🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. مُسْنَدُ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2639
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، قَالَ: فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّهُ يَقْدُمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمْ الْحُمَّى , قَالَ: فَأَطْلَعَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ،" فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا، وَقَعَدَ الْمُشْرِكُونَ نَاحِيَةَ الْحَجَرِ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِمْ، فَرَمَلُوا وَمَشَوْا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ"، قَالَ: فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَزْعُمُونَ أَنَّ الْحُمَّى وَهَنَتْهُمْ؟! هَؤُلَاءِ أَقْوَى مِنْ كَذَا وَكَذَا , ذَكَرُوا قَوْلَهُمْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا إِبْقَاءٌ عَلَيْهِمْ" , وَقَدْ سَمِعْتُ حَمَّادًا يُحَدِّثُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عن بن عباس , وقد سمعت حماداً يذكره , عن ابن جبير , لَا شَكَّ فِيهِ عَنْهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضا کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مدینہ منورہ کے بخار کی وجہ سے وہ لوگ کمزور ہو چکے تھے، مشرکین استہزاء کرنے لگے کہ تمہارے پاس ایک ایسی قوم آ رہی ہے جسے یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس بات کی اطلاع دے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو رمل کرنے کا حکم دے دیا، مشرکین حجر اسود والے کونے میں بیٹھے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے، جب مسلمانوں نے رمل کرنا اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان چلنا شروع کیا تو مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ یہ وہی ہیں جن کے بارے تم یہ سمجھ رہے تھے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر کردیا ہے، یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ طاقتور معلوم ہو رہے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مشرکین کے دلوں میں اس افسوس کو مزید پختہ کرنے کے لئے ہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے چکر میں رمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2639]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2640
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ : كَمْ أَتَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ؟ قَالَ: مَا كُنْتُ أُرَى مِثْلَكَ فِي قَوْمِهِ، يَخْفَى عَلَيْكَ ذَلِكَ! قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ فَاخْتُلِفَ عَلَيَّ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَكَ فِيهِ , قَالَ: أَتَحْسِبُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: أَمْسِكْ:" أَرْبَعِينَ بُعِثَ لَهَا، وَخَمْسَ عَشْرَةَ أَقَامَ بِمَكَّةَ يَأْمَنُ وَيَخَافُ، وَعَشْرًا مُهَاجِرًا بِالْمَدِينَةِ".
عمار - جو بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام تھے - کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ وصال مبارک کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کیا تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ میرا خیال نہیں تھا کہ تم جیسے آدمی پر بھی یہ بات مخفی رہ سکتی ہے، میں نے عرض کیا کہ میں نے مختلف حضرات سے اس کے متعلق دریافت کیا ہے لیکن ان سب کا جواب ایک دوسرے سے مختلف تھا، اس لئے میں آپ کی رائے معلوم کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے پوچھا: کیا واقعی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: پھر یاد رکھو! چالیس سال کی عمر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا، پندرہ سال تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے جہاں امن اور خوف کی ملی جلی کیفیت رہی اور دس سال ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2640]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م:2353
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2641
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ" يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ , قَالَ: فَلُبِسَتْ الْقُمُصُ، وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ، وَنُكِحَتْ النِّسَاءُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر چار ذی الحجہ کی صبح کو مکہ مکرمہ پہنچے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ بنا لیں، سوائے اس شخص کے جس کے پاس ہدی کا جانور ہو، چنانچہ عمرہ کے بعد قمیصیں پہن لی گئیں، انگیٹھیاں خوشبوئیں اڑانے لگیں اور عورتوں سے نکاح ہونے لگے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2641]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عنه أيوب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2642
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْحَجُّ" , قَالَ: فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا، وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا، الْحَجُّ مَرَّةٌ، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ”لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے۔“ یہ سن کر اقرع بن حابس کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا، لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہوگا وہ نفلی حج ہوگا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2642]

الحكم على الحديث:
صحيح، سليمان بن كثير فى روايته عن الزهري متكلم فيه، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2643
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ الْحَجَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ، يَشْهَدُ بِهِ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا، اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا، اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2643]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2644
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَ؟" , قَالُوا: هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ، هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ , قَالَ: فَصَامَهُ مُوسَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ" , قَالَ: فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟“ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا اچھا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطا فرمائی تھی، جس پر حضرت موسی علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نسبت موسی کا مجھ پر زیادہ حق بنتا ہے“، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2644]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2004، م: 1130
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2645
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: حِفْظِي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ حَبَلِ الْحَبَلَةِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ جانور کے حمل کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2645]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2646
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ، كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ" , قَالَ قَتَادَةُ: وَلَا أَعْلَمُ الْقَيْءَ إِلَّا حَرَامًا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2646]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2621، م: 1622
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2647
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ وَنَحْنُ صِبْيَانٌ: الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ، يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ، وَلَمْ نَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فِي ذَلِكَ مَثَلًا، حَتَّى حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2647]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2648
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ , قَالَ: فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" لَا حَرَجَ" , وَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ , قَالَ: فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" لَا حَرَجَ" , قَالَ: فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ مِنَ التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ، إِلَّا أَوْمَأَ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" لَا حَرَجَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ ”کوئی حرج نہیں“، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ ”کوئی حرج نہیں“، اس دن تقدیم و تاخیر کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو سوال بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا: ”کوئی حرج نہیں۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2648]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں