مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3542
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ خَدِيجَةَ عَلِيٌّ". وَقَالَ مَرَّةً: أَسْلَمَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد بچوں میں سب سے پہلے نماز پڑھنے والے یا اسلام قبول کرنے والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3542]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، انظر برقم: 3061
حدیث نمبر: 3543
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ" تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3543]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5035
حدیث نمبر: 3544
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ وَأَبُو بِشْرٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3544]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1934
حدیث نمبر: 3545
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ . وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيتُ اللَّيَالِيَ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: الْمُتَتَابِعَةَ، طَاوِيًا، وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً، وَكَانَ عَامَّةُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی راتیں مسلسل اس طرح خالی پیٹ گزار دیتے تھے کہ اہل خانہ کو رات کا کھانا نہیں ملتا تھا، اور اکثر انہیں کھانے کے لئے جو کی روٹی ملتی تھی وہ جو کی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3545]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3546
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ حَسَنٌ أَبُو زَيْدٍ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ جَاءَ مِنْ لَيْلَتِهِ، فَحَدَّثَهُمْ بِمَسِيرِهِ، وَبِعَلَامَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَبِعِيرِهِمْ، فَقَالَ نَاسٌ، قَالَ حَسَنٌ: نَحْنُ نُصَدِّقُ مُحَمَّدًا بِمَا يَقُولُ؟! فَارْتَدُّوا كُفَّارًا، فَضَرَبَ اللَّهُ أَعْنَاقَهُمْ مَعَ أَبِي جَهْلٍ، وَقَال أَبُو جَهْلٍ: يُخَوِّفُنَا مُحَمَّدٌ بِشَجَرَةِ الزَّقُّومِ! هَاتُوا تَمْرًا وَزُبْدًا، فَتَزَقَّمُوا. وَرَأَى الدَّجَّالَ فِي صُورَتِهِ رُؤْيَا عَيْنٍ، لَيْسَ رُؤْيَا مَنَامٍ، وَعِيسَى، وَمُوسَى، وَإِبْرَاهِيمَ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ؟ فَقَالَ:" أَقْمَرُ هِجَانًا، قَالَ حَسَنٌ: قَالَ: رَأَيْتُهُ فَيْلَمَانِيًّا أَقْمَرَ هِجَانًا، إِحْدَى عَيْنَيْهِ قَائِمَةٌ، كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ، كَأَنَّ شَعْرَ رَأْسِهِ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ، وَرَأَيْتُ عِيسَى شَابًّا أَبْيَضَ، جَعْدَ الرَّأْسِ، حَدِيدَ الْبَصَرِ، مُبَطَّنَ الْخَلْقِ، وَرَأَيْتُ مُوسَى أَسْحَمَ آدَمَ، كَثِيرَ الشَّعْرِ، قَالَ حَسَنٌ الشَّعَرَةِ، شَدِيدَ الْخَلْقِ، وَنَظَرْتُ إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَلَا أَنْظُرُ إِلَى إِرْبٍ مِنْ آرَابِهِ، إِلَّا نَظَرْتُ إِلَيْهِ مِنِّي، كَأَنَّهُ صَاحِبُكُمْ، فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام سَلِّمْ عَلَى مَالِكٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج بیت المقدس کی سیر کرائی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی رات واپس بھی آگئے اور قریش کو اپنے جانے کے متعلق اور بیت المقدس کی علامات اور ان کے ایک قافلے کے متعلق بتایا، کچھ لوگ یہ کہنے لگے کہ کیا محمد کی اس بات کی ہم تصدیق کر سکتے ہیں، یہ کہہ کر وہ دوبارہ کفر کی طرف لوٹ گئے، اللہ تعالیٰ نے ابوجہل کے ساتھ ان کی گردنیں بھی مار دیں۔ ایک مرتبہ ابوجہل نے کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تھوہڑ کے درخت سے ڈراتے ہیں، تم میرے پاس کھجور اور جھاگ لے کر آؤ، میں تمہیں تھوہڑ بنا کر دکھاتا ہوں۔ اسی شب معراج میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا - جو خواب میں دیکھنا نہ تھا - نیز حضرت عیسی، حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام کی بھی زیارت فرمائی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے دجال کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں نے اسے بڑے ڈیل ڈول کا اور سبزی مائل سفید رنگ والا پایا، اس کی ایک آنکھ قائم تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کوئی چمکتا ہوا موتی ہو اور اس کے سر کے بال کسی درخت کی ٹہنیوں کی طرح تھے۔ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ سفید رنگ کے جوان تھے، ان کے سر کے بال گھنگھریالے تھے، نگاہیں تیز تھیں، جسمانی اعتبار سے پتلے پیٹ والے تھے، میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو وہ انتہائی گندمی رنگ اور گھنے بالوں والے تھے اور جسمانی اعتبار سے بڑے مضبوط تھے، نیز میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، ان کے جسم کا کوئی عضو ایسا نہ تھا جو میں نے ان میں دیکھا ہو اور اپنے آپ میں وہ عضو اسی طرح نہ دیکھا ہو، گویا وہ ہو بہو تمہارے پیغمبر کی طرح ہیں، پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: مالک کو - جو داروغہ جہنم ہے - سلام کیجئے، چنانچہ میں نے انہیں سلام کیا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3546]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3547
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ أَن عِكْرِمَةَ سُئِلَ، قَالَ حَسَنٌ: سَأَلْتُ عِكْرِمَةَ عَنِ الصَّائِمِ، أَيَحْتَجِمُ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا كُرِهَ لِلضَّعْفِ، وَحَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ حَسَنٌ ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، مِنْ أَكْلَةٍ أَكَلَهَا مِنْ شَاةٍ مَسْمُومَةٍ، سَمَّتْهَا امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی اور اس کی وجہ زہریلی بکری کا وہ لقمہ تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا تھا اور خیبر کی ایک عورت نے اس میں زہر ملا دیا تھا۔
تنبیہ: یہاں آ کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مرویات مکمل ہو گئیں، آگے مسند کو عبداللہ بن احمد رحمہ اللہ سے نقل کرنے والے ابوبکر القطیعی رحمہ اللہ کی کچھ احادیث آرہی ہیں جو جزء ثامن کے آخر میں تھیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3547]
تنبیہ: یہاں آ کر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مرویات مکمل ہو گئیں، آگے مسند کو عبداللہ بن احمد رحمہ اللہ سے نقل کرنے والے ابوبکر القطیعی رحمہ اللہ کی کچھ احادیث آرہی ہیں جو جزء ثامن کے آخر میں تھیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3547]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3547M
آخِرُ أَحَادِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا