🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. مسنَد الفَضلِ بنِ عَبَّاس رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1803
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، قَالَ:" فَرَأَى النَّاسَ يُوضِعُونَ فَأَمَرَ مُنَادِيَهُ، فَنَادَى لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ، فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ".
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما - جو کہ عرفہ سے واپسی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے - کہتے ہیں کہ لوگ اپنی سواریوں کو تیزی سے دوڑا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر منادی نے یہ اعلان کر دیا کہ گھوڑے اور اونٹ تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، اس لئے تم اطمینان و سکون اختیار کرو۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1803]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبى ليلى، وله طريق آخر يتقوى به.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1804
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ , وُأُمُّ سَلَمَةَ زَوْجَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصْبِحُ مِنْ أَهْلِهِ جُنُبًا، فَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ الْفَجْرَ، ثُمَّ يَصُومُ يَوْمَئِذٍ"، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي، أَخْبَرَنِي ذَلِكَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ سے قربت کے سبب اختیاری طور پر غسل کے ضرورت مند ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز سے قبل غسل فرما لیتے اور اس دن کا روزہ رکھ لیتے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا کہ مجھے تو پتہ نہیں، البتہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ روایت سنائی ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1804]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1805
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى، فَبَيْنَا هُوَ يَسِيرُ إِذْ عَرَضَ لَهُ أَعْرَابِيٌّ مُرْدِفًا ابْنَةً لَهُ جَمِيلَةً، وَكَانَ يُسَايِرُهُ، قَالَ: فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَنَظَرَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَلَبَ وَجْهِي عَنْ وَجْهِهَا، ثُمَّ أَعَدْتُ النَّظَرَ , فَقَلَبَ وَجْهِي عَنْ وَجْهِهَا، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثًا، وَأَنَا لَا أَنْتَهِي ," فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ".
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ سے منیٰ کی طرف واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل ہی رہے تھے کہ ایک دیہاتی اپنے پیچھے اپنی ایک خوبصورت بیٹی کو بٹھا کر لے آیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے باتوں میں مشغول ہو گیا اور میں اس لڑکی کو دیکھنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا اور میرے چہرے کا رخ اس طرف سے موڑ دیا، میں نے دوبارہ اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر میرے چہرے کا رخ بدل دیا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا لیکن میں باز نہ آتا تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1805]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1543، م: 1281.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1806
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَنْبَأَنَا قَيْسٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَبَّى يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ".
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1806]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1543 م: 1281.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1807
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ".
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1807]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1543، م: 1281.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1808
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَبَّى فِي الْحَجِّ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْر".
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1808]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1543، م: 1281. وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد بن جدعان.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1809
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، وَجَابِرٍ الْجُعْفِيِّ وَابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَلَبَّى حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ".
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1809]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح بواسطة عامر الأحول، خ: 1543، م: 1281. وفي هذا الإسناد جابر الجعفي ضعيف وكذا ابن عطاء، وهما متابعان من عامر الأحول.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1810
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، وابن عطاء , عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَكَانَ يُلَبِّي يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ".
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ مزدلفہ سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1810]

حکم دارالسلام: راجع ما قبله.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1811
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي مُشَاشٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعَفَةَ بَنِي هَاشِمٍ:" أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَجَّلُوا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ".
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ بنو ہاشم کی عورتیں اور بچے مزدلفہ سے رات ہی کو منیٰ جلدی چلے جائیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1811]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1812
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ، لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ، أَكَانَ يُجْزِيهِ؟" , قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْجُجْ عَنْ أَبِيكَ"،.
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ میرے والد نے اسلام کا زمانہ پایا ہے، لیکن وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں، اتنے کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ فرمایا: یہ بتاؤ کہ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا اور تم وہ ادا کرتے تو کیا وہ ادا ہوتا یا نہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: پھر اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1812]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، سليمان بن يسار لم يدرك الفضل بن عباس، وهذا منقطع.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں