مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2839
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً، وَأَنَا مُوسِرٌ لَهَا، وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا؟ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ، فَيَذْبَحَهُنَّ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھ پر ایک اونٹ واجب ہے، میرے پاس گنجائش بھی ہے، لیکن مجھے اونٹ مل ہی نہیں رہے کہ میں انہیں خرید سکوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ”اس کی جگہ سات بکریاں خرید کر انہیں ذبح کر دو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2839]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، عطاء الخراساني صاحب أوهام كثيرة، ثم هو لم يسمع من ابن عباس، وابن جريج مدلس ولم يصرح بسماعه
حدیث نمبر: 2840
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنْ سِحْرٍ، مَا زَادَ زَادَ، وَمَا زَادَ زَادَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص علم نجوم کو سیکھتا ہے وہ جادو کا ایک شعبہ سیکھتا ہے، جتنا وہ علم نجوم میں آگے بڑھتا جائے گا اسی قدر جادو میں آگے نکلتا جائے گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2840]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2841
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَلَى حُمُرَاتِنَا، فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا بِيَدِهِ، وَيَقُولُ:" أَيْ بَنِيَّ، لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا أَخَالُ أَحَدًا يَرْمِي الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم بنو عبدالمطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کرا کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا: ”پیارے بچو! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اب میرا خیال نہیں ہے کہ کوئی عقلمند طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرے گا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2841]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، الحسن العرني لم يسمع من ابن عباس
حدیث نمبر: 2842
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ كَذَا، قَالَ رَوْحٌ: عَاصِمٌ وَالنَّاسُ يَقُولُونَ: أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ : يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ؟ فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: وَمَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ:" قَدْ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ، وَلَيْسَ ذَلِكَ بِسُنَّةٍ، كَانَ النَّاسُ لَا يُصْرفُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يُدْفَعُونَ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْتَمِعُوا، وَلِيَرَوْا مَكَانَهُ، وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ".
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ فرمایا: یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہٹتے نہیں تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جا سکتا تھا، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام بھی سن لیں اور ان کی زیارت بھی کر لیں اور ان کے ہاتھ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک نہ پہنچیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2842]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، م: 1264
حدیث نمبر: 2843
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَال:" أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ، أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے - جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو - یہ فرمایا کہ ”وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2843]
الحكم على الحديث:
صحيح موقوفا
حدیث نمبر: 2844
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی مکرم، سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اسلام میں گوشہ نشینی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2844]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، قال يحيى بن معين : عمر بن عطاء الذى يروي عنه ابن جريج يحدث عن عكرمة ليس هو بشيء
حدیث نمبر: 2845
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ حَسَنٌ: عَنْ عَمَّارٍ، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَظُنُّهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ حَسَنٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ . ح حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، مُرْسَلٌ لَيْسَ فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِخَدِيجَةَ... فَذَكَرَ عَفَّانُ الْحَدِيثَ، وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ وَحَسَنٌ فِي حَدِيثِهِمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِخَدِيجَةَ:" إِنِّي أَرَى ضَوْءًا، وَأَسْمَعُ صَوْتًا، وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَكُونَ بِي جَنَنٌ". قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ اللَّهُ لِيَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ يَا ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ. ثُمَّ أَتَتْ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ يَكُ صَادِقًا، فَإِنَّ هَذَا نَامُوسٌ مِثْلُ نَامُوسِ مُوسَى، فَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَيُّ، فَسَأُعَزِّزُهُ، وَأَنْصُرُهُ، وَأُومِنُ بِهِ..
مختلف اسانید سے - جن میں سے بعض میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نام ہے اور بعض میں نہیں - مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی وحی نازل ہونے کے بعد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”مجھے روشنی دکھائی دیتی ہے اور کوئی آواز سنائی دیتی ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں مجھے جنون نہ ہو جائے۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اے عبداللہ کے صاحبزادہ گرامی قدر! اللہ آپ کے ساتھ کبھی ایسا نہیں کرے گا، پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور یہ بات ان سے ذکر کی، وہ کہنے لگے کہ اگر یہ سچ بول رہے ہیں تو ان کے پاس آنے والا فرشتہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا کرتا تھا، اگر وہ میری زندگی میں مبعوث ہوگئے تو میں انہیں تقویت پہنچاؤں گا، ان کی مدد کروں گا اور ان پر ایمان لے آؤں گا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2845]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3، م : 190
حدیث نمبر: 2846
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، سَبْعَ سِنِينَ يَرَى الضَّوْءَ وَالنُّورَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ، وَثَمَانِيَ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روشنی دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے، اور آٹھ سال اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، اور مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال تک اقامت گزیں رہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2846]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2353
حدیث نمبر: 2847
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ ، الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، قَالَ عَفَّانُ: وَهُوَ كَالْمُعْرِضِ عَنِ الْعَبَّاسِ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ: أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي؟ فَقُلْتُ: إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ، قَالَ عَفَّانُ: فَقَالَ: أَوَ كَانَ عِنْدَهُ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ؟ فَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَنِي أَنَّ عِنْدَكَ رَجُلًا تُنَاجِيهِ. قَالَ:" هَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ، وَهُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ" حَدَّثَنَا عَفَّانُ إِنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ایک آدمی موجود تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ایسا محسوس ہوا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد کی طرف توجہ ہی نہیں کی، جب ہم وہاں سے نکلے تو والد صاحب مجھ سے کہنے لگے: بیٹا! تم نے اپنے چچا زاد کو دیکھا کہ وہ کیسے ہماری طرف توجہ ہی نہیں کر رہے تھے؟ میں نے عرض کیا: اباجان! ان کے پاس ایک آدمی تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ہم پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گئے، والد صاحب کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں نے عبداللہ سے اس طرح ایک بات کہی تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی تھا جو آپ سے سرگوشی کر رہا تھا، تو کیا واقعی آپ کے پاس کوئی تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبداللہ! کیا تم نے واقعی اسے دیکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: ”وہ جبرئیل امین تھے اور اسی وجہ سے میں آپ کی طرف متوجہ نہیں ہو سکا تھا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2847]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2848
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2848]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح