🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2799
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، و هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2799]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2800
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ" إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ أَفْرَغَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، فَغَسَلَهَا سَبْعًا، قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي الْإِنَاءِ، فَنَسِيَ مَرَّةً كَمْ أَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ، فَسَأَلَنِي: كَمْ أَفْرَغْتُ؟ فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي! فَقَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، وَلِمَ لَا تَدْرِي؟ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ وَجَسَدِهِ، قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَطَهَّرُ، يَعْنِي يَغْتَسِلُ".
شعبہ - جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ہیں - کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما غسل جنابت کرتے تو اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اسے برتن میں ڈالنے سے پہلے سات مرتبہ دھوتے، ایک مرتبہ وہ یہ بھول گئے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ پر کتنی مرتبہ پانی ڈالا ہے؟ تو مجھ سے پوچھنے لگے کہ میں نے کتنی مرتبہ پانی ڈالا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے تو نہیں پتہ، فرمایا: تیری ماں نہ رہے، تجھے کیوں نہیں پتہ؟ پھر انہوں نے نماز والا وضو کر لیا، پھر اپنے سر اور باقی جسم پر پانی بہا لیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح غسل فرمایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2800]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، دون قوله: فغسلها سبعا، وهذا إسناد ضعيف، شعبة بن دينار سيئ الحفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2801
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفَا، فَصَعِدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ نَادَى" يَا صَبَاحَاهْ" فَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، بَيْنَ رَجُلٍ يَجِيءُ إِلَيْهِ، وَبَيْنَ رَجُلٍ يَبْعَثُ رَسُولَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا بَنِي فِهْرٍ، يَا بَنِي يا بَني، أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ خَيْلًا بِسَفْحِ هَذَا الْجَبَلِ، تُرِيدُ أَنْ تُغِيرَ عَلَيْكُمْ، صَدَّقْتُمُونِي؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَإِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ"، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ، أَمَا دَعَوْتَنَا إِلَّا لِهَذَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: « ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ [الشعراء: 214] » ”اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے“ تو ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر اس وقت کے رواج کے مطابق لوگوں کو جمع کرنے کے لئے «يَا صَبَاحَاهُ» کہہ کر آواز لگائی، جب قریش کے لوگ جمع ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو عبدالمطلب! اے بنو فہر! اے بنو لؤی! یہ بتاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تم پر صبح یا شام میں کسی وقت حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری تصدیق کروگے؟“ سب نے کہا: کیوں نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں تمہیں ایک سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں۔“ ابولہب کہنے لگا کہ کیا تم نے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا، تم ہلاک ہو (العیاذ باللہ) اس پر سورہ لہب نازل ہوئی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2801]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: (4971)، من 208
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2802
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ زَعَمَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَمًا يَوْمَ النَّحْرِ فِي أَصْحَابِهِ، وَقَالَ:" اذْبَحُوهَا لِعُمْرَتِكُمْ، فَإِنَّهَا تُجْزِئُ عَنْكُمْ". فَأَصَابَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ تَيْسٌ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر یعنی دس ذی الحجہ کو اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں بکریاں تقسیم کیں اور فرمایا کہ ”انہیں اپنے عمرے کی طرف سے ذبح کر لو، یہ تمہارے لئے کافی ہو جائیں گی۔“ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حصے میں اس موقع پر ایک جنگلی بکرا آیا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2802]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2803
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْفُرَافِصَةِ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَأَنَا قَدْ رَأْيَتُهُ فِي طَرِيقٍ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ، وَأَنَا صَبِيٌّ رَفَعَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ أَسْنَدَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ وَحَدَّثَنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى أَبُو عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ، أَسْنَدَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ. وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ , وَنَافِعُ بْنُ يَزِيدَ الْمِصْرِيَّانِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَا أَحْفَظُ حَدِيثَ بَعْضِهِمْ عَنْ بَعْضٍ أَنَّهُ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا غُلَامُ أَوْ يَا غُلَيِّمُ أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ؟"، فَقُلْتُ: بَلَى. فَقَالَ:" احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ أَمَامَكَ، تَعَرَّفْ إِلَيْهِ فِي الرَّخَاءِ، يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ، وَإِذَا سَأَلْتَ، فَاسْأَلْ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، قَدْ جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا هُوَ كَائِنٌ، فَلَوْ أَنَّ الْخَلْقَ كُلَّهُمْ جَمِيعًا أَرَادُوا أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، وَإِنْ أَرَادُوا أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، لَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے لڑکے! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن کے ذریعے اللہ تمہیں فائدہ دے؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی حفاظت کرو (اس کے احکام کی) اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤگے، تم اسے خوشحالی میں یاد رکھو وہ تمہیں تکلیف کے وقت یاد رکھے گا، جب مانگو اللہ سے مانگو، جب مدد چاہو اللہ سے چاہو، اور جان رکھو کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے، اور یاد رکھو! مصائب پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے کیونکہ مدد صبر کے ساتھ ہے، کشادگی تنگی کے ساتھ ہے اور آسانی سختی کے ساتھ ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2803]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2804
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جِئْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حِمَارٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: فَأَرْخَيْنَاهُ بَيْنَ أَيْدِينَا يَرْعَى، فَلَمْ يَقْطَعْ. قَالَ: وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَسْتَبِقَانِ، فَفَرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، فَلَمْ يَقْطَعْ، وَسَقَطَ جَدْيٌ، فَلَمْ يَقْطَعْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور بنو عبدالمطلب کا ایک غلام ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب ہم سامنے کے رخ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئے تو ہم اس سے اتر پڑے اور اسے چھوڑ کر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو نہیں توڑا۔ اسی طرح ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں دوڑتی ہوئی آئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ گئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کو نہیں توڑا، نیز ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرے سے نکلا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے نماز نہیں توڑی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2804]

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2805
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحَمَّتْ مِنْ جَنَابَةٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِمُّ مِنْ فَضْلِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنْهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا، ان زوجہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2805]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2806
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2806]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهو مكرر : 2100
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2807
قَالَ أَبِي فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا بِهِ وَكِيعٌ فِي الْمُصَنَّفِ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، ثُمَّ جَعَلَهُ بَعْدُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ .
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2807]

الحكم على الحديث:
قال الشيخ أحمد شاكر : هذا بيان للإسناد السابق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2808
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2808]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا سند ضعيف لسوء حفظ ابن أبى ليلى
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں