مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 3523
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فِي رَأْسِهِ، مِنْ صُدَاعٍ وَجَدَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بناء پر تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3523]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5700
حدیث نمبر: 3524
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى رَأْسِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوا کر اپنے سر سے خون نکلوایا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3524]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1835، م: 1202
حدیث نمبر: 3525
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَأَبُو دَاوُدَ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ أَشْعَرَ الْهَدْيَ جَانِبَ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ أَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ، وَقَلَّدَهُ نَعْلَيْنِ، ثُمَّ رَكِبَ نَاقَتَهُ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، أَحْرَمَ"، قَالَ: فَأَحْرَمَ عِنْدَ الظُّهْرِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ بِالْحَجِّ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کر دیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری لائی گئی، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے اور بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3525]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1243
حدیث نمبر: 3526
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَتَوَضَّأُ ثَلَاثًا، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَتَوَضَّأُ مَرَّةً مَرَّةً، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اعضاء وضو کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے اور اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے جب کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک ایک مرتبہ دھوتے تھے اور وہ بھی اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3526]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، المطلب بن عبدالله مدلس، وروايته عن ابن عمر وابن عباس مرسلة
حدیث نمبر: 3527
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَيْسٍ . قَالَ عَفَّانُ : أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَيْسٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى زَمْزَمَ، فَنَزَعْنَا لَهُ دَلْوًا، فَشَرِبَ ثُمَّ مَجَّ فِيهَا، ثُمَّ أَفْرَغْنَاهَا فِي زَمْزَمَ، ثُمَّ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا عَلَيْهَا، لَنَزَعْتُ بِيَدَيَّ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہ زمزم پر تشریف لائے، ہم نے ایک ڈول کھینچ کر پانی نکالا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور اس ڈول میں کلی کر دی، پھر ہم نے وہ ڈول چاہ زمزم میں ڈال دیا (یوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پس خوردہ بھی اس میں شامل ہو گیا) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارے مغلوب ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اپنے ہاتھ سے ڈول کھینچتا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3527]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3528
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا، قَالَ: لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا شَأْنُ آلِ مُعَاوِيَةَ يَسْقُونَ الْمَاءَ وَالْعَسَلَ، وَآلُ فُلَانٍ يَسْقُونَ اللَّبَنَ، وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِيذَ؟ أَمِنْ بُخْلٍ بِكُمْ، أَوْ حَاجَةٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا بِنَا بُخْلٌ، وَلَا حَاجَةٌ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا، وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَاسْتَسْقَى، فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا يَعْنِي نَبِيذَ السِّقَايَةِ فَشَرِبَ مِنْهُ، وَقَالَ:" أَحْسَنْتُمْ، هَكَذَا فَاصْنَعُوا".
ایک دیہاتی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ آل معاویہ لوگوں کو پانی اور شہد پلاتی ہے، آل فلاں دودھ پلاتی ہے اور آپ لوگ نبیذ پلاتے ہیں؟ کسی بخل کی وجہ سے یا ضرورت مندی کی بناء پر؟ انہوں نے فرمایا: نہ ہم کنجوس ہیں اور نہ ہی ضرورت مند، بات دراصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ان کے پیچھے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کے لئے پانی طلب کیا، ہم نے آپ کو نبیذ پلائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا اور پس خوردہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو دے دیا، اور فرمایا: ”تم نے اچھا کیا اور خوب کیا، اسی طرح کیا کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3528]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1316
حدیث نمبر: 3529
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاءِ زَمْزَمَ فَسَقَيْنَاهُ، فَشَرِبَ قَائِمًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمزم کے کنوئیں پر تشریف لائے، ہم نے انہیں اس کا پانی پلایا تو انہوں نے کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3529]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1637، م: 2027
حدیث نمبر: 3530
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے نکاح میں پھوپھی، بھتیجی اور خالہ، بھانجی کو جمع کرے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3530]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 3531
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورہ اعلی، سورہ کافرون اور سورہ اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3531]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3532
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: كَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يَأْتِي عَلَى رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلَّا اسْتَلَمَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ " إِنَّمَا كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ". فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِهِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ. قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَ، وَالْحَجَرَ.
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے جس کونے پر بھی گزرتے اس کا استلام کرتے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام فرماتے تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3532]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح