🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3513
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ يَا بَنِي أَخِي، يَا بَنِي هَاشِمٍ، تَعَجَّلُوا قَبْلَ زِحَامِ النَّاسِ، وَلَا يَرْمِيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ الْعَقَبَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مزدلفہ ہی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہاشم کے ہم لوگوں سے فرمایا: ”بھتیجو! لوگوں کے ازدحام سے پہلے نکل جاؤ، لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3513]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3514
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا كَامِلٌ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ، قَالَ فِي رُكُوعِهِ:" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ" ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَحْمَدَهُ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ، قَالَ: فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ:" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى"، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: فَكَانَ يَقُولُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ": رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَارْفَعْنِي، وَارْزُقْنِي، وَاهْدِنِي".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گزاری، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کر کے فرمایا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اللہ کی تعریف کی جب تک مناسب سمجھا، پھر سجدہ کیا اور سجدے میں «سُبْحَانَ رَبَّيَ الْأَعْلَىٰ» کہتے رہے، پھر سر اٹھا کر دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھی: «رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي» ”پروردگار! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میری تلافی فرما، مجھے رفعت عطا فرما، مجھے رزق عطا فرما اور مجھے ہدایت عطا فرما۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3514]

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3515
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: تَرَاءَيْنَا هِلَالَ شَهْرِ رَمَضَانَ بِذَاتِ عِرْقٍ، فَأَرْسَلْنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَسْأَلُهُ، فَقَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ مَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ".
ابوالبختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ ”ذات عرق“ میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آ گیا، ہم نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کیا کہ ”اللہ نے چاند کی رؤیت میں وسعت دی ہے، اس لئے اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3515]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1088
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3516
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے، اور ترسٹھ برس کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3516]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3903، م: 2351
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3517
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعِينَ سَنَةً، فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً يُوحَى إِلَيْهِ، ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ، فَهَاجَرَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے، تیرہ سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، پھر ہجرت کا حکم ملا تو دس سال مدینہ منورہ میں گزارے اور ترسٹھ برس کی عمر میں آپ کا وصال ہو گیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3517]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3902
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3518
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَاضِرٍ ، قَالَ سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الْجَرِّ يُنْبَذُ فِيهِ؟ فَقَالَ: نَهَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ عَنْهُ. فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ لَهُ مَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : صَدَقَ. قَالَ الرَّجُلُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَيُّ جَرٍّ نَهَى عَنْهُ؟، قَالَ:" كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ".
ابوحاضر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس مٹکے متعلق سوال کیا جس میں نبیذ بنائی جاتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اس سے منع کیا ہے، وہ آدمی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ گیا اور ان سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جواب بھی ذکر کر دیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، اس آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قسم کے مٹکے کے استعمال سے منع فرمایا ہے؟ فرمایا: ہر وہ مٹکا جو پکی مٹی سے بنایا جائے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3518]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3519
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، مَسَحَ ظَهْرَهُ، فَأَخْرَجَ مِنْهُ مَا هُوَ ذَارِئٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَجَعَلَ يَعْرِضُهُمْ عَلَيْهِ، فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، أَيُّ بَنِيَّ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ. قَالَ: أَيْ رَبِّ، كَمْ عُمْرُهُ؟ قَالَ: سِتُّونَ سَنَةً. قَالَ: أَيْ رَبِّ، زِدْ فِي عُمْرِهِ. قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ أَنْتَ مِنْ عُمْرِكَ. فَكَانَ عُمْرُ آدَمَ أَلْفَ عَامٍ، فَوَهَبَ لَهُ مِنْ عُمْرِهِ أَرْبَعِينَ عَامًا، فَكَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ كِتَابًا، وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ، فَلَمَّا حُضِرَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام، أَتَتْهُ الْمَلَائِكَةُ لِتَقْبِضَ رُوحَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَحْضُرْ أَجَلِي، قَدْ بَقِيَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً. فَقَالُوا: إِنَّكَ قَدْ وَهَبْتَهَا لِابْنِكَ دَاوُدَ. قَالَ: مَا فَعَلْتُ، وَلَا وَهَبْتُ لَهُ شَيْئًا. وَأَبْرَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، فَأَقَامَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب آیت دین نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سب سے پہلے نادانستگی میں بھول کر کسی بات سے انکار کرنے والے حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر ہاتھ پھیر کر قیامت تک ہونے والی ان کی ساری اولاد کو باہر نکالا اور ان کی اولاد کو ان کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیا، حضرت آدم علیہ السلام نے ان میں ایک آدمی کو دیکھا جس کا رنگ کھلتا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا: پروردگار! یہ کون ہے؟ فرمایا: ”یہ آپ کے بیٹے داوؤد ہیں“، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار! ان کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا: ”ساٹھ سال“، انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار! ان کی عمر میں اضافہ فرما، ارشاد ہوا کہ ”یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ بات ممکن ہے کہ میں تمہاری عمر میں سے کچھ کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ کر دوں“، حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال تھی، اللہ تعالیٰ نے اس میں سے چالیس سال لے کر حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر میں چالیس سال کا اضافہ کر دیا اور اس مضمون کی تحریر لکھ کر فرشتوں کو اس پر گواہ بنا لیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا اور ملائکہ ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی تو میری زندگی کے چالیس سال باقی ہیں؟ ان سے عرض کیا گیا کہ آپ وہ چالیس سال اپنے بیٹے داوؤد کو دے چکے ہیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر ان کے سامنے کر دی اور فرشتوں نے اس کی گواہی دی۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3519]

الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد، ويوسف بن مهران
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3520
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ عَلَيْكُمْ الْحَجَّ" فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: أَبَدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بَلْ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ، وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ، لَوَجَبَتْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہمیں خطبہ دیتے ہوئے) فرمایا: ”لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے“، یہ سن کر سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا، لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائدجو ہو گا وہ نفلی حج ہو گا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3520]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف زمعة بن صالح، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3521
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَاتَتْ شَاةٌ لِمَيْمُونَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟" فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ. فَقَالَ:" إِنَّ دِبَاغَ الْأَدِيمِ طُهُورُهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“ انہوں نے کہا کہ یہ مردار ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دباغت سے تو کھال پاک ہو جاتی ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3521]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يعقوب بن عطاء وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3522
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَا أَدْرِي،" أَرَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ بِسِتٍّ أَوْ سَبْعٍ".
ابومجلز کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: مجھے یاد نہیں رہا کہ میں نے چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات؟ فرمایا: مجھے بھی معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرات کو چھ کنکریاں ماری ہیں یا سات؟ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3522]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں