🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1169
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ : ذَكَرْتُ ابْنَةَ حَمْزَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1169]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1170
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي الْمُوَرِّعِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَقَالَ:" مَنْ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَلَا يَدَعُ قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ، وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخَهَا، وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ؟"، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا، ثُمَّ هَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَجَلَسَ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَانْطَلَقْتُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَدَعْ بِالْمَدِينَةِ قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ، وَلَا صُورَةً إِلَّا طَلَخْتُهَا، وَلَا وَثَنًا إِلَّا كَسَّرْتُهُ، قَالَ: فَقَالَ:" مَنْ عَادَ فَصَنَعَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ، يَا عَلِيُّ، لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا، أَوْ قَالَ: مُخْتَالًا، وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ الْخَيْرِ، فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمْ الْمُسَوِّفُونَ فِي الْعَمَلِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ ایک جنازے میں شریک تھے، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون شخص مدینہ منورہ جائے گا کہ وہاں جا کر کوئی بت ایسا نہ چھوڑے جسے اس نے توڑ نہ دیا ہو، کوئی قبر ایسی نہ چھوڑے جسے برابر نہ کر دے، اور کوئی تصویر ایسی نہ دیکھے جس پر گارا اور کیچڑ نہ مل دے؟“ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں یہ کام کروں گا، چنانچہ وہ آدمی روانہ ہو گیا، لیکن جب مدینہ منورہ پہنچا تو وہ اہل مدینہ سے مرعوب ہو کر واپس لوٹ آیا۔ یہ دیکھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں جاتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، چنانچہ جب وہ واپس آئے تو عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے جہاں بھی کسی نوعیت کا بت پایا اسے توڑ دیا، جو قبر بھی نظر آئی اسے برابر کر دیا، اور جو تصویر بھی دکھائی دی اس پر کیچڑ ڈال دیا۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب جو شخص ان کاموں میں سے کوئی کام دوبارہ کرے گا گویا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ وحی کا انکار کرتا ہے۔“ نیز یہ بھی فرمایا کہ ”اے علی! تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے، یا شیخی خورے مت بننا، صرف خیر ہی کے تاجر بننا، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر صرف عمل کے ذریعے ہی سبقت لے جانا ممکن ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1170]

الحكم على الحديث:
إسناد ضعيف لجهالة أبي المورع، وقصة طمس الصورة و تسوية القبر المشرف مضت باءسناد صحيح، برقم : 741
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1171
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْتُ فِيهَا، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا"، قَالَ: فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے ہدیہ کے طور پر ایک ریشمی جوڑا آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر باہر نکلا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آگئے حتی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر ناراضگی کے اثرات دیکھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں یہ پہننے کے لئے نہیں دیا تھا۔“ پھر مجھے حکم دیا تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1171]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ : 2614، م : 2071
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1172
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمَلَائِكَةُ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، وَلَا جُنُبٌ، وَلَا كَلْبٌ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی جنبی ہو، یا تصویر، یا کتا ہو۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1172]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، دون ذكر الجنب، وهذا إسناد ضعيف لعلل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1173
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَلَسَ فِي الرَّحَبَةِ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ، فَلَمَّا حَضَرَتْ الْعَصْرُ أُتِيَ بِتَوْرٍ، فَأَخَذَ حَفْنَةَ مَاءٍ، فَمَسَحَ يَدَيْهِ وَذِرَاعَيْهِ وَوَجْهَهُ وَرَأْسَهُ وَرِجْلَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبُوا وَهُمْ قِيَامٌ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ".
نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے سامنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر مسجد کے صحن میں بیٹھ گئے تاکہ لوگوں کے مسائل حل کریں، جب نماز عصر کا وقت آیا تو انہوں نے چلو بھر کر پانی لیا اور اپنے ہاتھوں، بازؤوں، چہرے، سر اور پاؤں پر پانی کا گیلا ہاتھ پھیرا، پھر کھڑے کھڑے وہ پانی پی لیا اور فرمایا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا ہے، اور جو آدمی بےوضو نہ ہو بلکہ پہلے سے اس کا وضو موجود ہو، یہ اس شخص کا وضو ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1173]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 5616
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1174
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أخبرنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أُتِيَ بِكُوزٍ.
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1174]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1175
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: الْحَكَمُ أَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَأَمَرَهُ أَنْ" يُسَوِّيَ الْقُبُورَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ انہیں مدینہ منورہ بھیجا اور تمام قبریں برابر کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1175]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة آبي محمد الهذلي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي شَيْبَانُ أَبُو مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أخبرنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ، وَأَنْ يُلَطِّخَ كُلَّ صَنَمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَدْخُلَ بُيُوتَ قَوْمِي، قَالَ: فَأَرْسَلَنِي، فَلَمَّا جِئْتُ، قَالَ:" يَا عَلِيُّ، لَا تَكُونَنَّ فَتَّانًا، وَلَا مُخْتَالًا، وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجِرَ خَيْرٍ، فَإِنَّ أُولَئِكَ مُسَوِّفُونَ، أَوْ مَسْبُوقُونَ، فِي الْعَمَلِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری آدمی کو بھیجا اور اسے حکم دیا کہ ”ہر قبر برابر کر دو، اور ہر بت پر گارا مل دو۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنی قوم کے گھروں میں داخل نہیں ہونا چاہتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا، جب میں واپس آیا تو فرمایا کہ ”تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے یا شیخی خورے مت بننا، صرف خیر ہی کے تاجر بننا، کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن پر صرف عمل کے ذریعے ہی سبقت لے جانا ممکن ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1176]

الحكم على الحديث:
إسناد ضعيف ، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1177
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، قَالَ: وَأَهْلُ الْبَصْرَةِ يُكَنُّونَهُ أَبَا مُوَرِّعٍ، قَالَ: وَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي مُحَمَّد، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ أَبِي شِهَابٍ.
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1177]

الحكم على الحديث:
إسناد ضعيف ، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ. ح وحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ عُرْفُطَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، قَالَ:" فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا مَعَ الِاسْتِنْشَاقِ بِمَاءٍ وَاحِدٍ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، قَالَ حَجَّاجٌ: ثَلَاثًا ثَلَاثًا، بِيَدٍ وَاحِدَةٍ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي التَّوْرِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، قَالَ حَجَّاجٌ: فَأَشَارَ بِيَدَيْهِ مِنْ مُقَدَّمِ رَأْسِهِ إِلَى مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ، قَالَ: وَلَا أَدْرِي أَرَدَّهَا إِلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ أَمْ لَا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، قَالَ حَجَّاجٌ: ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمّ قَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کرسی لائی گئی، میں نے انہیں اس پر بیٹھے ہوئے دیکھا، پھر ایک برتن لایا گیا، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر ایک ہی پانی سے تین مرتبہ کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازوؤں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر دوبارہ اپنے ہاتھوں کو برتن میں ڈالا اور دونوں ہتھیلیوں سے سر کا ایک مرتبہ آگے سے پیچھے کی طرف مسح کیا، اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، پھر فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے، جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنا چاہے تو وہ یہی ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1178]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں