مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. مسنَدِ عَلِیِّ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 799
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أخبرنا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، أَنَّ عَلِيًّا قِيلَ لَهُ: إِنَّ قَاتِلَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: لِيَدْخُلْ قَاتِلُ ابْنِ صَفِيَّةَ النَّارَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ الزُّبَيْرَ حَوَارِيِّي".
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ (ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کون ہے؟) لوگوں نے بتایا کہ ابن جرموز اندر آنا چاہتا ہے، فرمایا: اسے اندر آنے دو، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل جہنم میں ہی داخل ہوگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ہر نبی کا ایک خاص حواری ہوتا ہے، اور میرا حواری زبیر ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 799]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 800
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَإِسْحَاق بْنُ عِيسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَهَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامَيْنِ أَخَوَيْنِ، فَبِعْتُ أَحَدَهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا فَعَلَ الْغُلَامَانِ؟"، فَقُلْتُ: بِعْتُ أَحَدَهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُدَّهُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے دو غلام ہبہ کر دیئے، وہ دونوں آپس میں بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو فروخت کر دیا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ ”وہ غلام کیا ہوئے؟“ میں نے عرض کیا کہ میں نے ان میں سے ایک کو فروخت کردیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے واپس لے لو۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 800]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، ميمون بن أبى شبيب لم يدرك علياً، وليس هو بذاك ، والحجاج مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 801
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَالَ عَفَّانُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كُفِّنَ فِي سَبْعَةِ أَثْوَابٍ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سات کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 801]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لتفرد عبدالله بن محمد ابن عقيل به، ولمخالفة الحديث الصحيح الذى رواه البخاري : 1664، ومسلم: 941، من حديث عائشة: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كفن فى ثلاثة أثواب......
حدیث نمبر: 802
(حديث مرفوع) حدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، وَكَانَ أَبُو فَضَالَةَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي عَائِدًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ مَرَضٍ أَصَابَهُ، ثَقُلَ مِنْهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبِي: مَا يُقِيمُكَ فِي مَنْزِلِكَ هَذَا، لَوْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ لَمْ يَلِكَ إِلَّا أَعْرَابُ جُهَيْنَةَ، تُحْمَلُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَإِنْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ وَلِيَكَ أَصْحَابُكَ وَصَلَّوْا عَلَيْكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ لَا أَمُوتَ حَتَّى أُؤَمَّرَ، ثُمَّ تُخْضَبَ هَذِهِ، يَعْنِي: لِحْيَتَهُ، مِنْ دَمِ هَذِهِ، يَعْنِي: هَامَتَهُ"، فَقُتِلَ، وَقُتِلَ أَبُو فَضَالَةَ مَعَ عَلِيٍّ يَوْمَ صِفِّينَ.
فضالہ - جن کے والد سیدنا ابوفضالہ انصاری رضی اللہ عنہ بدری صحابہ کرام میں سے تھے - کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لئے گیا، وہ کچھ بیمار ہو گئے تھے اور اس سے ان کی طبیعت بوجھل ہو رہی تھی، میرے والد صاحب نے ان سے کہا کہ بیماری نے آپ کا کیا حال کر رکھا ہے؟ اگر آپ کا آخری وقت آپہنچا تو آپ کے پاس جہینہ کے دیہاتیوں کے علاوہ کوئی نہیں آئے گا جو آپ کو مدینہ منورہ لے جائیں گے، اس لئے اگر آپ کا آخری وقت قریب آجائے تو آپ کے ساتھیوں کو آپ کا خیال کرنا چاہئے، اور آپ کی نماز جنازہ پڑھنی چاہئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتا رکھی ہے کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک کہ میں خلیفہ نہ بن جاؤں، اس کے بعد یہ داڑھی اس سر کے خون سے رنگین ہو جائے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں شہید ہوئے، جبکہ سیدنا ابوفضالہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں شریک ہو کر جنگ صفین کے موقع پر شہید ہو گئے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 802]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة فضالة بن أبى فضالة
حدیث نمبر: 803
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ يُكَبِّرُ، ثُمَّ يَقُولُ:" وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، اصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ"، وَإِذَا رَكَعَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعِظَامِي، وَعَصَبِي"، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ"، وَإِذَا سَجَدَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ، فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ"، وَإِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ"، حدثنا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: بَلَغَنَا عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ:" وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ"، قَالَ: لَا يُتَقَرَّبُ بِالشَّرِّ إِلَيْكَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہہ چکتے تو ثناء پڑھنے کے بعد فرماتے: «وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ اَللَّهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ اصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”میں نے اپنے چہرے کا رخ اس ذات کی طرف سب سے یکسو ہو کر اور مسلمان ہو کر پھیر لیا جس نے آسمان و زمین کو تخلیق کیا، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں، میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور موت اس اللہ کے لئے وقف ہے جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں، الٰہی! آپ ہی حقیقی بادشاہ ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، آپ ہی میرے رب اور میں آپ کا عبد ہوں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، اور مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے، اس لئے آپ میرے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں، کیونکہ آپ کے علاوہ کوئی گناہوں کو معاف کر ہی نہیں سکتا، اور بہتر اخلاق کی طرف میری رہنمائی فرمائیے، کیونکہ بہترین اخلاق کی طرف بھی آپ ہی رہنمائی کر سکتے ہیں، اور مجھے برے اخلاق سے بچائیے کیونکہ ان سے بھی آپ ہی بچا سکتے ہیں، میں آپ کی بارگاہ میں حاضر اور آپ کا خادم ہوں، ہر قسم کی خیر آپ کے ہاتھ میں ہے، اور شر آپ کے قریب نہیں کر سکتا، میں آپ کا ہوں اور آپ ہی کی طرف لوٹ کر آؤں گا، آپ کی ذات بڑی بابرکت اور برتر ہے، میں آپ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا اور توبہ کرتا ہوں۔“ جب رکوع میں جاتے تو یوں کہتے: «اَللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي» ”الٰہی! میں نے آپ کے لئے رکوع کیا، آپ پر ایمان لایا، آپ کا تابع فرمان ہوا، میرے کان اور آنکھیں، دماغ، ہڈیاں اور پٹھے سب آپ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں۔“ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنا ولک الحمد کہنے کے بعد فرماتے: «لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی جگہ کو پر کر دیں، اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو یوں فرماتے: «اَللّٰهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ”الٰہی! میں نے آپ کے لئے سجدہ کیا، آپ پر ایمان لایا، آپ کا تابع فرمان ہوا، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی بہترین تصویر کشی کی، اس کے کان اور آنکھ دیکھنے کے قابل بنائے، اللہ کی ذات بڑی بابرکت ہے جو بہترین خالق ہے۔“ اور جب نماز کا سلام پھیرتے تو یوں فرماتے: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! میرے اگلے پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دے، اور جو میں نے حد سے تجاوز کیا وہ بھی معاف فرما دے، اور جن چیزوں کو آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں وہ بھی معاف فرما دے، آپ ہی اول و آخر ہیں، اور آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔“ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 803]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح. م: 771
حدیث نمبر: 804
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ:" وَجَّهْتُ وَجْهِي"... فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مذکور ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 804]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، انظر ماقبله
حدیث نمبر: 805
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مذکور ہے۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 805]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، انظر ماقبله
حدیث نمبر: 806
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُصْبِحَ فِي بَيْتِهِ بَعْدَ ثَلَاثٍ مِنْ لَحْمِ نُسُكِهِ شَيْءٌ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ تین دن کے بعد اس کے گھر میں اس کی قربانی کا گوشت تھوڑا سا بھی موجود ہو۔“ فائدہ: یہ حکم بعد میں منسوخ ہو گیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 806]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 807
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الْأَصَمُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ السُّدِّيَّ إِسْمَاعِيلَ يَذْكُرُهُ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو طَالِبٍ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ قَدْ مَاتَ، قَالَ:" اذْهَبْ فَوَارِهِ، ثُمَّ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، قَالَ: فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، قَالَ:" اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ، ثُمَّ لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، قَالَ: فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ، قَالَ: فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ وَسُودَهَا، قَالَ: وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا غَسَّلَ الْمَيِّتَ اغْتَسَلَ.
ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں ابوطالب کی وفات کی خبر دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر انہیں کسی گڑھے میں چھپا دو، اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا۔“ چنانچہ جب میں انہیں کسی گڑھے میں اتار کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا تو مجھ سے فرمایا کہ ”جا کر غسل کرو، اور میرے پاس آنے سے پہلے کوئی دوسرا کام نہ کرنا۔“ چنانچہ میں غسل کر کے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اتنی دعائیں دیں کہ مجھے ان کے بدلے سرخ یا سیاہ اونٹ ملنے پر اتنی خوشی نہ ہوتی۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب بھی کسی میت کو غسل دیا تو خود بھی غسل کر لیا۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 807]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 808
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ فِي سَنَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ فِي سَنَةِ أَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ كَثِيرٍ النَّوَّاءِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَسَنِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَظْهَرُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ، يَرْفُضُونَ الْإِسْلَامَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آخر زمانے میں ایک قوم ظاہر ہوگی جس کا نام روافض ہوگا، یہ لوگ اسلام کو چھوڑ دیں گے“ (ان کے عقائد و اعمال اسلامی نہ ہوں گے گو کہ وہ اسلام کا نام استعمال کرتے ہوں گے)۔ [مسند احمد/مسند الخلفاء الراشدين/حدیث: 808]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف جداً لضعف يحيي بن المتوكل وكثير النواء