🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 599
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ بَعْدَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِلَّا فَهْمٌ يُؤْتِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا فِي الْقُرْآنِ، أَوْ مَا فِي الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ:" الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَلَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ".
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے قرآن کے علاوہ بھی آپ کو کچھ ملا ہے؟ فرمایا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جانداروں کو تندرستی بخشی، سوائے اس سمجھ اور فہم و فراست کے جو اللہ تعالیٰ کسی شخص کو فہم قرآن کے حوالے سے عطاء فرما دے یا وہ چیز جو اس صحیفہ میں ہے اور کچھ نہیں ملا، میں نے پوچھا کہ اس صحیفے میں کیا ہے؟ فرمایا: دیت کے احکام، قیدیوں کو چھوڑنے کے مسائل اور یہ کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 599]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6903
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 600
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ ، وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ:" انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ، فَخُذُوهُ مِنْهَا"، فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ، فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ، فَقُلْنَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ، قَالَتْ: مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ، قُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنَقْلِبَنَّ الثِّيَابَ، قَالَ: فَأَخْرَجَتْ الْكِتَابَ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَخَذْنَا الْكِتَابَ، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ، يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا حَاطِبُ، مَا هَذَا؟"، قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ، وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا، وَكَانَ مَنْ كَانَ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ أَهْلِيهِمْ بِمَكَّةَ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي، وَمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ كُفْرًا، وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي، وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ"، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ:" إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدْ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو ایک جگہ بھیجتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگ روانہ ہو جاؤ، جب تم روضہ خاخ میں پہنچو گے تو وہاں تمہیں ایک عورت ملے گی جس کے پاس ایک خط ہو گا تم اس سے وہ خط لے کر واپس آ جانا، چنانچہ ہم لوگ روانہ ہو گئے، ہمارے گھوڑے ہمارے ہاتھوں سے نکلے جاتے تھے، یہاں تک کہ ہم روضہ خاخ جا پہنچے، وہاں ہمیں واقعۃ ایک عورت ملی، ہم نے اس سے کہا کہ تیرے پاس جو خط ہے وہ نکال دے، اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہم نے اس سے کہا کہ یا تو، تو خود ہی خط نکال دے ورنہ ہم تجھے برہنہ کر دیں گے۔ مجبور ہو کر اس نے اپنے بالوں کی چوٹی میں سے ایک خط نکال کر ہمارے حوالے کر دیا، ہم وہ خط لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس خط کو جب کھول کر دیکھا گیا تو پتہ چلا کہ وہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے کچھ مشرکین مکہ کے نام تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فیصلے کی خبر دی گئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ حاطب! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے معاملے میں جلدی نہ کیجئے گا، میں قریش سے تعلق نہیں رکھتا، البتہ ان میں شامل ہو گیا ہوں، آپ کے ساتھ جتنے بھی مہاجرین ہیں، ان کے مکہ مکرمہ میں رشتہ دار موجود ہیں جن سے وہ اپنے اہل خانہ کی حفاظت کروا لیتے ہیں، میں نے سوچا کہ میرا وہاں کوئی نسبی رشتہ دار تو موجود نہیں ہے، اس لئے ان پر ایک احسان کر دوں تاکہ وہ اس کے عوض میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں، میں نے یہ کام کافر ہو کر، یا مرتد ہو کر، یا اسلام کے بعد کفر کو پسند کرتے ہوئے نہیں کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے تم سے سچ بیان کیا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شدت جذبات سے مغلوب ہو کر فرمایا: مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں اور تمہیں کیا خبر کہ اللہ نے آسمان سے اہل بدر کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا: تم جو کچھ کرتے رہو میں تمہیں معاف کرچکا۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 600]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3007، م : 2494
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 601
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَالِمٍ أَبِي جَهْضَمٍ ، أَنَّ أَبَا جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانِي عَنْ ثَلَاثَةٍ، قَالَ: فَمَا أَدْرِي لَهُ خَاصَّةً، أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً:" نَهَانِي عَنِ الْقَسِّيِّ، وَالْمِيثَرَةِ، وَأَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں سے منع فرمایا ہے، اب مجھے معلوم نہیں کہ ان کی ممانعت خصوصیت کے ساتھ میرے لئے ہے یا سب کے لئے عام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشم اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 601]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناده ضعيف، عطاء بن السائب قد اختلط هو منقطع، فإن على بن الحسين والد أبى جعفر الباقر لم يدرك جده على بن أبى طالب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 602
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ يَعْنِي الْيَمَامِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْيَمَامِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ:" يَا عَلِيُّ، هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَشَبَابِهَا بَعْدَ النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ سامنے سے حضرات شیخین رضی اللہ عنہما آتے ہوئے دکھائی دیئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! یہ دونوں حضرات انبیاء و مرسلین کے علاوہ جنت کے تمام بوڑھوں اور جوانوں کے سردار ہیں۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 602]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 603
(حديث مرفوع) أخبرنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ ، سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ، فَقُلْتُ: مَا لِي مِنْ شَيْءٍ، فَكَيْفَ؟ ثُمَّ ذَكَرْتُ صِلَتَهُ وَعَائِدَتَهُ، فَخَطَبْتُهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ؟"، قُلْتُ: لَا، قَالَ:" فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا؟"، قَالَ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ:" فَأَعْطِنيِهَا"، قال: فأَعَطْيُتها إِيَّاهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے لئے پیغام نکاح بھیجنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا کہ میرے پاس تو کچھ ہے نہیں، پھر یہ کیسے ہو گا؟ پھر مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانی اور شفقت یاد آئی چنانچہ میں نے پیغام نکاح بھیج دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے بھی؟ میں نے عرض کیا: نہیں! فرمایا: ”تمہاری وہ حطمیہ کی زرہ کیا ہوئی جو میں نے تمہیں فلاں دن دی تھی؟“ عرض کیا کہ وہ تو میرے پاس ہے؟ فرمایا: ”پھر وہی دے دو“، چنانچہ میں نے وہ لا کر انہی کو دے دی۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 603]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل الذى سمع عليا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 604
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَخْدِمُهُ، فَقَالَ:" أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ ذَلِكَ؟ تُسَبِّحِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ"، أَحَدُهَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خادم کی درخواست لے کر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ اللہ اکبر اور ٣٣ مرتبہ الحمدللہ کہہ لیا کرو، ان میں سے کوئی ایک ٣٤ مرتبہ کہہ لیا کرو۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 604]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5362، م: 2727
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 605
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَسْلَمَةُ الرَّازِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ الْمُفَتَّنَ التَّوَّابَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بندہ مومن کو پسند کرتا ہے جو آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد توبہ کر لے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 605]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جداً شبه موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 606
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَكُنْتُ أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" يَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بکثرت مذی آتی تھی، چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں اس لئے مجھے خود یہ مسئلہ پوچھتے ہوئے شرم آتی تھی، میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھیں، چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص اپنی شرمگاہ کو دھو کر وضو کر لیا کرے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 606]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 132، م: 303
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 607
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكَرَّمٍ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 607]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، وسيأتي برقم: 968، ..... عن ابن إسحاق حدثني عمي عبدالرحمن بن يسار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 608
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ مِقْسَمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ الْعُكْلِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدْخَلَانِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَكُنْتُ إِذَا دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي تَنَحْنَحَ، فَأَتَيْتُهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ:" أَتَدْرِي مَا أَحْدَثَ الْمَلَكُ اللَّيْلَةَ؟ كُنْتُ أُصَلِّي، فَسَمِعْتُ خَشْفَةً فِي الدَّارِ، فَخَرَجْتُ، فَإِذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: مَا زِلْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ أَنْتَظِرُكَ، إِنَّ فِي بَيْتِكَ كَلْبًا، فَلَمْ أَسْتَطِعْ الدُّخُولَ، وَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا جُنُبٌ، وَلَا تِمْثَالٌ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں روزانہ صبح و شام دو مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہونا چاہتا اور وہ نماز پڑھ رہے ہوتے تو کھانس دیا کرتے تھے، ایک مرتبہ میں رات کے وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں پتہ ہے آج رات فرشتے نے کیا کیا؟ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے کسی کی آہٹ گھر میں محسوس ہوئی، میں گھبرا کر باہر نکلا تو سامنے جبرئیل علیہ السلام کھڑے تھے وہ کہنے لگے کہ میری ساری رات آپ کے انتظار میں گزر گئی، آپ کے کمرے میں کہیں سے کتا آ گیا ہے اس لئے میں اندر نہیں آ سکتا، کیونکہ ہم لوگ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کوئی کتا، کوئی جنبی یا کوئی تصویر اور مورتی ہو۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 608]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعلل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں