مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3216
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا". قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ نَهَى أَنْ يُتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح مت کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3216]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 3217
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَهُ وَحَمَلَ أَخَاهُ، هَذَا قُدَّامَهُ، وَهَذَا خَلْفَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کے بھائی کو اٹھا لیا اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور ایک کو اپنے آگے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3217]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 3218
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ حِمَارٍ يَقْطُرُ دَمًا، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، جس میں سے خون ٹپک رہا تھا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ”ہم محرم ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3218]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1194
حدیث نمبر: 3219
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، سَمِعْتُ مِنْهُ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ الضَّبُّ، فَقَالَ رَجُلٌ: مِنْ جُلَسَائِهِ أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُحِلَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهُ. فَقَالَ: بِئْسَ مَا تَقُولُونَ، إِنَّمَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحِلًّا، وَمُحَرِّمًا، جَاءَتْ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ تَزُورُ أُخْتَهَا مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ، وَمَعَهَا طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ ضَبٍّ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا اغْتَبَقَ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّ فِيهِ لَحْمَ ضَبٍّ. فَكَفَّ يَدَهُ، فَأَكَلَهُ مَنْ عِنْدَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا نَهَاهُمْ عَنْهُ، وَقَالَ:" لَيْسَ بِأَرْضِنَا، وَنَحْنُ نَعَافُهُ".
یزید بن اصم کہتے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے گوہ کا تذکرہ ہوا تو ان کی مجلس میں شریک ایک آدمی نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حلال قرار دیا اور نہ ہی حرام، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ تم نے غلط کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بھیجا ہی اس لئے گیا تھا کہ حلال و حرام کی تعیین کردیں۔ پھر فرمایا: دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تھے، وہاں سیدہ ام حفید رضی اللہ عنہا اپنی بہن سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لئے آئی ہوئی تھیں، ان کے ساتھ کھانا بھی تھا جس میں گوہ کا گوشت تھا، شام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے تناول فرمانے کا ارادہ کیا تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ گوہ کا گوشت ہے، یہ سنتے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا لیکن وہاں موجود لوگوں نے اسے کھایا، اگر یہ حرام ہوتا تو نبی صلی اللہ انہیں منع فرما دیتے، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”یہ ہمارے علاقے میں نہیں ہوتا اس لئے ہم اس سے بچتے ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3219]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1948
حدیث نمبر: 3220
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ" ضَمَّ بَيْنَ إِبْهَامِهِ وَخِنْصَرِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انگوٹھا اور چھوٹی انگلی دونوں برابر ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3220]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6895
حدیث نمبر: 3221
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو عَامِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ، كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3221]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2621، م: 1622
حدیث نمبر: 3222
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْأَيِّمُ أَوْلَى بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا"، قَالَ:" وَصُمَاتُهَا إِقْرَارُهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے، البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی، اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3222]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1421
حدیث نمبر: 3223
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَتْ: قُرَيْشٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُصْبِحْ لَنَا الصَّفَا ذَهَبَةً، فَإِنْ أَصْبَحَتْ ذَهَبَةً اتَّبَعْنَاكَ، وَعَرَفْنَا أَنَّ مَا قُلْتَ. كَمَا قُلْتَ: فَسَأَلَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ أَصْبَحَتْ لَهُمْ هَذِهِ الصَّفَا ذَهَبَةً، فَمَنْ كَفَرَ مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ، عَذَّبْتُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، وَإِنْ شِئْتَ، فَتَحْنَا لَهُمْ أَبْوَابَ التَّوْبَةِ. قَالَ:" يَا رَبِّ، لَا، بَلْ افْتَحْ لَهُمْ أَبْوَابَ التَّوْبَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لئے سونے کا بنا دے، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا واقعی تم ایمان لے آؤ گے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرما دی، حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ ”اگر آپ چاہتے ہیں تو ان کے لئے صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دیا جائے گا، لیکن اس کے بعد اگر ان میں سے کسی نے کفر کیا تو پھر میں اسے ایسی سزا دوں گا کہ دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہ دی ہوگی، اور اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان کے لئے توبہ اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہوں؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”توبہ اور رحمت کا دروازہ ہی کھول دیا جائے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3223]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3224
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، وَقَدْ مَاتَتْ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ، أَكُنْتَ تَقْضِيهِ؟" قَالَ: نَعَمْ. قَالَ:" فَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حج کی منت مانی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی، اس کا بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ! اگر تمہاری بہن پر کوئی قرض ہو تو کیا تم اسے ادا کرو گے یا نہیں؟“ اس نے اثبات میں جواب دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو اور وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق اور حقدار ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3224]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6699
حدیث نمبر: 3225
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" فَبَدَءُوا بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ موجود رہا ہوں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے (بغیر اذان و قامت کے) نماز پڑھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3225]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 979، م: 884