مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 1199
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أًبُو بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ: أَتَيْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ صَلَّى،" فَدَعَا بِكُوزٍ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثَلَاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، تَمَضْمَضَ مِنَ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَيَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا، وَيَدَهُ الشِّمَالَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهُوَ هَذَا".
عبدخیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ فجر کی نماز پڑھ چکے تھے، انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، تین مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر ایک ہی کف سے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ چہرہ دھویا، دونوں بازؤوں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، اور فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو معلوم کرنا چاہتا ہے تو وہ یہی ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1199]
الحكم على الحديث:
صحيح ، ابو بحر البكراوي - وان كان فيه ضعف- قد توبع
حدیث نمبر: 1200
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" فَمَرَّ بِهِ جَنَازَةٌ، فَقَامَ لَهَا نَاسٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَنْ أَفْتَاكُمْ هَذَا؟! فَقَالُوا: أَبُو مُوسَى، قَالَ: إِنَّمَا فَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً، وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِأَهْلِ الْكِتَابِ، فَلَمَّا نُهِيَ انْتَهَى".
ابومعمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے، وہاں سے ایک جنازہ گذرا، لوگ اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تمہیں یہ مسئلہ کس نے بتایا ہے؟ لوگوں نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام لیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح صرف ایک مرتبہ کیا تھا اور وہ بھی اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب کی مشابہت اختیار فرمایا کرتے تھے، لیکن جب اس کی ممانعت کر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1200]
الحكم على الحديث:
صحيح، ليث ضعيف وقد توبع
حدیث نمبر: 1201
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ:" أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى، فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ، وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ لِأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ، فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا، قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ: وَمِنْ السَّنَامِ؟ قَالَ: جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، فَذَهَبَ بِهَا، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي، فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ، فَانْطَلَقَ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ، فَقَالَ: هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي! فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ، وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے مال غنیمت سے مجھے ایک عمر رسیدہ اونٹنی حاصل ہوئی تھی اور ایک ایسی ہی اونٹنی مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی، ایک دن میں نے ان دونوں کو ایک انصاری کے گھر کے دروازے پر بٹھایا، میرا ارادہ تھا کہ ان پر اذخر نامی گھاس کو لاد کر بازار لے جاؤں گا اور اسے بیچ دوں گا، میرے ساتھ بنو قینقاع کا ایک سنار بھی تھا، جس سے میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ولیمے میں کام لینا چاہتا تھا۔ ادھر اس انصاری کے گھر میں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شراب پی رہے تھے (کیونکہ اس وقت تک شراب کی حرمت کا حکم نازل نہیں ہوا تھا)، اونٹنیوں کو دیکھ کر وہ اپنی تلوار لے کر ان پر پل پڑے، ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور جگر نکال لئے اور انہیں اندر لے گئے، میں نے جب یہ منظر دیکھا تو میں بہت پریشان ہوا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ نکلے، سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور ان سے خوب ناراضگی کا اظہار کیا، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا اور فرمایا کہ تم سب میرے باپ کے غلام ہی تو ہو، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں واپس چلے آئے، اور یہ واقعہ حرمت شراب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1201]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 2375، م :1979
حدیث نمبر: 1202
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، قَالَ: قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا تُحَدِّثُنَا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَالتَّطَوُّعِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّكُمْ وَاللَّهِ لَا تُطِيقُونَهَا، فَقَالُوا لَهُ: أَخْبِرْنَا بِهَا نَأْخُذْ مِنْهَا مَا أَطَقْنَا... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.
حدیث نمبر (650) یہاں اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1202]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 1203
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ إِمْلَاءً عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، فَقَالَ: كَانَ" يُصَلِّي سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً، قَالَ: يُصَلِّي إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا كَصَلَاةِ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي إِذَا كَانَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا كَهَيْئَتِهَا مِنْ هَاهُنَا كَصَلَاةِ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَبَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ، وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ".
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کل سولہ رکعتیں پڑھتے تھے، فجر کی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر انتظار فرماتے، جب سورج مشرق سے اس مقدار میں نکل آتا جتنا عصر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھتے، پھر تھوڑی دیر انتظار فرماتے، اور جب سورج مشرق سے اتنی مقدار میں نکل آتا جتنا ظہر کی نماز کے بعد مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر چار رکعت نماز پڑھتے، پھر سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں ظہر کے بعد اور چار رکعتیں عصر سے پہلے پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1203]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 1204
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابني محمد بن علي، عَنْ أَبِيهِمَا مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، وَبَلَغَهُ أَنَّهُ رَخَّصَ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ" نَهَى عَنْهَا يَوْمَ خَيْبَر، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے زمانے میں ہی نکاح متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت فرما دی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تھا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1204]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح ، خ : 5115 ، م : 1407
حدیث نمبر: 1205
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ" تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسَهُ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وَضُوئِهِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا".
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھویا، اور وضو سے بچا ہوا پانی پی لیا، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ وضو دیکھنا چا ہے وہ اسے دیکھ لے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1205]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 1206
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ شَيْخٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ: سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" أُعْطِيَ كُلُّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ مِنْ أُمَّتِهِ، وَأُعْطِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ نَجِيبًا مِنْ أُمَّتِهِ، مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا".
عبداللہ بن ملیل رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے ہیں، ان میں سے ہر ایک کو سات نقباء، وزراء، نجباء دیئے گئے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصیت کے ساتھ چودہ وزراء، نقباء، نجباء دیئے گئے جن میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1206]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 1207
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَكَانَ" إِذَا شَهِدَ مَشْهَدًا، أَوْ أَشْرَفَ عَلَى أَكَمَةٍ، أَوْ هَبَطَ وَادِيًا، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي يَشْكُرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى نَسْأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، رَأَيْنَاكَ إِذَا شَهِدْتَ مَشْهَدًا، أَوْ هَبَطْتَ وَادِيًا، أَوْ أَشْرَفْتَ عَلَى أَكَمَةٍ، قُلْتَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَهَلْ عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ شَيْئًا فِي ذَلِكَ؟ قَالَ: فَأَعْرَضَ عَنَّا وَأَلْحَحْنَا عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ، قَالَ: وَاللَّهِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا إِلَّا شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَى النَّاسِ، وَلَكِنَّ النَّاسَ وَقَعُوا عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَتَلُوهُ، فَكَانَ غَيْرِي فِيهِ أَسْوَأَ حَالًا وَفِعْلًا مِنِّي، ثُمَّ إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَحَقُّهُمْ بِهَذَا الْأَمْرِ، فَوَثَبْتُ عَلَيْهِ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَصَبْنَا أَمْ أَخْطَأْنَا".
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ جب بھی لوگوں کے کسی مجمع کو دیکھتے، یا کسی ٹیلے پر چڑھتے، یا کسی وادی میں اترتے تو فرماتے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ، صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ.» میں نے بنو یشکر کے ایک آدمی سے کہا کہ آؤ، ذرا امیر المومنین سے یہ بات پوچھتے ہیں کہ «صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ» سے ان کی کیا مراد ہوتی ہے؟ چنانچہ ہم دونوں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: امیر المومنین! ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپ کسی مجمع کو دیکھیں، کسی وادی میں اتریں، یا کسی ٹیلے پر چڑھیں تو آپ «صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهُ» کہتے ہیں، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے آپ کو کچھ بتا رکھا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمارا سوال سن کر اعراض فرمایا، لیکن ہم نے بہت اصرار کیا، جب انہوں نے ہمارا اصرار دیکھا تو فرمایا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی بات بتائی ہے تو وہ لوگوں کو بھی بتائی ہے، لیکن لوگ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑ گئے یہاں تک کہ انہیں شہید کر کے ہی دم لیا، اب میرے علاوہ دوسرے لوگوں کا حال بھی کچھ بہتر نہ تھا اور کام بھی، پھر میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ مجھے خلافت کا حق بھی پہنچتا ہے اس لئے میں اس سواری پر سوار ہو گیا، اب اللہ جانتا ہے کہ ہم نے صحیح کیا یا غلط؟ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1207]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد و هو ابن جدعان
حدیث نمبر: 1208
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ . ح قَالَ عَبْد اللَّهِ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَإِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ؟ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ :" تِلْكَ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، وَقَلَّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَيْهَا".
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت کس طرح نوافل پڑھتے تھے؟ فرمایا: پورے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کی سولہ رکعتیں ہوتی تھیں لیکن ان پر دوام کرنے والے بہت کم ہیں۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 1208]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي