مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 789
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ كَذَبَ فِي الرُّؤْيَا مُتَعَمِّدًا، كُلِّفَ عَقْدَ شَعِيرَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر جھوٹا خواب بیان کرتا ہے، اسے قیامت کے دن جو کے دانے میں گرہ لگانے کا مکلف بنایا جائے گا (حکم دیا جائے گا)۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 789]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالأعلى).
حدیث نمبر: 790
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، منْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ، صَالِحُهُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِهِمْ، وَشِرَارُهُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِهِمْ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے میرے کانوں نے سنی، اور میرے دل دماغ نے اسے محفوظ کیا کہ ”تمام لوگ قریش کے تابع ہیں، نیک لوگ نیکوں کے تابع، اور برے لوگ بروں کے تابع ہیں۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 790]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن جابر اليمامي
حدیث نمبر: 791
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ، يُقَالُ لَهُ: جُرَيُّ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ عَضْبَاءِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ"، قَالَ: فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، فَقَالَ: النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ یا کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ جانور جس کا نصف یا اس سے زیادہ کان کٹا ہوا ہو۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 791]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 792
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي الْمِقْدَامِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَزْرَقِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى الْمَنَامَةِ، فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ أَوْ الْحُسَيْنُ، قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَاةٍ لَنَا بَكِيءٍ، فَحَلَبَهَا فَدَرَّتْ، فَجَاءَهُ الْحَسَنُ، فَنَحَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي وَإِيَّاكِ وَهَذَيْنِ وَهَذَا الرَّاقِدَ، فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے غریب خانے پر تشریف لائے، میں سو رہا تھا، اتنی دیر میں سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو پیاس لگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری ایک بکری کی طرف بڑھے جو بہت کم دودھ دیتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دودھ دوہا تو وہ بہت زیادہ نکلا، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان کے پاس چلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک طرف بٹھا لیا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ! شاید آپ کو اس سے زیادہ محبت ہے؟ فرمایا: ”یہ بات نہیں ہے، اصل میں اس نے پہلے مانگا تھا۔“ پھر فرمایا کہ ”قیامت کے دن میں، تم، یہ دونوں اور یہ سونے والا ایک ہی جگہ میں ہوں گے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 792]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جداً لضعف قيس بن الربيع واضطرابه فى الحديث
حدیث نمبر: 793
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا حُدَيْجٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجْتُ حِينَ بَزَغَ الْقَمَرُ كَأَنَّهُ فِلْقُ جَفْنَةٍ، فَقَالَ: اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اس وقت گھر سے نکلا جب چاند طلوع ہو چکا تھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی بڑے پیالے کا شگاف ہو،“ اور فرمایا: ”آج کی رات شب قدر ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 793]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حديج
حدیث نمبر: 794
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَسَدِهِ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ"، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي، فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ رَأْسِي.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص جنابت کی حالت میں غسل کرتے ہوئے ایک بال کے برابر بھی جگہ خالی چھوڑ دے جہاں پانی نہ پہنچا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم میں ایسا ایسا معاملہ کریں گے۔“ بس اسی وقت سے میں نے اپنے بالوں کے ساتھ دشمنی پال لی۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 794]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف مرفوعاً، عطاء بن السائب أختلط بآخرة، وعامة من رفع عنه هذا الحديث، فإنما رواه عنه بعد أختلاطه
حدیث نمبر: 795
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ شَرِبَ قَائِمًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّاسُ كَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوهُ، فَقَالَ: مَا تَنْظُرُونَ؟" إِنْ أَشْرَبْ قَائِمًا، فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا، وَإِنْ أَشْرَبْ قَاعِدًا، فَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَاعِدًا".
زاذان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پانی پیا، لوگ ان کی طرف تعجب سے دیکھنے لگے، انہوں نے فرمایا: مجھے کیوں گھور گھور کر دیکھ رہے ہو؟ اگر میں نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کیا ہے، اور اگر بیٹھ کر پیا ہے تو انہیں اس طرح بھی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 795]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 796
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ضَخْمَ الرَّأْسِ، عَظِيمَ الْعَيْنَيْنِ، هَدِبَ الْأَشْفَارِ، قَالَ حَسَنٌ: الشِّفَارِ، مُشْرَبَ الْعَيْنَيْنِ بِحُمْرَةٍ، كَثَّ اللِّحْيَةِ، أَزْهَرَ اللَّوْنِ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، إِذَا مَشَى كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صُعُدٍ، قَالَ حَسَنٌ: تَكَفَّأَ، وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِيعًا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بڑا، آنکھیں موٹی موٹی، پلکیں لمبی لمبی، آنکھوں میں سرخی کے ڈورے، گھنی داڑھی، کھلتا ہوا رنگ اور ہاتھ پاؤں بھرے ہوئے تھے، اور چلنے کی کیفیت ایسی تھی کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی گھاٹی پر چل رہے ہوں۔ اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل طور پر متوجہ ہوتے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 796]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 797
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، وَقَالَ لِي: هُوَ اسْمِي وَكُنْيَتِي، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْخِمْسِ ، حَدَّثَنَا فُرَاتُ بْنُ أَحْنَفَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ خَطِيبًا فِي الرَّحَبَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمّ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ" دَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَتَمَضْمَضَ مِنْهُ، وَتَمَسَّحَ، وَشَرِبَ فَضْلَ كُوزِهِ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ هَكَذَا".
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ صحن کوفہ میں تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثناء بیان کی، اور جو اللہ نے چاہا سو انہوں نے کہا، اس کے بعد پانی کا ایک برتن منگوایا، اس میں سے کلی کی، کچھ پانی مسح کے طور پر اپنے جسم کے اعضاء وضو پر پھیر لیا، اور باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر پی لیا، اور فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے بعض لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں، یہ اس شخص کا وضو ہے جو بےوضو نہ ہو، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 797]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 798
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" مَا عِنْدَنَا شَيْءٌ مِنَ الْوَحْيِ، أَوْ قَالَ: كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا مَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةِ الْمَقْرُونَةِ بِسَيْفِي، وَعَلَيْهِ سَيْفٌ حِلْيَتُهُ حَدِيدٌ، وَفِيهَا فَرَائِضُ الصَّدَقَاتِ".
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ واللہ! ہمارے پاس قرآن کریم کے علاوہ کوئی ایسی کتاب یا وحی نہیں ہے جسے ہم پڑھتے ہوں، یا پھر یہ صحیفہ ہے جو میری تلوار سے لٹکا ہوا ہے، اس میں زکوٰۃ کے حصص کی تفصیل درج ہے۔ مذکورہ صحیفہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس تلوار سے لٹکا رہتا تھا جس کے حلقے لوہے کے تھے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 798]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك