مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. مسنَد الفَضلِ بنِ عَبَّاس رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 1833
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَوْ أَحَدِهِمَا، عَنْ صَاحِبِهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَرَادَ أَنْ يَحُجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ، فَإِنَّهُ قَدْ تَضِلُّ الضَّالَّةُ وَيَمْرَضُ الْمَرِيضُ وَتَكُونُ الْحَاجَةُ".
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کا حج کا ارادہ ہو، اسے یہ ارادہ جلد پورا کر لینا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات سواری گم ہو جاتی ہے، کبھی کوئی بیمار ہو جاتا ہے اور کبھی کوئی ضرورت آڑے آ جاتی ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1833]
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، أبو إسرائيل سيء الحفظ لكنه توبع.
حدیث نمبر: 1834
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ الْعَبْسِيُّ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ أَوْ أَحَدِهِمَا، عَنِ الْآخَرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ، فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضُ وَتَضِلُّ الضَّالَّةُ وَتَعْرِضُ الْحَاجَةُ".
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کا حج کا ارادہ ہو، اسے یہ ارادہ جلد پورا کر لینا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات سواری گم ہو جاتی ہے، کبھی کوئی بیمار ہو جاتا ہے اور کبھی کوئی ضرورت آڑے آ جاتی ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1834]
حکم دارالسلام: حديث حسن.
25. حَدِیث تَمَّامِ بنِ العَبَّاسِ بنِ عَبدِ المطَّلِبِ عَن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 1835
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الزَّرَّادِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُتِيَ، فَقَالَ:" مَا لِي أَرَاكُمْ تَأْتُونِي قُلْحًا؟ اسْتَاكُوا، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمْ السِّوَاكَ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمْ الْوُضُوءَ".
سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ لوگ حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا بات ہے، مجھے تمہارے دانت پیلے زرد دکھائی دے رہے ہیں؟ مسواک کیا کرو، اگر مجھے اپنی امت پر دشواری کا احساس نہ ہوتا تو میں ان پر مسواک کو اسی طرح فرض قرار دے دیتا جیسے وضو کو فرض قرار دیا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1835]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابو على الزراد الصيقل مجهول وتمام بن عباس حديثه عن النبى صلى الله عليه وسلم مرسل
حدیث نمبر: 1836
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُفُّ عَبْدَ اللَّهِ , وَعُبَيْدَ اللَّهِ وَكَثِيرًا مِن بَنِي الْعَبَّاسِ، ثُمَّ يَقُولُ" مَنْ سَبَقَ إِلَيَّ، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا"، قَالَ: فَيَسْتَبِقُونَ إِلَيْهِ، فَيَقَعُونَ عَلَى ظَهْرِهِ وَصَدْرِهِ، فَيُقَبِّلُهُمْ وَيَلْزَمُهُمْ.
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ، عبیداللہ اور کثیر - جو کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادگان تھے - کو ایک صف میں کھڑا کرتے اور فرماتے کہ ”جو میرے پاس پہلے آئے گا، اسے یہ یہ ملے گا۔“ چنانچہ یہ سب دوڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، کوئی پشت پر گرتا اور کوئی سینہ مبارک پر آ کر گرتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پیار کرتے اور اپنے جسم کے ساتھ لگاتے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1836]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، يزيد بن أبى زياد ضعيف ورواية عبدالله بن الحارث عن النبى صلى الله عليه وسلم مرسلة .
26. حَدِیث عبَیدِ اللَّهِ بنِ العَبَّاسِ عَن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 1837
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، قَالَ: جَاءَتْ الْغُمَيْصَاءُ أَوْ الرُّمَيْصَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو زَوْجَهَا، وَتَزْعُمُ أَنَّهُ لَا يَصِلُ إِلَيْهَا، فَمَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ زَوْجُهَا، فَزَعَمَ أَنَّهَا كَاذِبَةٌ، وَلَكِنَّهَا تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ لَكِ ذَلِكَ، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ رَجُلٌ غَيْرُهُ".
سیدنا عبیداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت - جس کا نام غمیصاء یا رمیصاء تھا - نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئی، اس کا کہنا یہ تھا کہ اس کا خاوند اس کے قریب پہنچنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا، تھوڑی دیر بعد اس کا شوہر بھی آ گیا، اس کا خیال یہ تھا کہ اس کی بیوی جھوٹ بول رہی ہے، اصل بات یہ ہے کہ وہ اپنے پہلے خاوند سے دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”تمہارے لئے ایسا کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک تمہارا شہد اس (پہلے شوہر) کے علاوہ کوئی دوسرا مرد نہ چکھ لے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1837]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات، وقد اختلف فى هذا الإسناد على سليمان بن يسار .
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 1838M
(حديث مرفوع) أَنْبَأَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُذْهِبِ الْوَاعِظُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حِمْدَانَ بْنِ مَالِكٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن حَنْبَلٍ , حَدَّثَنِي أَبِي مِنْ كِتَابِهِ.
حدیث نمبر: 1838
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، وَمُغِيرَةُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر آب زمزم پیا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1838]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1635، م: 2027.
حدیث نمبر: 1839
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا أَجْلَحُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجَعَلْتَنِي وَاللَّهَ عَدْلًا؟ بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے؟ یوں کہو: جو اللہ تنہا چاہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1839]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الأجلح مختلف فيه.
حدیث نمبر: 1840
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْحِكْمَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے حکمت و دانائی کی دعا فرمائی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1840]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 75.
حدیث نمبر: 1841
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ بِمِحْجَنٍ كَانَ مَعَهُ، قَالَ: وَأَتَى السِّقَايَةَ، فَقَالَ:" اسْقُونِي"، فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ، وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ:" لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنوئیں پر تشریف لائے اور فرمایا: ”مجھے پانی پلاؤ“، لوگوں نے کہا کہ اس کنوئیں میں تو لوگ گھستے ہیں، ہم آپ کے لئے بیت اللہ سے پانی لے کر آتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی کوئی ضرورت نہیں، مجھے اسی جگہ سے پانی پلاؤ جہاں سے عام لوگ پیتے ہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 1841]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1607، 1635، م: 1272. وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد .