بدر میں شریک ہونے والوں کو فضیلت دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6265
6265 - وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: عَطَاءُ الْبَدْرِيِّينَ  خَمْسَةُ آلَافٍ، وَقَالَ عُمَرُ: لَأُفَضِّلَنَّهُمْ عَلَى مَنْ بَعْدَهُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا وظیفہ پانچ پانچ ہزار تھا، اور عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ان کو ان کے بعد والوں پر فضیلت دوں گا۔ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6265]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (4022)
٭ تسمية من سمي من أھل البدر، في صحيح البخاري (کتاب المغازي باب: 13 بعد ح 4027)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:رواه البخاري (4022)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضِيلَةُ حَضْرَةِ أُوَيْسٍ القَرَنِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ)
حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6266
بَابُ ذِكْرِ الْيَمَنِ وَالشَّامِ وَذِكْرِ أُوَيْسٍ الْقَرَنِيِّ الْفَصْلُ الْأَوَّلُ 6266 - عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ رَجُلًا يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ لَا يَدَعُ بِالْيَمَنِ غَيْرَ أُمٍّ لَهُ، قَدْ كَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَدَعَا اللَّهَ فَأَذْهَبَهُ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّينَارِ أَوِ الدِّرْهَمِ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ، وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ وَلَهُ وَالِدَةٌ وَكَانَ لَهُ بَيَاضٌ فَمُرُوهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”یمن سے اویس نامی شخص تمہارے پاس آئے گا، وہ یمن میں صرف اپنی والدہ کو چھوڑ آئے گا، اسے برص تھا، اس نے اللہ سے دعا کی تو اس نے دینار یا درہم کے برابر جگہ کے علاوہ اس مرض کو ختم کر دیا، جو شخص اس سے ملاقات کرے تو وہ تمہارے لیے اس سے دعائے مغفرت کی درخواست کرے۔“ ایک دوسری روایت میں ہے، فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تابعین میں سے سب سے بہتر شخص اویس ہے، اس کی والدہ ہے، اسے برص کا مرض تھا، تم اس سے درخواست کرنا کہ وہ تمہارے لیے دعائے مغفرت کرے۔“ رواہ مسلم۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6266]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه مسلم (223 / 2542)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (فَضِيلَةُ أَهْلِ اليَمَنِ)
اہل یمن کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6267
6267 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ قَالَ: أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ وَأَلْيَنُ قُلُوبًا الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ  وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”یمن والے تمہارے پاس آئے ہیں، وہ رقیق القلب اور نرم دل ہیں، ایمان یمن والوں کا ہے اور حکمت بھی یمن والوں کی ہے، فخر و غرور اونٹ والوں میں ہوتا ہے جبکہ سکینت و وقار بکری والوں میں ہوتا ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6267]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (4388) و مسلم (86. 84 / 52)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
--. (الكُفْرُ مَنْشَؤُهُ المَشْرِقُ)
کفر منشاء مشرق ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6268
6268 - وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: رَأَسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ  وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ”کفر کا سرچشمہ مشرق میں ہے، فخر و غرور گھوڑے والوں، اونٹ والوں اور جاگیر داروں میں ہے جو اونٹ کے بالوں سے بنے ہوئے خیموں میں رہتے ہیں، اور سکینت بکری والوں میں ہے۔“ متفق علیہ۔ [مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6268]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «متفق عليه، رواه البخاري (3301) و مسلم (85/ 52)»
قال الشيخ الألباني: مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں