مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 2669
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ: أَنَّهُ رَكِبَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا غُلَامُ إِنِّي مُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ: احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ، وَإِذَا سَأَلْتَ فاَسْأَلْ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ، لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ، لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ، وَجَفَّتْ الصُّحُفُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک دن وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے لڑکے! میں تجھے چند کلمات سکھا رہا ہوں، اللہ کی حفاظت کرو (اس کے احکام کی)، اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤگے، جب مانگو اللہ سے مانگو، جب مدد چاہو اللہ سے چاہو، اور جان رکھو! کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2669]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
حدیث نمبر: 2670
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَاسْتَعَطَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی، اور ناک میں دوا چڑھائی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2670]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2278، من 1202
حدیث نمبر: 2671
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ، وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ، وَعَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے، اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے، اور اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2671]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ، فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا" , قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ ذَلِكَ: سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَلَا يَرْفَعْ الصَّحْفَةَ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا، فَإِنَّ آخِرَ الطَّعَامِ فِيهِ الْبَرَكَةُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے نہ پونچھے۔“ ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے یہی حدیث سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس طرح سنی ہے کہ ”پیالہ اس وقت تک نہ اٹھایا جائے جب تک خود یا کوئی دوسرا اسے چاٹ نہ لے کیونکہ کھانے کے آخری حصے میں برکت ہوتی ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2672]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5456، م: 2031
حدیث نمبر: 2673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكُسُوفَ، فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ فِيهَا حَرْفًا مِنَ الْقُرْآنِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورج گرہن کی نماز پڑھی ہے، لیکن میں نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے قراءت کرتے ہوئے ان سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2673]
الحكم على الحديث:
حسن، رواه ابن المبارك عن ابن لهيعة قبل احتراق كتبه
حدیث نمبر: 2674
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخُسُوفِ، فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ فِيهَا حَرْفًا وَاحِدًا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورج گرہن کی نماز پڑھی ہے، لیکن میں نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے قراءت کرتے ہوئے ان سے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں سنا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2674]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن، لأن ابن المبارك رواه عن ابن لهيعة قبل احتراق كتبه
حدیث نمبر: 2675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ , أَنْبَأَنَا أَبُو عَوَانَةَ الْوَضَّاحُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ، فَإِنَّهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے سے بچو، سوائے اس کے جس کا تمہیں یقین ہو، اس لئے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2675]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، دون قوله : اتقوا الحديث عني إلا ما علمتم وهذا إسناد ضعيف، لضعف عبدالأعلى الثعلبي
حدیث نمبر: 2676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ائْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبْ لَكُمْ فِيهِ كِتَابًا، لَا يَخْتَلِفُ مِنْكُمْ رَجُلَانِ بَعْدِي" , قَالَ: فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ فِي لَغَطِهِمْ، فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ: وَيْحَكُمْ، عَهْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس شانے کی ہڈی لے کر آؤ، میں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں کہ میرے بعد تم میں سے دو آدمی بھی اختلاف نہ کریں۔“ لوگ اپنی باتوں اور شور میں مشغول رہے، ایک خاتون نے کہا: تم پر افسوس ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم وصیت فرما رہے ہیں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2676]
الحكم على الحديث:
حسن دون قصة المرأة، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 2677
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي أَبْوَالِ الْإِبِلِ وَأَلْبَانِهَا , شِفَاءً لِلذَّرِبَةِ بُطُونُهُمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اونٹنی کے پیشاب اور دودھ میں ان لوگوں کے لئے شفا ہے جو پیٹ کی بیماری میں مبتلا ہوں، اور ان کا نظام ہضم خراب ہو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2677]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 2678
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ بَرَكَةَ بْنِ الْعُرْيَانِ الْمُجَاشِعِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ، فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا حَرَّمَ أَكْلَ شَيْءٍ، حَرَّمَ ثَمَنَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن انہوں نے اسے پگھلا کر اس کا تیل بنا لیا اور اسے فروخت کرنا شروع کردیا، حالانکہ اللہ نے جب بھی کسی چیز کو کھانا حرام قرار دیا تو اس کی قیمت کو بھی حرام قرار دیا ہے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2678]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح