مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 659
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ" يُوتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ، وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذان فجر کے قریب وتر ادا فرماتے تھے اور اقامت کے قریب فجر کی سنتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 659]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، شريك وهو ابن عبدالله القاضي، سيء الحفظ، والحارث وهو ابن عبدالله الأعور ضعيف
حدیث نمبر: 660
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيّ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا أَشكُّ إِلَّا أَنَّهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَكَاتِبَهُ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَالْمُحَلِّلَ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود خور، سود کھلانے والا، سودی معاملات لکھنے والا، سودی معاملات کے گواہ، حلالہ کرنے والا، حلالہ کروانے والا، زکوٰۃ روکنے والا، جسم گودنے والی اور جسم گدوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 660]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو جعفر سيء الحفظ، والحارث الأعور ضعيف
حدیث نمبر: 661
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سَوَّارٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَلِيُّ، إِنْ أَنْتَ وُلِّيتَ الْأَمْرَ بَعْدِي، فَأَخْرِجْ أَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”علی! اگر میرے بعد کسی بھی وقت زمام حکو مت تمہارے ہاتھ میں آئے تو اہل نجران کو جزیرہ عرب سے نکال دینا۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 661]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جداً لضعف قيس- وهو أبن الربيع الأسدي الكوفي - و أشعث بن سوار
حدیث نمبر: 662
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، وَخَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَمَّا الْمَنِيُّ فَفِيهِ الْغُسْلُ، وَأَمَّا الْمَذْيُ فَفِيهِ الْوُضُوءُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خروج مذی کثرت کے ساتھ ہونے کا مرض لاحق تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا تو فرمایا: ”منی سے تو غسل واجب ہے اور مذی میں صرف وضو واجب ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 662]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد الهاشمي
حدیث نمبر: 663
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ صَوْتَهُ بِالْقِرَاءَةِ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَبَعْدَهَا، يُغَلِّطُ أَصْحَابَهُ وَهُمْ يُصَلُّونَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص عشاء سے پہلے یا بعد میں تلاوت کرتے ہوئے اپنی آواز کو بلند کرے، کیونکہ اس طرح اس کے دوسرے ساتھیوں کو نماز پڑھتے ہوئے مغالطہ ہو سکتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 663]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الحارث الأعور
حدیث نمبر: 664
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، أن علياً ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَلْ اللَّهَ تَعَالَى الْهُدَى وَالسَّدَادَ، وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ، وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَكَ السَّهْمَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ سے ہدایت اور درستگی کی درخواست کیا کرو اور ہدایت سے راستے کی ہدایت ذہن میں رکھا کرو اور درستگی کا معنی مراد لیتے وقت تیر کی درستگی اور سیدھا پن یاد رکھا کرو۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 664]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 665
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ كَثِيرٍ النَّوَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُلَيْلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ كَانَ قَبْلِي إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ سَبْعَةَ نُقَبَاءَ وُزَرَاءَ نُجَبَاءَ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ أَرْبَعَةَ عَشَرَ وَزِيرًا نَقِيبًا نَجِيبًا: سَبْعَةً مِنْ قُرَيْشٍ، وَسَبْعَةً مِنَ الْمُهَاجِرِينَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھ سے پہلے جتنے بھی انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے ہیں ان میں سے ہر ایک کو سات نقباء، وزراء، نجباء دیئے گئے جب کہ مجھے خصوصیت کے ساتھ چودہ وزراء، نقباء، نجباء دیئے گئے ہیں جن میں سے سات کا تعلق صرف قریش سے ہے اور باقی سات کا تعلق دیگر مہاجرین سے ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 665]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف كثير النواء وعبدالله بن مليل
حدیث نمبر: 666
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ هُمْ أَسَنُّ مِنِّي لِأَقْضِيَ بَيْنَهُمْ، قَالَ:" اذْهَبْ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ، وَيَهْدِي قَلْبَكَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں اس وقت نوخیز تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جہاں لوگوں میں آپس میں اختلافات اور جھگڑے بھی ہوں گے اور مجھے فیصلہ کرنے کا قطعاً کوئی علم نہیں ہے؟ فرمایا: ”اللہ تمہاری زبان کو صحیح راستے پر چلائے گا اور تمہارے دل کو مضبوط رکھے گا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کبھی بھی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں مجھے کوئی شک نہیں ہوا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 666]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 667
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ غُزَيٍّ ، حَدَّثَنِي عَمِّي عِلْبَاءُ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى وَبَرَةٍ مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ، فَقَالَ:" مَا أَنَا بِأَحَقَّ بِهَذِهِ الْوَبَرَةِ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صدقے کے کچھ اونٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کے پہلو سے اپنے دست مبارک سے اس کی اون پکڑی اور فرمایا کہ میں ایک عام مسلمان کی نسبت اس اون کا بھی کوئی زائد استحقاق نہیں رکھتا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 667]
الحكم على الحديث:
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمرو بن غزي وعمه علباء
حدیث نمبر: 668
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصَلِّي، إِذْ انْصَرَفَ وَنَحْنُ قِيَامٌ، ثُمَّ أَقْبَلَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَصَلَّى لَنَا الصَّلَاةَ، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي ذَكَرْتُ أَنِّي كُنْتُ جُنُبًا حِينَ قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ لَمْ أَغْتَسِلْ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ فِي بَطْنِهِ رِزًّا، أَوْ كَانَ عَلَى مِثْلِ مَا كُنْتُ عَلَيْهِ، فَلْيَنْصَرِفْ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ حَاجَتِهِ، أَوْ غُسْلِهِ، ثُمَّ يَعُودُ إِلَى صَلَاتِهِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز چھوڑ کر گھر چلے گئے اور ہم کھڑے کے کھڑے ہی رہ گئے، تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو آپ کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازسرنو ہمیں نماز پڑھائی اور بعد فراغت فرمایا کہ جب میں نماز کے لئے کھڑا ہو گیا تب مجھے یاد آیا کہ میں تو اختیاری طور پر ناپاک ہو گیا تھا اور ابھی تک میں نے غسل نہیں کیا، اس لئے اگر تم میں سے کسی شخص کو اپنے پیٹ میں گڑبڑ محسوس ہو رہی ہو یا میری جیسی کیفیت کا وہ شکار ہو جائے تو اسے چاہیے کہ واپس لوٹ جائے اور اپنی ضرورت پوری کر کے یا غسل کر کے پھر نماز کی طرف متوجہ ہو۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 668]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة، وانظر حديث أبى هريرة الصحيح فى المسند : 2/ 338، ففيه أن انصرافه كان قبل الدخول فى الصلاة