مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3206
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ، أَحْرَمَ بِالْحَجِّ، وَأَشْعَرَ هَدْيَهُ فِي شِقِّ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ، وَأَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ، وَقَلَّدَ نَعْلَيْنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ پہنچ کر حج کا احرام باندھا، دائیں جانب سے اپنی اونٹنی کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3206]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1243
حدیث نمبر: 3207
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الْفَرَاغُ وَالصِّحَّةُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”صحت اور فراغت اللہ کی نعمتوں میں سے دو ایسی نعمتیں ہیں جن کے بارے بہت سے لوگ دھوکے کا شکار رہتے ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3207]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6412
حدیث نمبر: 3208
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: تَرَاءَيْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ بِذَاتِ عِرْقٍ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّهُ إِلَى رُؤْيَتِهِ".
ابوالبختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ ذات عرق میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آ گیا، ہم نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے جواب میں فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چاند دیکھنے تک طویل کیا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3208]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1088
حدیث نمبر: 3209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ صَائِمًا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَلَمَّا أَتَى قُدَيْدًا أَفْطَرَ، فَلَمْ يَزَلْ مُفْطِرًا حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے ماہ رمضان میں روزہ رکھ کر نکلے، جب قدید نامی جگہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا اور مکہ مکرمہ پہنچنے تک روزہ نہیں رکھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3209]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3210
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُمْ تَمَارَوْا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَأَرْسَلَتْ أُمُّ الْفَضْلِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ عرفہ کے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے حوالے سے شک پیدا ہوا تو سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھجوا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا (اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا شک دور ہوگیا)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3210]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 3211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ قَالَ وَكِيعٌ: بِالقاحَةِ وَهُوَ صَائِمٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ نے قاحہ نامی جگہ میں سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3211]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3212
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ ، سَمِعَهُ مِنَ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي زَمْزَمَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ عَاشُورَاءَ، أَيُّ يَوْمٍ أَصُومُهُ؟ فَقَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ، فَاعْدُدْ، فَأَصْبِحْ مِنَ التَّاسِعَةِ صَائِمًا. قَالَ: قُلْتُ: أَكَذَاكَ كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ؟ قَالَ: نَعَمْ".
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ چاہ زمزم کے قریب اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں؟ فرمایا: جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح روزہ رکھتے تھے؟ فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3212]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1133
حدیث نمبر: 3213
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ ، مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3213]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي، م: 1134
حدیث نمبر: 3214
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَأْكُلُوا الطَّعَامَ مِنْ فَوْقِهِ، وَكُلُوا مِنْ جَوَانِبِهِ، فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ فَوْقِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے (اور سب طرف پھیلتی ہے)۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3214]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 3215
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَر سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح مت کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3215]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1957