🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3176
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ يَغْزُو مَكَّةَ، فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبَهُ، قَالَ: ثُمَّ أَفْطَرَ أَصْحَابُهُ حَتَّى أَتَوْا مَكَّةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے حوالے سے ماہ رمضان میں روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے، جب قدید نامی جگہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا ایک گلاس منگوایا اور اسے نوش فرما لیا، اور لوگوں نے بھی روزہ ختم کرلیا یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3176]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3177
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ، كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3177]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2622، م: 1622
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3178
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ، كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3178]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3179
(حديث مرفوع) حدثنا حدثنا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى" وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ: وَذَكَرَ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ، وَأَنَّهُ رَأَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام آدَمَ طُوَالًا، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى عِيسَى مَرْبُوعًا إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ، جَعْدًا، وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى الدَّجَّالَ، وَمَالِكًا خَازِنَ النَّارِ.
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں، اور اپنے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے۔“ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ”میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ گندمی رنگ، لمبےقد اور قبیلہ شنوءہ کے آدمی محسوس ہوئے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ درمیانے قد، سرخ و سفید اور گھنگھریالے بالوں والے تھے، اور دجال اور داروغہ جہنم مالک کو بھی دیکھا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3179]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3239، 3413، م: 165
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3180
رقم الحديث: 3057
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ الرَّيَاحِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى" وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ، فَقَالَ:" مُوسَى آدَمُ طُوَالٌ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ"، وَقَالَ:" عِيسَى جَعْدٌ مَرْبُوعٌ" وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ جَهَنَّمَ، وَذَكَرَ الدَّجَّالَ.
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام بن متی سے بہتر ہوں، اور اپنے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے۔“ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ گندمی رنگ، لمبےقد اور قبیلہ شنوءہ کے آدمی محسوس ہوئے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ درمیانے قد، سرخ و سفید اور گھنگھریالے بالوں والے تھے، اور دجال اور داروغہ جہنم مالک کو بھی دیکھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3180]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3395، م: 2377 أنظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3181
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا هَذِهِ الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَعَّبَتْ بِالنَّاسِ" أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ، فَقَالَ: سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ".
ابوحسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گزرے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3181]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1244
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3182
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ، يُقَالُ لَهُ فُلَانُ بْنُ بُجَيْلٍ، لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا هَذِهِ الْفَتْوَى الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ النَّاسَ" مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ؟ فَقَالَ: سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ". قَالَ شُعْبَةُ: أَنَا أَقُولُ: شَغَبَتْ، وَلَا أَدْرِي كَيْفَ هِيَ؟
ابوحسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اے ابوالعباس! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کر لے وہ حلال ہو جاتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گزرے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3182]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3183
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ: قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ.
گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3183]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3184
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم" يصلي بمنى، وأنا على حمار، فتركته بين يدي الصف، فدخلت في الصلاة، وقد ناهزت الاحتلام، فلم يعب ذلك".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو میدان منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں ایک گدھی پر سوا ہو کر آیا، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا، اور اس وقت میں قریب البلوغ تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3184]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 76، م: 504
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3185
وقرأت على عبد الرحمن هذا الحديث، قَالَ:" أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ، فَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو میدان عرفات میں نماز پڑھا رہے تھے، میں - جو کہ قریب البلوغ تھا - اور فضل ایک گدھی پر سوا ہو کر آئے، ہم ایک صف کے آگے سے گزر کر اس سے اتر گئے، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3185]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں